پاکستانی شیعہ خبریں

شریعت کے مطابق پچاس ہزار سے زائد شہداء کے خون کا بدلہ حکومت پر قرض ہے، ثروت اعجاز قادری

شیعہ نیوز (کراچی) سربراہ پاکستان سُنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے دہشتگردوں کو اسلامی قوانین کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کردیا، پچاس ہزار سے زائد شہداء کے خون کا بدلہ شریعت کے مطابق حکومت پر قرض ہے، حکمران قاتلوں کو تحفظ فراہم کرنیکی بجائے آئین پاکستان کے قصاص اور دیت جیسے شرعی قوانین کے مطابق کیفر کردار تک پہنچائیں، نام نہاد تحریک طالبان کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ شریعت کے منافی ہے، ہزاروں لوگوں کے اعلانیہ قاتلوں کو رہا کیا گیا تو دہشتگردی کی آگ مزید بھڑکے گی، جو لوگ آئین سے ہٹ کر طالبان سے مذاکرات کا مطالبہ کررہے ہیں وہ آئین کے باغی ہیں، ایسے لوگوں کیخلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے، مذاکرات کے نام پر ہر روز بیگناہ پاکستانیوں کا خون بہایا جارہا ہے، قوم مسلسل دہشتگردی کی بھٹی میں جل رہی ہے، اگر طالبان دہشتگردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری ہیں تو قوم کو بتایا جائے کہ مذاکرات کس سے کئے جارہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہل سنت پر علماء بورڈ کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ پورا ملک دہشتگردی کا شکار ہے اس لیے فائر بندی محض شورش زدہ علاقوں میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں ہونی چاہیئے، قوم دہشتگردوں کے ساتھ کوئی این آر او کو قبول نہیں کرے گی، دہشت گردوں اور ان کے حمایتوں نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے، پوری قوم ایک طرف اور طالبان کے حمایتی ایک طرف کھڑے ہیں، حکومت نے مذاکراتی ڈرامے کے ذریعے امن کو نہیں بلکہ دہشتگردی کو پنپنے کا ایک موقع اور دیا ہے، اس صورتحال میں شہداء کے وارثین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے، اگر انصاف قائم نہ کیا گیا تو امن پسند بھی ہتھیار اُٹھانے پر مجبور ہوں گے اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ طالبان کو بچانے والے شہداء کے ورثاء کے زخموں پرنمک پاشی کررہے ہیں، مذہب اور مسلک کے نام پر جاری قتل و غارت گری نے ملک و قوم کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے، ملک کو کسی صورت دہشتگردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی، پاکستان سُنی تحریک ملک کے کونے کونے میں انتہاء پسند دہشتگردوں کیخلاف آواز بلند کرتی رہے گی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button