مضامین

یوم آزادی، تجدید عہد کا دن

اگست کا مہینہ خوشیوں اور مسرتوں کا پیام لے کر آتا ہے۔ ہر طرف چاند ستارے والے سبز پرچم لہراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 14 اگست 1947ء کا سورج برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزادی کا پیامبر بن کر طلوع ہوا تھا۔ مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ انگریزوں بلکہ ہندؤوں کی متوقع غلامی سے بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات ملی تھی۔ آزادی کا یہ حصول کوئی آسان کام نہیں تھا جیسا کہ شاید آ ج سمجھا جانے لگا ہے۔ نواب سراج الدولہ سے لے کر سلطان ٹیپو شہید اور آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر تک کی داستاں ہماری تاریخ حریت و آزادی کی لازوال داستان ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے المناک واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ سات سمندر پار سے تجارت کی غرض سے آنے والی انگریز قوم کی مسلسل سازشوں، ریشہ دوانیوں اور مقامی لوگوں کی غداریوں کے نتیجے میں برصغیر میں مسلمانوں کی حکومتیں یکے بعد دیگرے ختم ہوتی چلی گئیں۔ اگرچہ مسلمان حکمرانوں اور مختلف قبائل کے سرداروں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر اور جان و مال کی عظیم قربانیاں دے کر انگریزوں کو یہاں تسلط جمانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کیں تھیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا خوبصورت بات کی تھی۔: پاکستان اسی دن یہاں قائم ہو گیا تھا، جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا:۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے کبھی بھی انگریز کی حکمرانی کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ انگریزوں اور ان کے نظام سے نفرت اور بغاوت کے واقعات وقفے وقفے کے ساتھ بار بار سامنے آتے رہے تھے۔ برطانوی اقتدار کے خاتمے کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے جو عظیم قربانیاں دی ہیں اور جو بے مثال جدوجہد کی ہے۔ یہ ان کے اسلام اور دو قومی نظریے پر غیر متزلزل ایمان و یقین کا واضح ثبوت ہے۔ انہی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔

جب ہم تحریک پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اس تاریخی جدوجہد میں یہ بات سب سے زیادہ نمایاں طور پر ہمیں نظر آتی ہے کہ مسلمان اپنے جداگانہ اسلامی تشخص پر مصر تھے۔ یہی نظریہ پاکستان اور علیحدہ وطن کے قیام کی دلیل تھی۔ ہر قسم کے جابرانہ و غلامانہ نظام سے بغاوت کرکے خالص اسلامی خطوط پر مبنی نظام حیات کی تشکیل ان کا مدعا اور مقصود تھا۔ جس کا اظہار و اعلان قائد اعظم محمد علی جناح نے بار بار اپنی تقاریر اور خطابات میں کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے دوران برصغیر کے کونے کونے میں: لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان۔ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ؛ اور پاکستان کا مطلب کیا؟، لا الہ الا اللہ : ۔۔۔۔ خیبر سے لے کر راسک ماری تک ہر جگہ یہی نعرے گونجتے تھے۔ یہ نعرے برصغیر کے مسلمانوں کے دلی جذبات کے حقیقی ترجمان تھے۔

عرصہ دراز سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کو آزادی ملنے کی امید پیدا ہو چلی تھی۔ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پھر انگریزوں کے چلے جانے کے بعد وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندو بنیا کی غلامی میں چلے جائیں گئے۔ وہ ہر طرح کے سامراج سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دی جاسکتی تھی، مگر اس مقصد سے پیچھے ہٹنا انہیں گوارا نہ تھا۔

آج پاکستان کو بنے 66 برس گزر چکے ہیں۔ قوموں اور ملکوں کی تاریخ میں یہ کوئی اتنا لمبا عرصہ نہیں ہے مگر پھر بھی جب ہم گذشتہ سالوں کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں۔ کسی بھی شعبے کو لیجئے تعلیم، ثقافت، عدالت، معیشت، معاشرت، سیاست غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں ہم غیر اقوام کی غلامی اور تقلید میں مبتلا ہیں۔ کہنے کو تو ہر لکھنے والا جب کوئی تحریر شروع کرتا ہے یا کوئی مقرر، خطیب اور واعظ اپنی بات کہتا ہے تو اسلام کی بات ضرور کرتا ہے۔ اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کا اعلان کرتا ہے اور یہ بھی فرماتا ہے کہ اسلام زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے، مگر بحیثت مجموعی قوم کی اکثریت زندگی کے تمام شعبوں میں دوسروں کی نقالی کرنے میں لگی ہوئی ہے اور ہمارے حکمران اس سلسلے میں سب سے پیش پیش رہتے ہیں۔

آخر کیا وجہ ہے ہم اپنے مسلم تشخص کو نہ ابھار سکے۔؟ عدالتوں میں انگریزی قوانین کی بجائے قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی اور خلفائے راشدین نیز مسلمان قاضیوں کے فیصلوں پر مشتمل قوانین کو جاری نہ کر سکے۔ لین دین اور تجارت میں بنیا سامراج اور یورپی اقوام کے طور طریقوں کو اپنائے بیٹھے ہیں۔ سودی کاروبار اور جوئے کی مختلف جدید اقسام دھڑلے سے جاری ہیں۔ تعلیم گاہوں میں وہی لارڈ میکالے کے وضع کردہ نصاب اب تک چل رہے ہیں۔ مخلوط تعلیم کا سلسلہ بھی ہنوز جاری ہے، رشوت کے بھاؤ کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ اقرباء پروری اور سفارش کی وجہ سے اہل اور باصلاحیت افراد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نظام حکومت اور سیاست کا حال بھی بس کچھ نہ پوچھیے۔ جمہوریت کے نام کی مالا جپنے والے تو بہت سے مل جائیں گے مگر جمہوریت کو پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کرنے والے شائد ہی کوئی مل سکیں۔

ہماری بدقسمتی کی انتہا دیکھئے کہ عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ شہری آزادیوں پر قدغن لگائی جاتی ہے۔ تحریر اور تقریر کی آزادی بار بار چھین لی جاتی رہی ہے۔ پریس پر بھی طرح طرح کی پابندیاں عائد کی
جاتی ہیں۔ پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ یہاں بار بار فوج مداخلت کرکے مارشل لاء لگاتی رہی اور ہر بار دستور کو اُٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔ سیاسی عمل پر پابندی لگا دی جاتی رہی۔ ماضی میں سول اور ملٹری حکومتوں نے ذرائع ابلاغ پر مکمل کنٹرول رکھا اور سرکاری میڈیا عوام کو سن اچھا کی رپورٹ دیتا رہا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا رہا کہ عوام کو اپنے قومی ذرائع ابلاغ پر اعتماد نہیں رہتا اور وہ تازہ ترین حالات و واقعات جاننے کیلئے غیر ملکی میڈیا پر انحصار کرتے تھے۔ تاہم اب میڈیا کے میدان میں ایک انقلاب آچکا ہے۔ نجی ٹی وی چینلز نے سرکاری ذرائع ابلاغ کی اجارہ داری کو ختم کرکے رکھ دیا ہے۔ ہمارا میڈیا ابھی تجرباتی دور سے گزر رہا ہے۔ اس میں بھی کچھ قباحتیں ہیں۔ تاہم امید ہے کہ آگے چل کر میڈیا میں مزید بہتری آجائے گی۔

وطن عزیز پاکستان کو اس وقت بہت سارے اندرونی اور بیرونی خطرات درپیش ہیں۔ دہشت گردی اور بدامنی سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔ عام آدمی مہنگائی، بیروزگاری اور انرجی بحران کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار ہے۔ حکمران ماضی کے ہوں یا موجودہ، سب بڑے بڑے دعوے اور وعدے تو کرتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کارکردگی کے لحاظ سے ان کا گراف انیس اور بیس کے درمیان ہی رہتا ہے۔ یہ کہنے میں کوئی باق نہیں کہ ملکی اور بین الاقوامی حالات و واقعات کے تناظر میں اس وقت قومی سطح پر جتنی اتحاد و یکجہتی اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ مسائل اور مشکلات ہیں کہ کسی آندھی اور طوفان کی طرح امڈے چلے آتے ہیں۔

ان حالات کا تقاضا ہے کہ اسلام، تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان کا تذکرہ صرف 14 اگست یا یوم آزادی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ا س کا سلسلہ سارا سال جاری رہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد اور محرکات ہر وقت ہمارے دلوں اور ذہنوں میں تازہ رہیں۔ 14 اگست تجدید عہد کا دن ہے۔ اسلام اور پاکستان مخالف عناصر ہماری ان نظریاتی بنیادوں کو کمزور اور کھوکھلا کرنے کی اپنی سی مذموم کوششیں کسی نہ کسی بہانے کرتے رہتے ہیں۔ اے اہل وطن! آئیے مل جل کر وطن عزیز میں وہ معاشرہ قائم کرنے کے لیے جدوجہد کریں کہ جو اسلام کا مطلوب ہے۔ جس معاشرے کی نوید ہمیں تحریک پاکستان میں سنائی گئی تھی۔ اے اہل وطن اٹھیے! اور پاکستان کو صحیح معنوں میں ؛پاکستان؛ بنانے کے لیے دن رات محنت کریں۔ تحریک پاکستان کے لیے جدوجہد کرنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کی روحوں کو ابدی راحت اور سکون پہنچانے کے لیے اپنی آنے والی نسلوں کی دنیا اور آخرت سنوارنے کے لیے پاکستان کو اسلام کا گہوارہ بنانے کے لیے دن رات کام کریں۔ یہی یوم آزادی کا ہم سب کے لیے پیغام ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Back to top button