پاکستانی شیعہ خبریں

طالبان وبلیک واٹرکا گہرا گٹھ جوڑ

ایک معروف امریکی محقق اورصحافی وائین میڈسن نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیاں اوربم دھماکے امریکی سیکورٹی کمپنی بلیک واٹر کرارہی ہے جس نے اب اپنا نام بدل کر ژی سروسزرکھ لیا ہے اس امریکی صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اس کمپنی کا پوراساتھ دے رہی ہے اوراس کے افراد ہی خود کش بم دھماکے کرتے ہيں اس امریکی صحافی نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بلیک واٹر ہی پاکستان میں اسلحہ اورگولہ بارود اسمگل کرتی ہے اوراسلام آباد کراچی لاہور سمیت تمام بڑے شہروں میں دہشت گردانہ کاروائياں بلیک واٹر کمپنی  کے ہی اشارے پرانجام پارہی ہيں ۔ اس امریکی صحافی نے یہ بھی لکھا ہے کہ جمعۃ الوداع کو کوئٹہ میں عالمی یوم قدس کی ریلی اوراسی طرح پچھلے سال کراچی میں عاشورہ محرم کے جلوس میں ہونےوالا حملہ بھی بلیک واٹر نے ہی کرایا تھا جن کی ذمہ داری طالبان اورلشکر جھنگوی نے قبول کی تھی اس امریکی صحافی کا کہنا ہے کہ بلیک واٹر کا پسندیدہ عمل عام شہریوں کا قتل عام کرنا ہے۔ یہ تنظیم پاکستان کے بھولے بھالے نوجوانوں کو خودکش حملوں کے لئے تیار کرتی ہے ۔اوراس پورے کام میں بلیک واٹرکی سرپرستی سی آئی اے کرتی ہے ۔یہ امریکی صحافی اپنی پیشہ وارانہ صحافتی سرگرمیوں سے قبل امریکی بحریہ میں بھی کام کرچکا ہے وہ امریکی بحریہ میں قومی سلامتی کے ادارے سےمتعلق شعبہ میں کمپیوٹرکے ماہرکے طورپرتعینات کیا گیا تھا ۔ اس کے ذریعہ پاکستان میں بلیک واٹر کے جرائم اورمجرمانہ اقدامات کا انکشاف کئے جانے کے بعد اسے جان سے ماردئے جانے کی مسلسل دھمکیاں موصول رہی ہیں، کیونکہ بلیک واٹر کوپاکستان افغانستان اورعراق میں دہشت گردانہ کاروائياں انجام دینے کے سلسلے ميں امریکی وزارت دفاع اورخارجہ کا داہنا بازو سمجھا جاتا ہے اسی لئے ان امریکی اداروں کی کوشش ہوتی ہے کہ جس قدر بھی ممکن ہو بلیک واٹر کی سرگرمیوں کوخفیہ رکھا جائے اورجب کبھی بھی اس کی دہشت گردانہ سرگرمیاں فاش ہوتی ہيں تو امریکی وزارت دفاع و خارجہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوجاتی ہیں ۔افغانستان، پاکستان اورعراق میں بلیک واٹر کی دہشت گردانہ کاروائیوں کا پردہ فاش ہونے پرامریکہ کے خلاف ہونے والی تنقید میں اضافہ اس بات کا باعث بنی ہے کہ امریکی وزارت خارجہ مجبور ہوکر بلیک واٹر سے اپنے کسی بھی طرح کے رابطے سے انکار کردے ۔ امریکی وزارت خارجہ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس کمپنی نے اب تک 288 مرتبہ اپنے فرائض کی خلاف ورزی کی ہے جس میں غیرقانونی فوجی سرگرمیاں شامل ہيں اس کے علاوہ اس تنظیم نے تشدد کو ہوادینے اوراسمگلنک جیسے جرائم کا بھی ارتکاب کیا ہے اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلیک واٹر یا (ژی سروسز) نے افغانستان کے لئےغیرقانونی اسلحوں کی اسمگلنک جیسے جرم کا بھی ارتکاب کیا ہے ۔امریکی وزارت خارجہ نے ڈرامہ رچاتے ہوئے اس تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے غیرقانونی اقدامات کے تلافی کے طورپر 42 ملین ڈالر تاوان ادا کرے ۔ اس میں شک نہيں کہ پاکستان میں جس بڑے اورمنظم پیمانے پر دہشت گردانہ کاروائیاں ہورہی ہيں ان کے پیچھے کئي مقاصد ہيں جن میں پاکستان کے مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنا ، ملک میں عام شہریوں کا قتل عام کرکے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانا اورپھر نتیجے میں پاکستان کے ایٹمی گوداموں تک رسائی حاصل کرنا ہے جس کی طرف امریکی صحافی نے بھی اشارہ کیا ہے ۔ امریکی صحافی کے اس انکشاف سے اب کچھ سادہ لوح طبیعت کے حامل لوگوں کو بھی یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ امریکہ نے اسلام کوبدنام کرنے کے لئے طالبان جیسے شدت پسند گروہوں کو کیوں استعمال کیا ہے ۔ اورجولوگ یہ بات کہتے چلے آرہے تھے کہ طالبان اکیلے دم پر پاکستان کے اندر اس وسیع پیمانے پردہشت گردانہ کاروائیاں انجام نہیں دے سکتے ان کا شک ، گمان ویقین بالکل درست تھا کہ طالبان اورامریکہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔
اس درمیان امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی بلیک واٹرکے مجرمانہ اقدامات کا رازفاش کرتے ہوئے لکھا کہ یہ تنظیم سوڈان میں حکومت کے باغیوں کی ٹریننگ میں مصروف ہے جس سے اس بات کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ اس بدنام زمانہ امریکی سیکورٹی کمپنی کی سرگرمیوں کا دائرہ دور دور تک پھیلا ہوا ہے ، جو براہ راست طورپر امریکی وزارت دفاع اورخارجہ کی زیرنگرانی کام کررہی ہے ۔ اس بات کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ جب امریکی کانگریس نے بلیک واٹر کے ساتھ سی آئی اے کے 100ملین ڈالر کے معاہدے پرتنقید کی تو اس کے جواب میں سی آئی اے کا کہنا تھا کہ بلیک واٹر ایک سیکورٹی کمپنی ہے جوپاکستان عراق اورافغانستان میں امریکی توقعات اورمفادات کو پورا کرسکتی ہے
دوسری طرف امریکی وزارت خارجہ کی نیرنگی اورمکاری یہاں پر کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایک طرف تو وہ اس تنظیم پر الزام لگاتی ہے کہ اس نے سیکڑوں مرتبہ اپنے فرائض کی خلاف ورزی کی ہے اور تشدد کوہوادیا لیکن دوسری جانب وہ افغانستان میں اپنی سرگرمیاں انجام دینے کے لئے بلیک واٹر کے ساتھ ایک سوبیس ملین ڈالر کا معاہدہ بھی کرتی ہے ۔ اگرچہ خود افغانستان کی حکومت نے بلیک واٹر کمپنی کو چارمہینوں کی مہلت دی ہے کہ وہ اس عرصے میں اپنی سرگرمیاں بند کردے ۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں پچھلے کئی برسوں
سے فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات ہورہے تھے مگر بلیک واٹرکے پہنچنے کے بعد دہشت گردانہ اقدامات میں پانچ گنہ اضافہ ہوگیا ہے ۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ جولوگ اسلام کا نام لے کر امریکی اس بدنام زمانہ سیکورٹی کمپنی کی خدمت کررہے ہيں کیا وہ اسلام کی خدمت کررہے ہيں یا امریکہ کی ؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button