مضامین

ایران مناسب ترین اسٹریٹیجک پارٹنر (خصوصی تحریر)

تحریر: ناصر عباس شیرازی 
 
اسٹریٹیجک ڈیپتھ (Strategic depth) یا تزویراتی گہرائی کا نظریہ عالمی دفاعی ماہرین کی نظر میں بین الاقوامی تعلقات کی شکل گیری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ تزویراتی گہرائی سادہ الفاظ میں دشمن ملک کے اچانک اور بڑے حملے کی صورت میں اگلی دفاعی لائن کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کیلئے بعض ایسے محفوظ مقامات اور علاقوں کا تعین ہے، جہاں ہر طرح کی فوجی دفاعی ضروریات لمبے عرصے تک پوری کی جاسکیں اور یہ علاقے اور تنصیبات براہ راست دشمن کی زد میں نہ ہوں، تاکہ متنوع ملٹری و سول سپلائی لائن جاری رہ سکے۔ اسرائیل دنیا میں تزویرائی گہرائی کی کمی کی وجہ سے سب سے زیادہ مشکل کا شکار ہے۔ بعض مقامات پر اسکی چوڑائی 14 کلو میٹر سے زیادہ نہیں، جبکہ اہم ترین شہر 30 کلومیٹر سے کم دوری پر ہیں۔ لہذا اسرائیل نے 4 نکات کو بنیاد بنا کر اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی اور اپنی بقا کی ناکام جنگ میں مصروف ہے۔ ان میںMust Win Waar (جنگ میں حتمی فتح) طاقت کا بے جا و بے دریغ استعمال، روائتی و غیر روائتی جدید اسلحہ کا استعمال اور پڑوس میں کسی ایک ملک سے الائنس رکھ کے اسکی مدد سے اپنی جغرافیائی کمزوری کو دور کرنا شامل ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی ایک ایسا ملک ہے، جس کا ہندوستان کی صورت میں اول روز سے دشمن موجود ہے، جو جغرافیہ اور آبادی میں کئی گنا بڑا بھی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی کیفیت ایسی ہے کہ بعض علاقوں سے انڈیا پاکستان کی اہم شاہراہوں کو کاٹ سکتا تھا، یا بعض جگہوں سے ملک کے دو حصوں میں روابط میں دشواری پیدا کرسکتا تھا۔ لہذا پاکستانی دفاعی پالیسی سازوں نے ممکنہ ہندوستانی حملے کی صورت میں اپنی تزویراتی گہرائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے افغانستان کا انتخاب کیا۔ عملاً یہ انتخاب روس کے زوال کے بعد اور افغانستان میں مجاہدین کی کامیابی کے نتیجہ میں وجود پایا۔ کسی بھی پڑوسی ملک میں اسٹریٹیجک ڈیپتھ کے حاصل ہونے کے لئے چند ضروری شرائط ہیں، جن میں اہم ترین یہ ہیں کہ اس ملک کے سیاسی حالات پرسکون ہوں۔ اقتصادی طور پر خوشحال ہو، دفاعی صنعت موجود ہو، سڑکوں کا جال وسیع ہو، ملک میں امن ہو، فطری طور پر اس کے عوام آپ سے محبت کرتے ہوں یا ممکنہ طور پر ہم زبان ہوں اور اس ملک کے ساتھ آپ کے دیرینہ مراسم دوستی پر مبنی ہوں اور قانونی طور پر بھی دونوں ممالک دفاعی معاہدے رکھتے ہوں۔ 

لازمی ہے کہ اس ملک میں توانائی کے ذخائر بھی موجود ہوں اور اس کے پاس سمندر بھی موجود ہو، کیونکہ جنگ میں سب سے پہلے توانائی کی تسلسل سے ضرورت پڑتی ہے اور مختلف نوعیت کا اسلحہ محض سمندری راستوں سے ہی ترسیل ہوسکتا ہے۔ چونکہ حالت جنگ میں حملہ آور ملک سب سے پہلے تیل کی تنصیبات، سمندری بندرگاہیں اور اہم صنعتی مراکز کو ہی تباہ کرتا ہے۔ لہذا وہ پڑوسی ملک جو آپ کی تزویراتی گہرائی کی کمی کو دور کر رہا ہے، میں مذکورہ بالا صفات پائی جانی ضروری ہیں، بصورت دیگر وہ آپکی اسٹریٹیجک ڈیپتھ کا کردار ادا نہیں کرسکتا  افغان مجاہدین سے تعلق، امریکی پالیسی کے اثرات اور افغانستان میں خود ساختہ دوست حکومت قائم کرنے کے خواب کی وجہ سے پاکستان نے افغانستان میں اپنی تزویراتی گہرائی تلاش کی اور ان تین ملکوں میں سے ایک بنا جنہوں نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا۔ علاوہ ازیں پاکستان کی اعلانیہ عسکری حمایت روز روشن کی طرح عیاں تھی۔
 
عملاً صورتحال برعکس رہی اور افغانستان ہماری تزویراتی گہرائی کی کمی کو پورا کرنے کی بجائے بتدریج تزویراتی خطرہ میں تبدیل ہوگیا۔ افغانستان پاکستان کے دفاع میں تو کوئی کردار ادا نہ کرسکا لیکن ہم نے اپنا سب کچھ افغانستان کو اپنا بنانے کیلئے جھونک دیا۔ حتٰی کہ اپنا عالمی وقار بھی قربان کر دیا۔ افغانستان ایک لینڈ لاکڈ (Land Locked) ملک ہے کہ جس کا سمندر پر انحصار پاکستان یا ایران کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ افغانستان خود کم آب اور کم توانائی کا حامل ملک ہے، جو ایمرجنسی میں خود اپنے عوام کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے، چہ جائیکہ کسی دوسرے ملک کو حالت جنگ میں مدد فراہم کرے۔ خانہ جنگی کا شکار ملک کسی دوسرے ملک کو استحکام عطا نہیں کرسکتا بلکہ دوسرے ملک کو اپنی فوج کا بڑا حصہ خانہ جنگی کے شکار ملک کی سرحدوں پر تعینات کرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی پالیسی سازوں نے اس افغان پالیسی کے نتیجہ میں افغانستان کی داخلی جنگ اور انتشار کو اپنی سرحدوں کے اندر تک منتقل کیا۔ اقتصادی اور سیاسی خسارہ برداشت کیا اور بعد ازاں فوجی اداروں کو دہشتگردی کی جنگ کے نام پر انہی گروپوں سے جنگ آزماء ہونا پڑا، جو قبل ازیں ہمارا (Strategical Asset) یا تزویراتی سرمایہ تھے۔

وطن عزیز آج شدید مشکل میں ہے۔ مغربی اور مشرقی ہر دو سرحدیں حالت جنگ میں ہیں اور دشمن تاک میں بیٹھا ہے۔ ملک گوریلا جنگ اور بدترین Insurgency کا شکار ہے۔ جبکہ دوسری طرف خانہ جنگی اور طالبان حکومت کے ردعمل کے طور پر افغانستان میں تاریخی انتقال اقتدار عمل میں آنے کا امکان ہے۔ نئی افغان حکومت امریکہ کے افغانستان میں مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ لہذا بدلتے حالات کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی تزویراتی گہرائی کی ازسر نو تشکیل کریں۔

ایران ہمیں حقیقی تزویراتی گہرائی فراہم کرسکتا ہے۔ مشکل دور میں اپنے اتحادیوں کی ہر طرح سے مدد اور ایران کی خارجہ پالیسی کا تسلسل اظہر من الشمس ہے۔ توانائی کے ذخائر سے مالا مال ایران وطن عزیز کے جنگ اور امن کے دور کے بحرانوں کو حل کرسکتا
ہے۔ ایران میں مثالی امن جبکہ انکی صنعت ترقی یافتہ ہے۔ فوجی صنعت بھی دنیا کے چند بڑے ممالک کی ٹکر کی ہے۔ جبکہ سیاسی استحکام ہونے کی وجہ سے کوئی بھی حکومت پاکستان سے کئے گئے معاہدے پر عملدارآمد کرے گی۔ ایران بجلی، گیس، پٹرول کی ارزاں اور تسلسل سے فراہمی کرکے پورے ملک بالخصوص بلوچستان میں ترقی کے نئے دور کو شروع کرسکتا ہے۔ بلوچستان اور خطے میں ایران اور پاکستان کے مفادات ایک ہیں، دونوں بلوچستان میں امن کے خواہاں ہیں۔ ایرانی یا پاکستانی بلوچستان میں سے کسی ایک میں بدامنی دوسرے کے لئے وبال جان بن سکتی ہے۔

خلیبجی ریاستوں کے نہ چاہنے کے باوجود ایرانی مدد سے گوادر تک رسائی کو develop کیا جاسکتا ہے جبکہ ایران سے تزویراتی سطح کا تعلق پورے خطے میں نئی تبدیلی کو ممکن کرسکتا ہے، جس میں چین تا گوادر تک رسائی اور ریل سروس کی تعمیر جیسے منصوبوں کی بنیاد پر (Regional Allience) یعنی پاک چین ایران کے اتحادیہ کی تشکیل ہوسکتی ہے، جو عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ واحد رکاوٹ امریکی و خلیجی ریاستوں کے مفادات کے تابع ہماری خارجہ پالیسی ہے، جسے بدلنے کیلئے مضبوط ارادے اور بڑے حوصلے کی ضرورت ہے، جو کم از کم موجودہ حکمرانوں میں ناپید ہے، لیکن شاید عسکری و دفاعی پالیسی ساز بدلتے حالات میں ایران کے تزویراتی گہرائی کے کردار کو کو سمجھتے ہوئے اپنی پالیسی ازسر نو ترتیب دے کر وطن عزیز کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکیں کہ درست اور بروقت فیصلے ہی قوموں کے مقدر کا تعین کرتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button