پاکستانی شیعہ خبریں

اسماعیلی اور کالاش برادری کوکالعدم طالبان کی دھمکی کے بعد جرگہ اجلاس

شیعہ نیوز (چترال) پاکستان میں مقیم اسماعیلی برادری اور کالاش قبائل کو طالبان کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں کے بعد، جمعے کے روز کالاش وادی میں ایک بہت بڑا جرگہ ہوا جس میں ان برادریوں کو درپیش خطرات اور مسائل پر بات کی گئی ۔اس میٹنگ کی صدارت چترال اسکاؤٹس کے کمانڈر کرنل نعیم اقبال نے کی جس میں ڈپٹی کمشنر چترال محمد شعیب جدون، ڈسٹرکٹ پولیس افسر غلام حسین اور میجر مرتضیٰ کے علاوہ کالاش کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ جرگے میں سنی ، شیعہ اور اسماعیلی افراد شریک ہوئے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل دو فروری کو تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹٰی پی) کی جانب سے پچاس منٹ کی ایک وڈیو ٹی ٹی پی میڈیا ونگ کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تھی ۔ وڈیو میں اسماعیلی مسلمانوں اور کالاش برادری کیخلاف ‘ مسلح جدوجہد’ کا اعلان کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں بیان کرنے والے ایک شخص نے کالاش برادری کے افراد کو دھمکاتے ہوئے کہا کہ وہ یا تو اسلام قبول کرلیں یا پھر مرنے کیلئے تیار ہوجائیں۔ واضح رہے کہ اس وقت پاکستان میں کالاش افراد کی تعداد صرف 3500 ہے۔
کالاش قبیلے کے ایک اور فرد تاش خان کا کہنا ہے کہ ان کی کمیونٹی کے لوگ غیر متشدد فطرت کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان کی تاریخ گواہ ہے کہ کالاش کمیونٹی کے لوگوں نے کبھی قتل یا خودکشی نہیں کی۔‘‘قبائلی فرد نے کہا کہ کالاش کے لوگوں نے کسی بھی چیز پرامن کو ترجیح دی اور یہاں تک کہ وہ اپنی وادیوں کو چھوڑنے کے لیے بھی تیار ہیں، اگر انہیں ایسا کرنے کے لیے کہا گیا۔
جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کرنل نعیم اقبال نے کہا کہ چترال میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے چترال اسکاؤٹس، پولیس، بارڈر پولیس، ایلیٹ فورس اور پاکستان آرمی علاقے کی حدود اور اندر تعینات کردیا گیا ہے اور وہ سب ریڈ الرٹ ہیں۔انہوں نے مقامی افراد سے کہا کہ وہ ان دھمکیوں پر سنجیدہ نہ ہوں کیونکہ طالبان نے جو ویڈیو جاری کی ہے وہ نئی نہیں اور سال 2011 میں جاری کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر آنے کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر ازخود نوٹس لیا ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اسماعیلی برادری اور کالاش برادری کو جاری دھمکیوں کے بعد معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔اس کے بعد مجاز کورٹ نے کہا تھا کہ اس کیس کی سنوائی پشاور چرچ کیس کے ساتھ کی جائے گی۔اس موقع پر کالاش قبائل، سنی اور اسماعیلی مسلمانوں نے فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ۔اس موقع پر مقامی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وادی میں سڑکوں کی تعمیر اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنائے۔ اس کے علاوہ بارڈر سیکیورٹی فورسز، پولیس اور چترال اسکاؤٹس میں بھرتی کے وقت مقامی افراد کو ترجیح دی جائے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button