پاکستانی شیعہ خبریں

کراچی:شیعہ بے گناہوں کی گرفتاری،پولیس کی کمائی کا راز فاش

گذشتہ دنوں سے کراچی کے مختلف علاقوں سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لا پتہ کئے گئے بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری اور اغوا میں پولیس کی کمائی کا راز فاش ہو گیاہے۔ذرائع کے مطابق کراچی پولیس کے سربراہ فیاض لغاری نے 2جنوری بروز اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ گرفتار کئے گئے 8بے شیعہ نوجوانوں کا تعلق کالعدم سپاہ محمد سے ہے اور ان میں سے سات افراد کی گرفتاری پر تقریباً 28لاکھ روپے کا نقدی انعام بھی تھا۔2جنوری کو میڈیا کے سامنے پیش کئے گئے 8بے گناہ شیعہ نوجوانوں پر پولیس اور انوسٹی گیشن ادارے  (SIU)نے الزام عائد کیا تھا کہ گرفتار کئے گئے شیعہ بے گناہ جوان شہر میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث ہیں ۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے پریس کانفرنس میں پیش کئے جانے والے شیعہ بے گناہ نوجوانوں کے والدین نے سی سی پی او فیاض لغاری کی پریس کانفرنس سے قبل بار ہا کراچی پریس کلب میں شیعہ علماء کے ہمراہ پریس کانفرنسز میں حکومت سے اس بات کا مطالبہ کیا تھا کہ ان کے بچوں کو پولیس نے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے اور ان کی زندگیوںکو خطرات لا حق ہیں تاہم اسی ضمن میں گرفتار ہونےوالے8بے گناہ شیعہ نوجوانوں کے اہل خانہ نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ نے پولیس اور حساس اداروں کے سربراہان کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے شیعہ نوجوانوں کی بازیابی کو 10جنوری تک ممکن بنانے کے سخت احکامات جاری کئے تھے،تاہم انہی 8گرفتار شدہ شیعہ بے گناہ نوجوانوں کو پولیس نے 2جنوری کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ ان کو 2 جنوری کی صبح یونیورسٹی روڈ سے گرفتار کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی روز نامے ”ایکسپریس ٹریبیون”نے کراچی پولیس کے سربراہ کی پریس کانفرنس میں کئے جانے والے نقد انعام کے حوالے سے جاری کئے گئے وزارت داخلہ کے احکاماتی خط کو حاصل کر لیا ہے اور اس بات کو واضح کیا ہے کہ یہ انعام کا مراسلہ وزارت داخلہ سندھ نے 29دسمبر کو جاری کیا ہے جس میں کہاگیا تھا کہ آٹھ شیعہ بے گناہ جوانوں میں سے سات شیعہ بے گناہ افراد جو کہ پولیس کی حراست میں تھے ان کی گرفتاری پر نقد انعام ہے۔واضح رہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان آٹھ شیعہ بے گناہ نوجوانوں کو محرم الحرام میں یوم عاشورا کے بعد سے گرفتار کیا تھا (گرفتار کئے گئے آٹھوںشیعہ بے گناہ نوجوان تقریباً دو ہفتے قبل ہی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لا پتہ کر دئیے گئے تھے جس پر اہل خانہ کو اپنے بچوں کی زندگیوں کا خطرہ لاحق تھا)
وزارت داخلہ سندھ کی جانب سے دو جنوری کو پیش کئے جانے والے آٹھ میں سے سات افراد کو کالعدم سپاہ محمد سے تعلق بتایا گیاہے جب کہ سید ابرار حسین رضوی،سید تنویر عباس رضوی،سید سکندر رضوی،سید علی مہدی،سید پرویز زیدی،حسنین عباس اور سید رفعت رضوی کی گرفتاری پر 28لاکھ روپے نقد انعام کا علان کیا گیاہے۔ (واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے یہ لیٹر ہ گرفتار شدگان کی گرفتاری سے 4روز قبل جاری کیا تھا)۔
دوسری جانب SIUکے ایس ایس پی راجہ عمر خطاب کاکہنا ہے کہ یہ SIUادارے کے خلاف ایک سازش نظر آتی ہے تاہم اس حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی،دوسری جانب ڈی آئی جی پولیس (انوسٹی گیشن)جو کہ SIUکے چیف بھی ہیں انہوںنے کہا ہے کہ گرفتار کئے گئے آٹھ شیعہ نوجوانوں کو 18دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھ جبکہ سی سی پی او نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 2جنوری کی صبح گرفتار کیا گیا ہے۔تاہم واضح رہے کہ پولیس کی جاب سے شیعہ بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کرنا ،اور پھر ان کو لا پتہ قرار دلوانا اور پھر ان کی گرفتاری کو ثابت کرنے سے قبل چار روز پہلے انعام کے احکامات جاری ہونا خود پولیس انتظامیہ اور SIUکی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے اور واضح ہوتا ہے کہ پولیس نے شیعہ بے گناہ نوجوانوں کو اس لئے گرفتار کیا اور جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے پیسہ کمانے کی گھناؤنی سازش رچی ہے۔
وزارت داخلہ سندھ کی جانب سے جن 10افراد کی فہرست اور انکے سروں کی قیمت جاری کی گئی ہے اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
حافظ قاسم رشید    5لاکھ روپے
قاری عابد اقبال     5لاکھ روپے
ملک تصدق        5لاکھ روپے
سید ابرار حسین رضوی    5لاکھ روپے
سید تنویر عباس رضوی    5لاکھ روپے
سید سکندر رضوی    5لاکھ روپے
سید علی مہدی        4لاکھ روپے
سید پرویز زیدی    5لاکھ روپے
حسنین عباس        2لاکھ روپے
سید رفعت رضوی    2لاکھ روپے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button