مضامین

قرآنی نکتہ نظر سے حکومت حضرت امام مہدی (عج)

تحریر: ذیشان حیدر

١۔ وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یَرِثُها عِبَادِی الصَّالِحُونَ (سورہ انبیاء105)

ترجمه، ہم نے ذکر کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے که ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہونگے۔

نیک کردار بندوں کی وراثت اور سلطنت کا ذکر زبور میں بھی ہے اور اس سے پہلے توریت وغیره میں تھا جس سے صاحبان کردار کی تسکین قلب کا سامان مہیا کیا گیا ہے که ان کی ریاضتیں دارِ دنیا میں بھی برباد ہونے والی نہیں ہیں اور بالآخر دنیا کا آخری قبضه انہیں کے ہاتھوں میں ہو گا، جس کے ذریعے وه نظام الٰہی کو رائج کریں گے اور ملک خدا میں قانون ِخدا کا نفاذ ہو گا اور اس طرح ان کی دیرینه حسرت پوری ہوگی اور انہیں ان کی محنتوں کا ثمر حاصل ہو گا۔ اس کے بغیر غرض تخلیق مکمل نہیں ہو سکتی اور کائنات ناتمام کی ناتمام ہی ره جائے گی۔ دنیا اہل شروفساد کے لئے نہیں بنائی گئی، اس کی تخلیق قانون الٰہی کے نفاذ کے لئے ہوئی ہے۔ اس اقتدار و سلطنت میں تردد و تأمل اور تشکیک کی کوئی گنجائش نہیں ہے اگر اہل باطل اور بےایمان و بدکردار افراد اپنی عیاریوں سے دنیا کے حاکم ہو سکتے ہیں اور نظام عالم کو چلاسکتے ہیں تو پروردگار عالم کے نیک و پاک بندے کیوں اس زمین کے وارث نہیں ہو سکتے اور وه نظام دنیا کو کیوں نہیں چلا سکتے؟ اہل باطل کو ہمیشه یہی خوش فہمی رہی ہے که دنیا میں ہمارے علاوه کوئی حکومت کرنے کے قابل نہیں ہے لیکن خدا کا شکر ہے که اب دھیرے دھیرے یه حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے که باطل کا یه خیال ایک جنون و وہم کے علاوه کچھ نہیں، اور نظام عالم کا چلانا صرف اہل حق و حقیقت ہی کا کام ہے اہل باطل نظم دنیا کو درہم برہم تو کر سکتے ہیں لیکن نظام دنیا کو کامیابی کے ساتھ چلا نہیں سکتے۔

حضرت امام محمد باقر ؑفرماتے هیں:

خدا کے نیک بندے هی اس روئے زمین کے وارث هونگے اور وه اصحاب امام زمان عجل الله تعالٰی فرجه الشریف ہیں۔ (تفسیر مجمع البیان؛ج ٧،ص 66)۔

٢۔ وَ نُرِیدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَی الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهمْ أَئِمَّة وَ نَجْعَلَهمْ الْوَارِثِینَ۔
وَنُمَکِّنَ لَهمْ فِی الْأَرْضِ وَنُرِی فِرْعَوْنَ وَهامَانَ وَجُنُودَهمَا مِنْهمْ مَا کَانُوا یَحْذَرُونَ (سورہ قصص؛5،6)

ترجمه: اور ہم چاہتے ہیں که جن لوگوں کو زمین پر کمزور بنا دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا امام بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیدیں ۔
اور انہی کو روئے زمین کا اقتدار دیں اور فرعون و هامان اور ان کے لشکر کو انہیں کمزوروں کے ہاتھوں سے وه منظر دکھلائیں جس سے یه ڈر رہے ہیں۔

٣۔ وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهوقًا(سورہ اسراء؛81)

ترجمه: اور کہہ دیجئے که حق آگیا اور باطل فنا ہو گیا بتحقیق باطل بهر حال فنا ہونے والا ہی تھا۔

یه وعده الٰہی هے جس کا وقتی صورت حال سے کوئی تعلق نہیں۔ وقتی طور پر باطل اپنی جولانیوں کا مظاہره کر سکتا ہے لیکن دائمی اقتدار اور اختیار صرف حق کے لئے ہے۔ صاحبان ایمان کو اس وعده الٰہی کی بناء پر مطمئن ہو جانا چاہیئے اور سمجھ لینا چاہیئے که انجام کار انہیں کے ہاتھوں میں ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Back to top button
Close