پاکستانی شیعہ خبریں

کیامتحدہ کے گرفتار کارکن فرید الدین نے شیعہ علماء و نوجوانوں کوبھی زہر کے انجکشن دیئے؟ تحقیقات کی جائیں

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبررساں ادارہ ) عباسی شہید اسپتال کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس اور متحدہ قومی موومنٹ کی میڈیکل ایڈ کمیٹی کے رکن دہشتگرد فرید الدین نے اسپتال میں مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور شہریوں( شیعہ مسلمانوں)کو دوران علاج زہریلے انجکشن لگا کر قتل کرنے اور اسپتال میں خواتین ڈاکٹرز اور نرسوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے ہولناک اعترافات کر لئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق رینجرز نے متحدہ کارکن عباسی شہید اسپتال کا ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس گرفتار دہشتگرد فرید الدین کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا۔ رینجرز لاء افسر نے دہشتگرد فرید کے ہولناک اور دل دہلا دینے والے انکشافات سے عدالت کو آگاہ کیا۔ رینجرز لاء افسر نے بتایا کہ ملزم نے عباسی شہید اسپتال میں علاج کیلئے آنے والے مخالف سیاسی کارکنان اور سینکڑوں شہریوں کو زہریلے انجکشن لگا کر قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ دہشتگرد فرید متحدہ قیادت کی ہدایت پر زہریلے انجکشن لگایا کرتا تھا۔ رینجرز لاء افسر کے مطابق دہشتگرد فرید عباسی شہید اسپتال میں خواتین ڈاکٹرز اور نرسوں کو بھی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، جبکہ اس نے پارٹی کارکنوں کو اسپتال میں ملازمت بھی دلوائی، اور جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی بنا کر دیتا رہا ہے۔ اس سے قبل قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتار دہشتگرد فرید کی نشاندہی پر رضویہ قبرستان سے بھاری اسلحہ بھی برآمد کر چکے ہیں۔ عدالت نے فرید کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ہے۔

واضح رہے کہ عباسی شہید اسپتال میں کئی شیعہ نوجوان،ڈاکڑ،علماء اور بزنس مین حضرات جو تکفیری یا سیاسی جماعتوں میں موجود تکفیری گروہ کے دہشتگردوں کی ٹارگیٹ کلنگ میں زخمی ہوتے تھے انہیں بھی عباسی شہید اسپتال لیا جایا گیا ہے، جس میں معروف شہید استاد سبط جعفر،شہید علامہ علی اکبر کمیلی،شہید مولانا تقی ہادی، شہید مولانا امینی، شہید سعید حیدر زیدی، شہید عدیل عباس، شہیدی حیدر،شہید ساجد سمیت ضلع وسطی اور غربی میں شہید ہونے والے زیادہ تر شیعہ مسلمانوں کو عباسی شہید اسپتال لے جایا جاتا تھا اب واللہ اعلم کے ہمارے کتنے مظلوم شہیدوں کو اس دہشتگرد فرید الدین کی ایما پر زہر کاا نجکشن لگا کر شہید کیا گیا۔ قانوں نافذ کرنے والے ادارے اسکی  تحقیق کرکے منظر عام پر لائیں

اہم بات یہ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت کو شیعہ قائدین کی جانب سے کئی بار باور کروایا گیا تھا کے انکے اندر موجود تکفیری عناصر شیعہ ٹارگیٹ کلنگ میں ملوث ہیں لیکن انکے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی تھی مگر آج قانوں نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت مضبوط ہونے کے بعد ملت جعفریہ کا موقف شچ ثابت ہورہا ہے، اور یہ سب ان تمام مظلوم عوام کے خون کا نتیجہ ہے جو اس کراچی کی سرزمین پر پانی کی طرح بہایا گیا، چاہئے وہ مظلوم شیعہ ہو یا کسی بھی مکتب و مسلک سے تعلق رکھتا ہو ، مظلوم کا خون رائیگاں نہیں جاتا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button