مضامین

پھانسی کےقانون پر پابندی لگنے کا خدشہ

اسلام آباد: حکومت نے کل بروز اتوار 18 اگست کو یہ واضح کیا ہے کہ اس کی طرف سے سزائے موت کے منتظر مجرمین کی سزا پر عملدرامد کو صدر اور وزیراعظم کے درمیان اگلے ہفتے متوقع ایک ملاقات تک ملتوی کردیا ہے، جس میں اس معاملے پر بات چیت کی جائے گی۔
وزیراعظم ہاؤس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری اس ماہ کے دوسرے ہفتے میں وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ سزائے موت کے معاملے پر بات تبادلہ خیال کے لیے ایک ملاقات کے لیے کہا تھا۔
مذکورہ اہلکار نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے صدر کے ساتھ ملاقات پر رضامندی ظاہر کی اور وزرات داخلہ کو عدالتوں کی طرف سے دیئے گئے سزائےموت کے فیصلوں پر عملدرامد سے وقتی طور پر روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ صدر نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ نئی حکومت کو بھی چاہئیے کہ وہ سزائے موت کے قیدیوں کی پھانسی پر پابندی برقرار رکھے، جس پر پیپلزپارٹی کی حکومت نے 2008ء میں پابندی عائد کی تھی۔

مسلم لیگ نون نے اس سال جون کے مہینے میں اقتدار سنبھالا ہے، اس مہلت کے خاتمے کے ساتھ اس نے اعلان کیا تھا کہ ایسے مجرم جو سزائے موت کے منتظر ہیں، انہیں قانون کے مطابق پھانسی کی سزا دی جائے گی۔ آزاد ذرائع کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں سات ہزار سے زیادہ قیدی سزائے موت کے منتظر ہیں۔
صدارتی ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نےمیڈیا کو بتایا کہ صدر زرداری اپنے نجی دورے پر دبئی میں ہیں، اور دو یا تین دنوں میں وہ ملک واپس آجائیں گے۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ بات نہایت حوصلہ افزا ہے کہ وزیراعظم نے سزائے موت کے معاملے پر بات چیت کے لیے صدر کے ساتھ ملاقات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
اگرچہ آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت یہ صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالت، ٹریبیونل یا کسی اور اتھارٹی کی جانب سے دی گئی کسی بھی سزا کو معاف، یا اس میں تخفیف، ملتوی، سزائے موت کو قید میں تبدیل کرنے کا اختیار ہے، لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیکن یہ اختیار وزیراعظم کے مشورے کے ساتھ مشروط ہے۔

سپریم کورٹ کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ خان نےمیڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر ایک ایگزیکٹیو کی حیثیت سے کام کرتا ہے، جسے وزیراعظم نے مقرر کیا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر اپنی مرضی سے نہ تو کسی قیدی کی سزا میں تخفیف کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کو معطل کرسکتا ہے، اور وہ وزیراعظم کی سفارشات پر عمل کرنے کا پابند ہے۔
سپریم کورٹ کے ایک اور ماہر قانون جسٹس طارق محمود نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 4 ہرگز یہ نہیں کہتا ہے کہ صدر کو صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر زیادہ سے زیادہ کسی قیدی کی سزائے موت کی جائزہ لینے کے لیے سمری وزیراعظم کو ارسال کرسکتا ہے اور اس کی سزا کو پندرہ دنوں تک ملتوی کرسکتا ہے۔

جسٹس طارق محمود نے کہا کہ ”میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں صدر کیا کرنا چاہتے ہیں، مسلم لیگ نون کی حکومت سزائے موت کے قیدیوں کی پھانسی پر پابندی کے حوالے سے ان کے جواز کو قبول کرے گی، جبکہ وہ 8 ستمبر کو اپنا عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ صدر اپنے اوپر پھانسی کے احکامات کا الزام نہیں لینا چاہتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں سزائے موت کے عدالتی فیصلوں پر ملک بھر میں جو رائے پائی جاتی ہے، اس میں بہت سے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ یہ ایک قاتلوں کے خلاف ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا، لہٰذا ریاست کو بجائے اس معاملے میں نرمی اختیار کرنے کے اس کو جاری رکھنا چاہئیے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم نے اس سال جون میں کہا تھا کہ امن و امان کی صورتحال میں اس وقت تک بہتری نہیں آئے گی، جب تک کہ سزائے موت کے مجرموں کو پھانسی نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مجرموں کو عدالت کی طرف سے دی گئی سزاؤں پر عملدرامد کروائے۔جبکہ جسٹس طارق محمود جیسے لوگ سزائے موت کے خلاف تھے۔
ایمنیسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور انٹرنیشنل کمیشن آف جسٹس جیسی تنظیمیں سزائے موت کے خلاف مہم چلا رہی ہیں اور دنیا بھر کے ملکوں کو اس عمل سے باز رکھنے پر زور دے رہی ہیں۔

یہ مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب اس ماہ کے شروع میں حکومت نے اعلان کیا کہ چار قیدیوں کو سکھر اور کراچی سینٹرل جیل میں بیس، اکیس اور بائیس اگست کو پھانسی کی سزا دی جائے گی، جن میں کالعدم فرقہ پرست تنظیم لشکرجھنگوی کے دو اراکین بھی شامل ہیں۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر لشکر جھنگوی کے اراکین کو پھانسی دی گئی تو وہ ان کا انتقام لیں گے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button