پاکستانی شیعہ خبریں

عوام کو تکفیری دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر حکمران خود محلوں میں قلعہ بند ہوگئے ہیں، سراج الحق

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ملک میں امن ہوگا تو سیاست، جمہوریت اور حکومت چلے گی۔ امن کی کوششوں کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔ ابھی کوئٹہ سانحہ کے شہدا کا کفن میلا نہیں ہوا کہ ایوانوں کے اندر بیٹھے لوگ آپس میں دست و گریبان ہوگئے ہیں۔ یہ وقت ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور دوسروں کو واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینے کا ہے۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کوئٹہ دھماکہ میں شہید ہونے والوں کے گھروں میں جا کر تعزیت اور ہسپتال میں زخمیوں کے عیادت کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبد الحق ہاشمی اور سابق امیر عبد المتین اخوند زادہ بھی موجود تھے۔ دہشت گردی کے عفریت سے نپٹنے کیلئے سب کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو تکفیری دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر حکمران خود بڑے بڑے محلوں میں قلعہ بند ہوگئے ہیں۔ کوئٹہ کربلا بن چکا ہے، کراچی ٹارگٹ کلنگ کا شہر اور پشاور بارود میں جل رہا ہے۔ جن لوگوں نے قوم کو تحفظ دینا تھا وہ آپس میں الجھ رہے ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں کوئٹہ سانحہ کے سے سبق لیں اور دوسرے کسی سانحہ سے پہلے دہشت گردی کے مکمل تدارک کی منصوبہ بندی کریں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی سے بچانے امریکہ نہیں آئے گا اس آگ کو ہمیں خود ہی بجھانا پڑے گا۔ مگر اس کے لئے ایک حوصلے اور عزم کی ضرورت ہے۔ واقعہ میں ملوث تکفیری دہشتگردوں کا سراغ لگانے کیلئے حکومت اور سیکورٹی اداروں کو جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، اگر واقعہ کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے تو حکمرانوں کو کسی خوف اور دباؤ کے بغیر بھارتی دہشت گردی کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کی روحوں کو تسکین پہنچانے کیلئے مجرموں کی گرفتاری تک ہمیں چین سے نہیں بیٹھنا چاہئے۔ حکمرانوں کو بھی خواب غفلت سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے تاکہ عوام بھی سکھ کا سانس لے سکیں اور چین کی نیند سوسکیں۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ الخدمت فانڈیشن نے شہدا کے گھرانوں کی کفالت کرنے اور بچوں کے تعلیمی اخراجات اٹھانے کا یقین دلایا ہے۔ الخدمت کے رضاکاروں نے زخمیوں کو خون دینے میں سبقت لی جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button