پاکستانی شیعہ خبریں

مفتیان کرام منور حسن کی جانب سے کربلا کو دو صحابہ کی جنگ قرار دینے پر فتویٰ دیں، الطاف حسین

شیعہ نیوز (کراچی) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے تمام مفتیان کرام، علماء و مشائخ عظام، ذاکرین اور مجتہدین سے گزارش کی ہے کہ وہ امیر جماعت اسلامی منور حسن کی جانب سے نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؓ اور یزید کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے اور واقعہ کربلا کو دو صحابہ کرامؓ کی جنگ قرار دینے پر فتویٰ جاری کریں۔ انہوں نے یہ بات نائن زیرو پر رابطہ کمیٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی نے الطاف حسین سے کہا کہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں واقعہ کربلا کو دو صحابہ کرامؓ کی جنگ قرار دیا ہے اور حضرت امام حسینؓ اور یزید کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا ہے، اس پر شرعی اعتبار سے کیا سزا بنتی ہے۔ رابطہ کمیٹی کے اس سوال پر الطاف حسین نے کہا کہ میں مفتی نہیں ہوں، اس معاملے پر مفتیان کرام اور مشائخ عظام ہی بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں قابل احترام مفتیان کرام، علماء و مشائخ عظام، زاکرین اور مجتہدین سے اپیل کروں گا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور قوم کی رہنمائی فرمائیں کہ کیا نواسہ رسول ؐ حضرت امام حسینؓ اور یزید کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا جاسکتا ہے؟ کیا یزید جس کے حکم پر نواسہ رسول ؐ اور اہل بیت کو شہید کیا گیا، جس کے حکم پر آل رسولؐ پر ظلم ڈھائے گئے، نبی اکرم ؐ کی پاک بیبیوں کے سروں سے چادریں کھینچی گئیں اور اہل بیت کی معصوم بچیوں کے منہ پر طمانچے مارے گئے کیا ایسے ظالم شخص یزید اور نواسہء رسول ؐ کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا جاسکتا ہے؟ کیا میدان کربلا میں حق و باطل کے معرکہ کو دو صحابہ کی جنگ قرار دیا جاسکتا ہے۔ الطاف حسین نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ مفتیان کرام اور علماء و مشائخ عظام اس بارے میں فتویٰ جاری کریں اور قوم کی رہنمائی فرمائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ چند لوگوں کا نہیں بلکہ ملت اسلامیہ کے ہر فرد کاسوال ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button