مضامین

ڈالر کی ورشا اور حرمین کی محبت

تحریر: امتیاز عالم

دھن داروں کی سرکار پہ دھن ہے کہ برسے جائے ہے۔ ماہرین حیرت زدہ ہیں تو ہوا کریں، اور حزب اختلاف والے انگلیاں اٹھائے ہیں تو اٹھایا کریں۔ پژمردہ روپے کو مالیاتی ٹیکے لگانے کی ضرورت تھی، خواہ دھن دار خود مہیا کرتے (جس کے لئے دھن والوں کو اپنے پیٹ کاٹنے پڑتے) یا کہیں سے مستعار لیتے اور وہ بھی کاسۂ گدائی کی رونمائی کئے بغیر۔ سو عربوں سے ہماری دیرینہ چاہ یا پھر نواز شریف کی ان سے پرانی آشنائی نے خوب راہ نکالی، جو سعودیہ سے شروع ہوکر بحرین سے گزرتی۔ متحدہ عرب امارات تک پہنچنے کو ہے! خالی ہوتے ہوئے خزانے میں جون تک مبلغ تین ارب ڈالر ذخیرہ ہونے کو ہیں۔ عربی من وسلویٰ کا اترنا تھا، لاغر روپیہ کمر ٹھونک کر کھڑا ہوا تو لگا ڈالر پسپا ہونے۔

حکومت پر ڈالروں کی بابرکت برسات ہوئی تو تاجر برادری کو ٹیکسوں میں چھوٹ کا ثمر دیئے معاشی نمو کو کیونکر مہمیز لگائی جاسکتی ہے؟ ایسے میں جون تک بجٹ کا انتظار کون کرے، جب ایس آر اوز اپنی فیاضیاں لئے پہلے سے موجود ہیں۔ رہے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) والے، انہیں اس سے کیا غرض کہ خسارے ٹیکسوں اور جائز آمدنیوں کو بڑھانے سے پورے ہوتے ہیں (جیسا کہ ایسے ہی ہونا چاہیے ورنہ پھر فاقہ مستی آن دھمکے گی)، یا پھر مکے مدینے والوں کی غیبی امداد سے، مومن ضرورت مند کی مدد چھپ چھپا کر کرتا ہے کہ ثواب دارین دوبالا ہو،جبکہ شفافیت سے تو دکھلاوے کا سفلا پن ظاہر ہوتا ہے، خواہ اچھی حکومت کے ڈھنڈورچی کتنا ہی شور مچایا کریں، یا ریاستوں کے مابین چلن کے تقاضے کچھ اور ہی کیوں نہ ہوں۔ سرمایہ حرامی ہو یا حلالی اور جہاں سے بھی آئے اور جیسے آئے بس آئے!

جب ڈالر چھ فیصد قدر کھو بیٹھا اور روپے کی شرح مبادلہ 100 کے ہندسے سے نیچے آن گری تو مہنگائی کے ہاتھوں بلبلاتے لوگوں میں یہ خیال پیدا ہونا بے محل نہ تھا کہ بقول سودا:
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانۂ براندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی
کم از کم تیل اور بجلی کے نرخ اتنے تو کم ہوجاتے جتنی ڈالر کی شرح میں کمی ہوئی۔ ایسی مہربانی غریب شہر کو کہاں میسر! اس حکومت کے برسر اقتدار آنے پر روپیہ اگر 98 روپے فی ڈالر تھا تو غریب کو کیا ہاتھ آیا اور جب یہ 108 تک چڑھ کر واپس 98 پہ آن گرا تو غریب کو کیا آسودگی ملی۔
فقیر شہر کے تن پہ لباس ابھی باقی ہے
امیر شہر کے ارمان ابھی کہاں نکلے
روپے کی اس دھماچوکڑی میں اگر کوئی خیال نظر سے اوجھل ہوا بھی ہے تو وہ بیچارے کاسۂ گدائی کا، جس کی بازگشت تک کہیں سنائی نہ دی۔ شرفائے وطن تو اسے کبھی کا توڑ تاڑ کر، واہ واہ کے شور میں ووٹوں کے بے بہا ڈونگروں سے فیضیاب ہوکر تخت نشین ہوچکے۔ خفت سے بچت کے لئے اب کاسۂ گدائی کا خاندانی قسم کا نام رکھ لیا گیا ہے اور وہ ہے پاکستان ڈیویلپمنٹ فنڈ۔ اور ترقی کے لئے فنڈز اکٹھے کرنے کے نیک کام پر بک بک کرنے کی کس میں کیا جرات! اسحاق ڈار صاحب جو اب ڈالر مار صاحب کے نام سے مشہور ہوچکے ہیں، نے صحیح تو کہا ہے کہ آم کھانے سے غرض رکھو، پیڑ گننے سے کیا حاصل۔

عرب شیوخ اور شاہوں کی مغرب میں شاہ خرچیوں کے قصے کیسے ہی دشمنان اسلام نے اڑائے ہوں، ہم افتادگان خاک تو ان کی زکواۃ و خیرات کی نعمتوں سے کب سے فیضیاب ہیں۔ آفت زدگان ہوں یا پھر ہمارے مدرسوں میں پڑھنے والے یتیم و مسکین اور ان کے شدت پسند اساتذۂ کرام، سبھی تو انکی خدا ترسی کے مرہون منت ہیں اور دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔ ایسے میں کس کی جرات کہ مدرسوں کی جانب میلی آنکھ سے دیکھے۔ بھلا زکواۃ و خیرات کا بھی کہیں آڈٹ ہوتا ہے؟ ماسوا رب العزت کے حضور۔ آخر عرب ڈالر کے ساتھ ان کا مسلک بھی تو عام کرنا ہے۔ لیکن! حضرات اس بار معاملہ ذرا کہیں گھمبیر ہے۔ آنکھیں کھولئے تو کچھ اندازہ ہو۔ عرب دنیا کا عوامی ابھار قوم پرست آمریتوں کو تو بہا لے گیا، لیکن جزیرہ نما عرب کے تپتے ریگزاروں میں، جہاں عرب خادمین حرمین شریف اور اسلامی بادشاہوں کے خانوادے خیمہ زن ہیں (جو مکمل ایئر کنڈیشنڈ ہیں)، وہاں بھلا عرب بہار نے کیوں رخ کرنا تھا۔
 
عرب بہار کے روز حشر تو عرب قوم پرستی کے رہے سہے اور جیسے کیسے نشانوں کو مقام عبرت نصیب ہونا تھا۔ بھلا ہو امریکیوں کا کہ صدام حسین عراق میں پھانسی چڑھا اور کرنل قذافی کو سڑکوں پر گھسیٹتے ہوئے انجام تک پہنچایا گیا۔ رہا حافظ الاسد جو بھلے اسرائیل کے خلاف آخر تک ڈٹا رہا ہو، ہے تو علوی! تو اسکے تیئے پانچے کے لئے مغرب کے ملعون یہود و نصاریٰ اور عالم اسلام کے شدت پسند سب ہی مل کر یلغار کئے ہوئے ہیں۔ ایسے میں جیسے ہی یہ عجمی اور غیر عجمی بیچ میں آن کھڑے ہوئے ہیں تو پورا مشرق وسطٰی مسلکی جنگ میں کچھ ایسا غرق ہو رہا ہے کہ صلیبی جنگیں محض طفلانہ سر پھٹول لگیں گی۔ عربی عجمی جھگڑا تو تاریخی ہے ہی، اسے بھڑکانے سے زیادہ آسان کھیل کوئی نہیں جبکہ فرقہ ورانہ فساد اتنا گرم کر دیا گیا ہے اور جس میں ان فرقوں کے "دین ملا فی سبیل اللہ فساد” والوں کا کوئی ثانی نہیں۔

اس پر مستزاد یہ کہ دوربیں عجمیوں نے اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں پہ سمجھوتے کی امید دلاکر امریکیوں اور سعودیوں میں بے اعتمادی بڑھا دی ہے اور شام میں القاعدہ اور تکفیریوں کے میدان میں اترنے سے سعودیوں کو اپنے گھر کی فکر پڑگئی ہے، جہاں خلافت کے داعی کسی بھی وقت حکمرانوں کو درختوں پہ لٹکا سکتے ہیں۔ بحرین میں شیعہ اکثریت کو سعودی طاقت سے کچ
لے جانے کے خلاف سعودی عرب کے اہل تشیع میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ سعودیوں کے لئے یہ اس لئے بھی کہیں زیادہ تشویش ناک ہے کہ یہ سعودی اہل تشیع زیادہ تر تیل کے خزینوں پر براجماں ہیں۔ سعودیہ کی تیل سے مالا مال اہل تشیع پٹی، عراق اور بحرین کی شیعہ اکثریت اور انقلابی ملائیت پسند ایران کے ملنے پر سعودی حکمرانوں کو اپنی پڑ گئی ہے۔ آخر مشکل میں دوست ہی کام آتے ہیں۔
 
کیا ہم ہمیشہ پاکستان کو مسلم دنیا کا بازوئے شمشیر زن، پاک فوج کو اسلامی فوج اور خالص پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم کا ورد کرتے ہوئے صبح شام اسلام کی نشاۃ ثانیہ کو زندہ و تابندہ کرنے کی مالا نہیں جپتے، اور اگر آج خادمین حرمین کو کوئی خطرہ لاحق ہے یا پھر خلیج کی ریاستوں، خاص طور پر بحرین میں، شورش دبائے نہیں دب رہی تو کیا ہم مسلک بھائیوں کی مدد کو پہنچنا کار ثواب نہیں؟ پاکستانی حکومت خادمین حرمین کی حفاظت کے لئے میدان میں نہیں اترے گی تو پھر کون؟ عجیب نظارہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے واشگاف اعلان کیا ہے کہ پاکستان اپنی فوج کہیں نہیں بھیج رہا۔ حالانکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ ایسے ہوتا آیا ہے، ہو رہا ہے اور خون بہنے سے پہلے ہی خون بہا کی ادائیگی سے خزانہ ڈالروں سے یونہی تو نہیں بھرا جارہا۔ کاش! وزیراعظم اپنے اعلان پر قائم رہیں۔ ورنہ دنیا میں برکت کا باعث ہے، ایسی محبت سے ہم باز آئے!
بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button