پاکستانی شیعہ خبریں

سانحہ عباس ٹاؤن، تباہ شدہ رہائشی اپارٹمنٹس کی از سر نو تعمیر 2014ء میں مکمل ہوگی

سانحہ عباس ٹاؤن میں تباہ شدہ رہائشی اپارٹمنٹس کی ازسر نو تعمیر کا کام مارچ 2014ء سے قبل مکمل کر لیا جائے گا اور 30 مارچ کو فلیٹ اور دکانیں اصل مالکان کے حوالے کردی جائیں گی۔ اقرا سٹی کے بلاک ڈی کی دوسری منزل کی از سر نو تعمیر کا کام جاری ہے اور رواں ہفتے دوسری منزل کی چھت بھی ڈال دی جائے گی۔ رابعہ فلاور کی بنیاد کا کام بھی مکمل کر لیا گیا ہے اور پلر کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ 20 ستمبر تک رابعہ فلاور کی پہلی منزلہ کی چھت بھی ڈال دی جائے گی۔ یہ بات سانحہ عباس ٹاؤن کے نتیجے میں تباہ ہونے والے رہائشی اپارٹمنٹ کی از سر نو تعمیر کے عمل میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے والے منظور مہدی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتائی۔

انھوں نے بتایا کہ 3 مارچ کو سچل تھانے کی حدود میں ابوالحسن اصفہانی روڈ پر واقع رہائشی اپارٹمنٹ اقرا سٹی اور رابعہ فلاور کی درمیانی سڑک پر کیے جانے والے خوفناک بم دھماکے میں رہائشی اپارٹمنٹ اقرا سٹی کا بلاک ڈی اور رابعہ فلاور کا بلاک A-3 مکمل تباہ ہوگیا تھا جس کے بعد بم دھماکے میں تباہ شدہ عمارتوں کے انہدام اور از سر نو تعمیر کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ تباہ شدہ عمارتوں کی از سر نو تعمیر کے لیے حکومت کی جانب سے 14 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے جس میں سے 12 کروڑ 80 لاکھ روپے ڈی سی ملیر کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے جا چکے ہیں جبکہ 1 کروڑ 70 لاکھ روپے کی رقم ابھی ملنا باقی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں اب تک 6 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔

سانحہ عباس ٹاؤن کے نتیجے میں تباہ ہونے والے اقرا سٹی کے بلاک ڈی کی فاؤنڈیشن اور پہلی منزل کی چھت کا کام مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ دوسری منزل کی از سر نو تعمیر کا کام جاری ہے اور رواں ہفتے اقرا سٹی کی دوسری منزلہ کی چھت بھی ڈال دی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ رابعہ فلاور کی بنیاد کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور پہلی منزل کی چھت ڈالنے کے لیے پلیئر کھڑے کیے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ 20 ستمبر تک رابعہ فلاور کی پہلی منزل کی چھت بھی ڈال دی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی کوشش ہے کہ ہر 20 سے 25 دن کے بعد ایک منزل کی چھت ڈال دی جائے۔ انھوں نے بتایا کہ بم دھماکے میں تباہ شدہ عمارتوں کی ازسر نو تعمیر کا کام مارچ 2014ء سے قبل مکمل کر لیا جائے گا اور باقی رہ جانے والی رقم اگر انہیں وقت پر مل گئی تو 30 مارچ کو ازسر نو تعمیر کے جانے والے فلیٹ اور دکانیں اصل مالکان کے حوالے کردی جائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ بتایا تباہ شدہ عمارتوں کی از سر نو تعمیر کا کام میں رقم کی عدم ادائیگی کی وجہ سے دو سے ڈھائی ماہ کی تاخیر ہوئی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ بم دھماکے کے نتیجے میں زیر زمین پانی، سیوریج اور گیس کی لائنیں شدید متاثر ہوئیں جنھیں تبدیل کردیا گیا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button