مضامین

امن مذاکرات کا جواب: طالبان اورسپاہ صحابہ کے دہشت گردوں نے پاک فوج کے میجر جنرل ثنا الله کو شہید کر دیا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے اپر دیر میں تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے بم دھماکے میں پاکستانی فوج کے میجر جنرل سمیت تین اہلکار شہید ہو گئے ہیں۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق اپر دیر میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں میجر جنرل ثناء اللہ، لیفٹیننٹ کرنل توصیف اور لانس نائیک شہید ہو گئے ہیں۔ تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد دیوبندی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پاکستان فوج کے مطابق میجر جنرل ثناء اللہ پاک افغان سرحد پر چیک پوسٹ کا دورہ کر کے واپس آ رہے تھے کہ بن شاہی کے مقام پر بارودی سرنگ کے دھماکے میں شہید ہو گئے۔ میجر جنرل ثناء اللہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں فوج کے کمانڈر تھے اور یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب ایک دن پہلے ہی سنیچر کو صوبہ خیبر پختونخوا کی طالبان نواز صوبائی حکومت نے سوات اور ملاکنڈ ڈویژن سے فوج کی بتدریج واپسی کی اصولی طورپر منظوری دی ہے اورگزشتہ پیر کو کل جماعتی کانفرس میں دیوبندی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لوئر دیر میں اس سے پہلے بھی دیوبندی دہشت گردی شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں دیوبندی دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ پاکستان فوج کے مطابق سرحد پار سے کئی بار دیوبندی دہشت گرد سرحدی چوکیوں پر حملے کر چکے ہیں۔ رواں سال پچیس جون کو افغان سرحد سے منسلک دیر بالا کے علاقے میں دیوبندی دہشت گردوں کے حملے میں تیرہ فوجی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی طالبان نواز حکومت اور اسلام آباد میں سعودی حمایت یافتہ وزیر اعظم نواز شریف کی سپاہ صحابہ طالبان کی حلیف حکومت نے تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں پاک فوج کے جرنیل کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان اور سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے دیوبندی دہشت گردوں سے مذاکرات سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا مفتی تقی عثمانی دیوبندی ، سمیع الحق دیوبندی ، فضل الرحمن دیوبندی نے آج تک سپاہ صحابہ، طالبان اور لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں اور خود کش حملوں کے خلاف کوئی فتویٰ جاری نہیں کیا- یہ لوگ ملک اور قوم کے دشمن ہیں اور ان کا علاج مذاکرات نہیں بلکہ پاکستانی فوج اور پولیس کے ہاتھوں کتے کی موت مارے جانا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مندرجہ ذیل لوگ نام لے کر تکفیری دیوبندی طالبان اور سپاہ صحابہ کی مذمت کریں گے؟ منور حسن، عمران خان، قاضی حسین احمد، نواز شریف، شہباز شریف نجم سیٹھی، رضا رومی، طاہر اشرفی، اعجاز حیدر، شیری رحمان جاوید چودھری، اوریا مقبول جان، انصار عباسی، حامد میر وغیرہ –

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button