مضامین

سامراج کے افریقہ میں مکروہ عزائم

تحریر: سید اسد عباس

آج کی دنیا میں عموما جنگیں سرحدی تنازعات پر نہیں بلکہ وسائل کے حصول پر ہو رہی ہیں، وسائل کی کمی کا مسئلہ تقریبا دنیا کے ہر ملک کو ہے ۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے عالمی سطح پر مختلف حیلوں بہانوں سے جنگ کا میدان گرم کیا جاتا ہے اور پھر وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔مشرق وسطی میں جاری جنگیں اس لوٹ مار کی بین مثال ہیں ۔دنیا کو دکھانے کے لیے کوئی اور مسئلہ ہے تو حقیقت میں کوئی اور وجہ ، مشرق وسطی کو ہی لے لیں وہاں کے توانائی کے وسائل پر قبضہ، ان ممالک کی دولت کو مختلف حیلوں بہانوں سے لوٹنے کی طرح طرح کی کاوشیں کسی سے پنہاں نہیں ہیں۔ کبھی وہاں جمہوریت مسئلہ بن جاتی ہے تو کبھی مسلم انتہا پسند ۔ ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ عالمی سرمایہ دار قوتیں ان ممالک کے نظام پر شب خون ماریں اور وہاں بد امنی پیدا کرکے ان ممالک کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹیں، مشرق وسطی کے ممالک کے مابین اختلاف کو بھی اسی وجہ سے ہوا دی جاتی ہے تاکہ متحارب گروہوں کو اسلحہ فروخت کیا جاسکے ۔ سال دو ہزار گیارہ میں افریقہ تبدیلیوں کا محور قرار پایا۔ تیونس، الجزائر، مصر، لیبیاوہ اہم ممالک ہیں جہاں کے عوام اپنی حکومتوں کے خلاف سڑکوں پر آئے اور وہاں موجود عرصہ دراز سے قائم حکومتوں کا تختہ الٹا گیا۔ آج ان ممالک میںسیاسی صورتحال مخدوش ہے۔لیبیا متحارب گروہوں کا میدان جنگ ہے۔

افریقہ کی بعض ریاستیں خشک سالی کے حوالے سے عالمی طور پر معروف ہیں تاہم پورے افریقہ کی یہ صورتحال نہیں ۔ یہاں بہت سے ایسے ممالک بھی ہیں جو تیل ، گیس اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ہیں۔ یہ براعظم رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا براعظم ہے معدنی وسائل کے حوالے سے دنیا میں اس براعظم کا کوئی ثانی نہیں ۔ یہاں سے بوگزائٹ، کوبالٹ، نمک، ہیرا، فاسفیٹ، پلاٹینیم، لوہا، تانبا، زنک، سیمنٹ، گرافائٹ،یورینیم،کوئلہ، پیڑولیم مصنوعات اور سونا نکلتا ہے۔ کوئلہ اور پیٹرولیم الیجیریا، لیبیااور نائجیریا کی برآمدات کا نوے فیصد ہیں ۔اسی طرح بوسٹیوانا کی اسی فیصد برآمدات ہیرے، تانبے، نکل، سوڈا ایش اور سونے کے ذخائر سے حاصل ہوتی ہیں،ساوتھ افریقہ میں اس وقت تقریبا ایک بلین امریکی ڈالر کے معدنی منصوبہ جات جاری ہیں۔افریقہ کے دیگر ممالک جہاں معدنی ذخائر موجود ہیں میں کانگو، گیبون، گنی، سوڈان، سرا لیون، مالی ، موریطانیہ، موزمبیق، نیمیبیااور زیمبیا قابل ذکر ہیں ۔ افریقہ کی سب سے بڑی طاقت وہاں کی افرادی قوت ہے جو دنیا بھر میں اپنی محنت اور مشقت کا لوہا منوا چکی ہے۔

افریقہ کی اپنی ٹیلی کمیونیکشن سیٹلائیٹ ہے جس کے سبب روابط کا جال پورے افریقہ میں پھیل چکا ہے۔ اس سٹلائیٹ کا معاملہ بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ اس سیٹلائیٹ کے حصول سے قبل افریقا روابط کے لیے یورپی سیٹلائیٹ کو استعمال کر رہا تھا جس کے لیے اسے سالانہ پانچ سو ملین امریکی ڈالر لیز کی مد میں ادا کرنے پڑتے تھے علاوہ ازیں اس سیٹلائیٹ پر رابطہ بہت مہنگا تھا،جبکہ اس سیٹلائیٹ کی کل قیمت چار سو ملین ڈالر تھی۔افریقی ممالک بہت عرصہ عالمی اداروں کے چکر لگاتے رہے کہ انہیں یہ رقم مہیا کی جائے تاکہ وہ یہ سہولت خرید کر اپنا قیمتی سرمایہ بچا سکیں ۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف اپنے روایتی ہتھکنڈوں سے افریقیوں کو ٹالتے رہے ۔ حتی کہ لیبیا کے کرنل قذافی نے اس سیٹلائیٹ کے لیے درکار رقم میں سے تین سو ملین یوایس ڈالر کی خطیر رقم پیش کر دی ، پچاس ملین یو ایس ڈالر ایک افریقی بینک نے اور ستائیس ملین یو ایس ڈالر دوسرے بینک نے دیئے یوں افریقہ اپنی سیٹلائیٹ کا مالک بن گیا ۔ یورپ کے لیے یہ سالانہ پانچ سو ملین یوایس ڈالر کا نقصان تھا ۔ جسے ہضم کرنا یورپی طاقتوں کے لیے ممکن نہیں تھا۔ اس سیٹلائیٹ کے سبب افریقہ میں ذرائع مواصلات کا ایک انقلاب آیا پورا افریقہ ٹیلی فون، ٹیلی وژن، ریڈیو براڈکاسٹنگ کے رشتے میں جڑ گیا ۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے فاصلاتی تعلیم، ٹیلی میڈیکیشن کا آغاز ہوااور یہ سہولیات افریقہ کے دور دراز دیہاتوں تک پہنچنا شروع ہوئیں۔2010ءمیں روس اور چین کے تعاون سے مغربی افریقہ ، نائجیریا، انگولا او ر الجیریا نے اپنی سیٹلائیٹس فضا میں بھیجیں جبکہ 2020ءمیں الجیریا ملک میں تیار کردہ سیٹلائیٹ فضا میں روانہ کرے گا۔

یوں کرنل قذافی اپنے اس اہم اقدام کے سبب افریقہ کے ایک اہم قائد کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ اسی طرح افریقی مانیٹری فنڈ کے قیام کا قضیہ بھی عجیب ہے۔ اہل دانش جانتے ہیں کہ استعماری چنگل سے نجات کے لیے عالمی سرمایہ دارنہ نظام کا طوق گلے سے اتارنا کس قدر اہم ہے ۔ افریقی مانیٹری فنڈ کا قیام اسی سلسلے کی ایک کاوش تھی ۔بیالیس بلین امریکی ڈالر کی خطیر رقم سے 2011ءمیں اس فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا اسی طرح نائجیریا میں سنٹرل افریقن بینک کی بنیاد رکھی گئی ، ان دونوں مالیاتی اداروں کا قیام افریقن یونین کے قیام میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ان مالیاتی اداروں کے قیام اور فعالیت کے بعد افریقہ عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی کے شکنجوں سے نکل کر ایک آزاد طاقت کے طور پر ابھرے گا۔ مانیٹری فنڈ کے قیام میں بھی کرنل قذافی اور الجیریا نے بنیادی کردار ادا کیا ۔بعض تجزیہ نگارووں کا خیال ہے کہ لیبیا کے بعد مغربی طاقتوں کا اگلا ہدف الجیریا ہے جس کے معدنی وسائل کے علاوہ اثاثوں کی کل تعداد 154بلین یورو ہے۔ استعماری معیشت کی ترق
ی میں افریقی افرادی قوت کا بہت اہم کردار رہا ہے جس کا اعتراف امریکی ماہر معاشیات ایڈم سمتھ نے 1856ءمیں منعقدہ برلن کانفرنس میں ان الفاظ میں کیا: سیاہ فام غلاموں پر انحصار کرنے والے ممالک کی معیشت اس روز جہنم رسید ہو جائے گی جس روز یہ(افریقی ) بیدار ہوئے۔

افریقا کی اپنی سیٹلائٹس، اپنا معاشی نظام، اپنی کرنسی ، اپنے مالیاتی ریزورز ایڈم سمتھ کی بیان کردہ بیداری کا عملی مظاہرہ ہیں ۔ یہ چیزیں مغرب میں موجود سرمایہ دار اشرافیہ کے لیے قابل برداشت نہیںتھیں۔کرنل قذافی افریقہ میںآنے والی بیداری کا سرخیل تھا ۔ اس نے افریقن یونین کا نظریہ پیش کیا جس کا سدباب کرنے کے لیے یونین آف میڈیٹرین کا قیام عمل میں لایا گیا ۔یہ منصوبہ ناکام ہوا کیونکہ قذافی اس کا حصہ نہ بنا۔ اسے معلوم ہو گیا کہ چند افریقی اور ستائیس یورپی ممالک پر مشتمل اس اتحاد کا کیا مقصد ہے۔

بیان کردہ حالات کے تناظر میں نہایت ضروری تھا کہ کرنل قذافی اور لیبیا پر فقط اقتصادی پابندیوں سے معاملہ حل ہونے والا نہیں ہے بلکہ اس شخصیت کو راستے سے ہٹایا جانا نہایت ضروری تھا۔یہی سبب ہے کہ جمہوریت کا آزمودہ اور پرانا راگ الاپتے ہوئے اس ملک میں عوام کو حکومت کے خلاف قیام پر اکسایا گیا۔ جب عوام سڑکوں پر نکلی تو ان کی بھرپور مدد کی گئی ۔ حکومت نے جب حالات کو کنڑول کر لیا تو لیبیا میں مسلح کارروائیوں کا آغاز ہوا۔ مغرب کے مکروہ بیوپاری جمہوریت کے تحفظ کی آڑ میں لیبیا پر پل پڑے ۔ لیبیا میں نو فلائی زون کا اطلاق کیا گیا ، مخالف قوتوں کو فوجی مدد مہیا کی گئی ، حکومتی و فوجی ٹھکانوں پر نیٹو افواج کی جانب سے بمباری کا سلسلہ شروع ہوا اور یوں آخر کار کرنل قذافی کو انجام تک پہنچا دیا گیا ۔ آج لیبیا مختلف گروہوں کا میدان جنگ ہے جس میں مغرب نواز جمہوریت پسندوں ،مشرق وسطی کی حکومتوں کے حمایت یافتہ شدت پسندوں کے علاوہ داعش بھی سرگرم عمل ہے۔ داعش یعنی دہشت گرد، دہشت گرد یعنی مغربی طاقتوں کے لیے فوجی قوت کے استعمال کا بہانہ، ملکوں کے امور میں مداخلت کی کلین چٹ۔نیلسن مینڈیلا اور کرنل قذافی کے بعد افریقہ کیسے اتحاد اور استحکام نیز سامراجی قوتوں سے آزادی کے ٹریک پر واپس آتا ہے اور اسے اس مقصد کے لیے کتنا عرصہ درکار ہے یہ تو وقت بتائے گاتاہم سامراجی جال افریقہ میں ایک مرتبہ پھر کامیابی سے ڈالا جا چکا ہے۔جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button