مضامین

پنجابی طالبان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد اب سندھی طالبان میدان میں، نیوی ڈاکیارڈ حملے میں ملوث

حساس اداروں نے کراچی میں نیوی کی تنصیبات ڈاکیارڈ پر حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے، رپورٹ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سندھی گروپ کو ملوث قرار دیا گیا ہے۔ حساس اداروں نے 21 افراد کو حراست میں بھی لے لیا ہے جن میں 14 سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں۔ حساس اداروں کی جانب سے تیار کی جانے والی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ طالبان کا سندھی گروپ، صوبے کے کئی سرکاری اداروں میں فعال ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیوی کمانڈوز نے بروقت کارروائی کرکے دہشت گردی کی کارروائی کو ناکام بنایا۔ حملہ آور نیوی کی ورکشاپ سمیت اہم تنصیبات کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حساس اداروں نے سندھ کے مختلف شہروں سے 21 ملزمان گرفتار کئے ہیں، گرفتار کئے جانے والے افراد میں 14سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں جن میں سے 3 اہم ملزمان کو لاڑکانہ اور 2 کو جامشورو سے گرفتار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ تین روز قبل کوئٹہ سے نیوی کے تین افسران گرفتار کئے گئے تھے جو مبینہ طور پر ڈاکیارڈ پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے، ان گرفتار افسران کے حوالے سے یہ اطلاع بھی سامنے آئی تھی کہ یہ تمام افغانستان فرار ہونا چاہتے تھے۔ واضح رہے کہ 6 ستمبر کو ڈاکیارڈ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک نیوی کا اہلکار اور 2 دہشت گرد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 4 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان نیوی کے جن تین افسران کو گرفتار کیا گیا تھا ان کا تعلق بھی اندرون سندھ سے ہی بتایا جا رہا ہے اور مستونگ بلوچستان کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں پر لشکر جھنگوی، جیش العدل سابقہ جنداللہ وغیرہ سرگرم عمل ہیں۔ ڈاکیارڈ حملے میں فورسز سے مقابلے میں ہلاک ہونے والا دہشتگرد اویس جاکھرانی جس نے تین ماہ قبل بحریہ سے استعفٰی دیا تھا، اسکا تعلق بھی اندرون سندھ سے تھا اور وہ سندھ پولیس کے اعلٰی افسر اے آئی جی علی شیر جاکھرانی کا بیٹا تھا۔ پنجابی طالبان کے بعد اب سندھی طالبان کے انکشاف کے بعد سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنے ابتک کے مؤقف پر نظرثانی کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی جانب سے ابتک یہ کہا جاتا رہا ہے کہ سندھ کے اندر، سندھیوں میں تکفیری دہشتگردانہ سوچ کے ترقی پذیر ہونے کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے لیکن اب خود حساس اداروں کی تحقیقاتی رپورٹس سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ ایسا خطرہ موجود ہی نہیں بلکہ سنگین ہوگیا ہے۔

ان سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو چاہیئے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں کالعدم تکفیری دہشتگرد تنظیموں جن میں تحریک طالبان، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ (اہلسنت و الجماعت)، جنداللہ و دیگر گروہ شامل ہیں، سمیت وہ تمام مدارس جن کے بارے میں انٹیلی جنس رپورٹس موجود ہیں کہ وہاں سے دہشتگردی اور لاجسٹک سپورٹ نیٹ ورک بنانے کیلئے افراد بھرتی کئے جاتے ہیں، انکے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جائے تاکہ ایک طرف تو افواج پاکستان کی تنصیبات محفوظ ہو سکیں تو دوسری طرف دہشتگردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button