پاکستانی شیعہ خبریں

فضائیہ کی مہارت، شمالی وزیرستان حملے میں کوئی عام شہری نشانہ نہیں بنا

شیعہ نیوز(کے پی کے) شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سکیورٹی فورسز کے حملوں میں 47 سے زائد شدت پسندوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ اس کارروائی میں شدت پسندوں کے 6 ٹھکانے تباہ ہوئے۔ فضائی حملوں میں ازبکستان، ترکمانستان اور کالعدم تحریک طالبان کے اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جن میں کمانڈر عبدالستار سمیت تین اہم کمانڈورں اور غیر ملکی شدت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے چھ ٹھکانوں پر بمباری کی۔ پاک فوج کے اس فضائی حملے میں ہیلی کاپٹر نے بھی حصہ لیا۔
پہلا حملہ کمانڈر عبدالستار، دوسرا اور تیسرا حملہ ازبکستان اور ترکمانستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے مراکز پر کیا گیا ہے۔ چوتھا حملہ تاجک عسکری مرکز پر کیا گیا جس میں تاجک کمانڈر سمیت تمام عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔ پانچواں حملہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانے جہاد یار پر کیا گیا جس میں پندرہ شدت پسندوں کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ چھٹا حملہ کالعدم ٹی ٹی پی کے کمانڈر عبدالرزاق کے ٹھکانے پر ہوا، جس میں تیس سے زائد عسکریت پسند مارے گئے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں تین درجن سے زائد عسکریت پسندو ں کے مارے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔ جن میں تین اہم کمانڈرز بھی شامل ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق تحریک طالبان کے کمانڈر عبدالستار کے کمپاؤنڈ پر کئے گئے حملے میں بھاری تعداد میں اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ بھی تباہ ہوا ہے، جس میں نو عسکریت پسند مارے گئے۔ جن میں کمانڈر عبدالستار بھی شامل ہے۔ دوسرے اور تیسرے حملے میں ازبک اور ترکمانستان کے جہادی مرکز مکمل طور پر تباہ ہوئے۔ اس حملے میں ایک تاجک کمانڈر سمیت گیارہ کے قریب عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔
کالعدم ٹی ٹی پی سے وابستہ کمانڈر جہاد یار کے ٹھکانے پر کئے گئے حملے میں جہاد یار کے بچ جانے کی اطلاعات ملی ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ حملے کے وقت مرکز میں موجود نہیں تھا۔ فضائیہ کے اس حملے میں کوئی عام شہری نہیں مارا گیا اور پاک فضائیہ نے بڑی مہارت سے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔ ذرائع کےمطابق عسکریت پسندوں نے تباہ شدہ اڈوں سے اپنے ساتھیوں کی لاشیں نکال لی ہیں۔ بمباری کا نشانہ بننے والے علاقوں میں حسوخیل، خید خیل، خوشحال اور ایدک کے علاقے شامل ہیں۔ جہاں مقامی لوگوں کے علاوہ کسی کو رسائی حاصل نہیں ہے۔ تاجک عسکری مرکز پر کئے گئے حملے میں ایک بم گاڑیاں تیار کرنے والا اہم کمانڈر بھی مارا گیا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button