مضامین

قائد ملتِ جعفریہ مفتی جعفر حسین مرحوم، ایک کردار، ایک مثال

تحریر: ارشاد حسین ناصر

اس مادی دنیا میں جب انسان ہر طرف سے شیطانی و حیوانی حملوں و ہوس کا شکار ہونے کی طرف مائل رہتا ہے, جو لوگ اپنے نفس پر کنٹرول کرتے ہیں اور مادی دنیا کی طرف رغبت نہیں کرتے بلکہ خدا کی ذات بابرکات اور اس کی پسندیدہ شخصیات کے فرامین و اقوال اور ان کے بتائے ہوئے راستے و راہ کو نہیں چھوڑتے، ہر قسم کے حالات کا مقابلہ استقامت اور جانفشانی سے کرتے ہیں، انہی علماء کو انبیاء کا وارث و امین کہا گیا ہے۔ یہ لوگ اگرچہ آٹے میں نمک کے برابر بھی ہوں، انتہائی قلیل ہوں، اس دنیا اور زمین پر رحمت اور برکات الٰہی کے نزول کا سبب ہوتے ہیں۔ علماء الرسول کے امین ہیں، کہیں کہا گیا علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ اس لحاظ سے ہم پابند ہیں کہ وہ علماء جو انبیاء کی وراثت کا حق ادا کر رہے ہیں، ان کا ساتھ دیں، ان کے ہاتھ مضبوط کریں، ان کے مقصد اور فکر کو آگے بڑھائیں، ان کی سوچ کو عام کریں اور دنیا کو ان کے پیغام سے روشناس کریں۔ فرمان معصوم ہے کہ جو صبح اٹھے اس حال میں کہ مسلمانوں کے امور کی فکر نہ کرے، وہ مسلمان ہی نہیں ہے۔ اس فرمان معصوم کی روشنی میں اگر ہم آج کے دور کا جائزہ لیں تو ہمیں ان علمائے ربانیون کا ساتھ دینا ہوگا، جو اس فکر و فرمان پر عمل کرتے ہوئے موجودہ دور میں امور مسلمین انجام دینے کیلئے صبح و شام ایک کئے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں ستر کے عشرہ میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی اور ملک ایک فوجی جرنیل کے ہاتھ میں یرغمال ہوا تو ملت تشیع کا ایک ستارہ ایسا تھا، جو بظاہر ناتوان اور کمزور و بیمار دکھائی دیتا تھا، مگر اس کا کردار، عزم اور حوصلہ پہاڑوں سے مضبوط اور قوی تھا، یہ شخصیت یہ دمکتا ستارہ کوئی اور نہیں قبلہ علامہ مفتی جعفر حسین مجتھد تھے، جو اس دور میں ملت تشیع کی نمائندگی کا حق ادا کر رہے تھے، اس وقت جب ملک پر آمریت کا منحوس سایہ ہر ایک کو چاٹ جانے کیلئے سر توڑ کوششیں کر رہا تھا۔ ملت تشیع نے اسے للکارا اور اپنے مطالبات کے حق میں ایک تحریک شروع کی، جس کا نام تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان رکھا گیا۔ مفتی جعفر حسین اس کے قائد اور سالار ٹھہرے۔ اس کے بارے ہم بعد میں ذکر کریں گے، اس سے قبل مختص طور پر ان کے حالات سے آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے۔ مفتی جعفر حسین قبلہ کا بنیادی تعلق گوجرانوالہ سے تھا، جہاں آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد حکیم چراغ دین اور چچا حکیم شہاب دین سے حاصل کی۔ بعد ازاں آپ لکھنؤ چلے گئے، تاکہ علوم دینی اور ادب و ثقافت سے آشنائی حاصل کرسکیں۔

لکھنؤ ان دنوں ادب و ثقافت اور علوم دینی کا مرکز تھا، یہاں ادبی محافل و تقریبات اور مختلف پروگرام ہوتے تھے، کسی بھی پیاسے کی پیاس بجھانے کے وافر مواقع ملتے تھے اور شعور و فکر کی بلندی کیلئے اس سے بڑھ کر کوئی اور جگہ شائد نہ تھی۔ مفتی صاحب کو لکھنؤ میں جناب استاد مولانا ابولحسن عرف منن صاحب جو مدرسہ ناظمیہ سے متعلق تھے، کی شاگردی نصیب ہوئی۔ اس کیساتھ ساتھ علامہ علی نقی نقن، مفتی احمد علی اور مولانا ظہور الحسن صاحب سے مستفیض ہونے کا بھرپور موقعہ ملا۔ نو سال تک لکھنؤ میں زیر تعلیم رہنے کے بعد آپ 1935ء میں مزید علوم دینیہ کے حصول کیلئے اس وقت کے حوزہ علمیہ نجف اشرف عراق تشریف لے گئے، جہاں آقائے ابولحسن اصفہانی جیسے اساتذہ کی شاگردی کی اور مستفید ہوئے، وہیں پر آپ کی ملاقات مولانا اظہر حسن زیدی قبلہ سے ہوئی اور یہ ملاقات گہری دوستی و تعلق میں تبدیل ہوگئی۔، مولانا اظہر حسن زیدی پاکستان کے بلند پایہ خطیب اور ادبی نابغہ کے طور پر معروف ہوئے، ان کی تقاریر اور تحریریں آج بھی خطابت کیلئے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہیں، نجف میں پانچ برس قیام اور علوم آل محمد سے فیض یاب ہونے کے بعد آپ واپس لوٹے تو اس وقت آپ کا تعارف مفتی جعفر حسین کے نام سے ہوا، آپ نے پہلے دو برس تو نوگانواں سادات ضلع مراد آباد میں بطور دینی مدرس گذارے۔ اس کے بعد آپ واپس اپنے آبائی علاقہ گوجرانوالہ تشریف لے آئے۔

مفتی جعفرحسین مرحوم ایک مرتبہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور دو بار اسلامی مشاورتی کونسل کے رکن منتخب کئے گئے۔ ان کے ساتھ دینی خدمات سرانجام دینے کیلئے علامہ حافظ کفایت حسین اور علامہ رضی مجتھد ہوتے تھے۔ آپ نے 1951ء میں علماء کے بائیس نکات پر متفق ہونے کی تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اس تحریک میں آپ کے ساتھ علامہ حافظ کفایت حسین مرحوم بھی فعال کردار ادا کر رہے تھے۔ 1979ء میں بھکر میں آل پاکستان شیعہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں پوری قوم نے بڑھ چڑھ کر شرکت کی، اس کنونشن میں مفتی جعفر حسین قائد ملت جعفریہ منتخب ہوئے۔ اس وقت پہلی بار یہ نعرہ فضا میں گونجا کہ "ہمارا رہبر تمھارا رہبر مفتی جعفر مفتی جعفر”۔ اس موقعہ پر جب ملک میں مارشل لا نافذ ہوچکا تھا، آپ نے ملت تشیع کی طرف سے حکومت کو شیعہ مطالبات پیش کئے۔ ان مطالبات کو منظور کرانے کیلئے مفتی جعفر حسین قبلہ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت سے مستعفی ہونے کی مہلت دی۔ 30 اپریل 1979ء تک مطالبات تسلیم نہ کئے جانے پر آپ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت سے استعفی دے دیا۔ حکومت نے آپ کا استعفٰی منظور نہ کیا اور ان کو تنخواہ برابر بھیجتے رہے، جسے آپ نے بصد شکریہ واپس کر دیا اور کہا کہ جب کام نہیں کیا تو تنخواہ کس بات کی۔؟

یہ آپ ہی کی جرات تھی، آپ بے حد نڈر اور بیباک تھے۔ آپ صاف گو تھے اور ک
سی کو اندھیرے میں نہیں رکھتے تھے۔ اپنا ہر کام انتہائی جانفشانی اور لگن و محنت سے کرتے تھے۔ آپ دیانت و صداقت کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ آپ کی تمام زندگی انتہائی سادگی اور تصنع و بناوٹ سے بہت دور رہ کر گذری۔ ان کی سادگی کی ان گنت مثالیں آج بھی بچے بچے کو یاد ہیں۔ کئی جگہوں پر وہ جب مجلس پڑھنے یا دورہ پر گئے اور کپڑوں کو دھونے کی ضرورت محسوس کی تو انہوں نے کسی میزبان کو زحمت دینے کی بجائے خود ہی لباس دھو لیا، جبکہ وہ قائد ملت جعفریہ تھے اور علمی لحاظ سے اتنا بلند مقام رکھتے تھے کہ ان کی خدمت کرنا ہر ایک اپنے لئے سعادت و خوشبختی سمجھتا۔ اسی طرح کئی ایک جگہوں پر اس وقت کی عمومی سواری تانگہ میں سوار ہو کر چلے جاتے، لوگ ان کی سادگی کو دیکھ کرششدر و حیران رہ جاتے تھے۔ ایران کا انقلاب آیا تو انہیں ایک وفد کے ساتھ مل کر ایران کا دورہ کرنے کی سرکاری آفر ہوئی۔ آپ نے اس موقعہ پر بھی اپنی خودداری اور اخلاص کا بہترین نمونہ بطور مثال ہم سب کیلئے چھوڑا کہ حکومت ایران کو یہ کہہ کر تمام اخراجات لینے سے صاف انکار کر دیا کہ ایران میں ابھی نوزائیدہ انقلاب برپا ہوا ہے، جو ایک طویل جدوجہد کے بعد وقوع پذیر ہوا ہے، اسے خود بہت زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔ یہ بات اگر آج کے دور میں کسی کو کہی جائے تو شائد کوئی یقین نہ کرے، مفتی صاحب نے ایران میں قیام کے دوران امام خمینی سے علیحدہ ملاقات بھی کی اور مشترک ملاقات بھی ہوئی۔ اسیطرح ایران میں مقیم پاکستانی طلباء میں بھی آپ نے کچھ رقم تقسیم کی، جبکہ اسی دوران ایران کے علاقے میں آنے والے زلزلہ زدگان کی مدد بھی اپنی پاکٹ سے کی۔

مفتی جعفر حسین قبلہ کی قیادت میں سب سے اہم اور یادگار کام اسلام آباد کا تاریخی معرکہ ہے، اس کا پس منظر کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے۔۔۔یہ اپریل 1980ء کی بات ہے کہ عراق میں اسلامی انقلاب کی امید عظیم مفکر اسلام آیت اللہ باقرالصدر اور ان کی عالمہ بہن آمنہ بنت الھدی کو صدام کی بعثی و ظالم حکومت نے بدترین تشدد کرکے شہید کر دیا۔ ان کی المناک شہادت نے ہر ایک صاحب درد کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا، پاکستان کے وہ علماء اور تنظیمات بالخصوص امامیہ نوجوانان جو شہید باقر الصدر کی شخصیت سے آگاہ تھے، انہوں نے اس ظلم اور سفاکیت کے خلاف عوامی احتجاج کروائے، کئی شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور حکومت عراق تک ملت تشیع پاکستان کا غم و غصہ پہنچایا گیا۔ جب اس سے بھی مقصد پورا نہ ہوا تو اسی عنوان سے اسلام آباد میں 4/5 جولائی کو ایک کنونشن طلب کیا گیا، تاکہ پاکستانی تشیع کی طرف سے حکومت عراق تک بھرپور احتجاج پہنچایا جاسکے۔ یہ کنونشن ابھی ہونا تھا اور اس میں ابھی چند دن باقی تھے کہ 30 جون کے دن حکومت نے زکواۃ آرڈیننس جاری کیا، جس میں مکتب تشیع کے نقطہ نظر کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ اس ماحول میں مشاورت اور باہمی تجاویز کے بعد شہید باقر الصدر کی المناک شہادت کے حوالے سے ہونے والے کنونشن کو نفاذ فقہ جعفریہ کے عنوان سے منانے کا اعلان ہوا۔ جس کی توثیق قائد ملت جعفریہ نے بھی کر دی۔ اس کنونشن میں جہاں دیگر تنظیموں اور شخصیات نے اہم کردار ادا کیا، وہاں ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید اور نوجوانان امامیہ (آئی ایس او پاکستان)نے بھرپور کردار ادا کیا۔

ہاکی گراؤنڈ اسلام آباد میں ہونے والے اس کنونشن میں ملک بھر سے ملت جعفریہ کے سپوتوں، علماء، ذاکرین، زعمائے ملت، شعرائے قوم، طالبعلموں نے بھرپور شرکت کی اور اپنے جذبات و احساسات کو ملکی سطح پر حکمرانوں تک پہنچایا۔ قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین نے اس جلسہ اور احتجاج کی صدارت کی۔ اس احتجاج اور دھرنے کے دوران وزارت مذہبی امور اور صدر مملکت سے مذاکرات کے کئی دور چلے اور بالآخر حکومت کو ملت جعفریہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور ایک معاہدہ رو بہ عمل لایا گیا، جس کی رو سے یہ طے ہوا کہ جو بھی اسلامی قانون بنے گا، اس میں فقہ جعفری کا خیال رکھا جائے گا اور زکواۃ آرڈیننس میں بھی ترمیم کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ ایسا نہیں تھا کہ اہل تشیع زکواۃ دینے سے انکاری تھے بلکہ حکومت کے طریقہ کار اور کرنسی نوٹوں پر زکواۃ دینے کے شرعی مسئلہ پر اپنا جدا موقف رکھتے تھے، جس پر احتجاج کیا گیا۔ ملت جعفریہ کی اس جدوجہد کا فائدہ آج بلا تفریق تمام مسالک کے لوگ اٹھا رہے ہیں۔ مفتی جعفر حسین قبلہ کی جدوجہد کا یہ باب کسی بھی طور بھلایا نہیں جا سکتا۔ جب بھی کوئی تنظیم یا گروہ پاکستان اسلام آباد میں اپنے مطالبات کے حق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے سراپا احتجاج ہو تو تو ملت جعفریہ کی تاریخی جدوجہد کے مناظر بھی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔

مفتی جعفر حسین قبلہ علمی خدمات کا سب سے بڑا نشان اور علامت گوجرانوالہ میں جامعہ جعفریہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ بر لبِ جی ٹی روڈ قائم ہے، وسیع و عریض رقبہ پر مشتمل اس درسگاہ کو مفتی صاحب کے خوابوں کی تعمیر نہ بنا سکے۔ احباب نے ان کی رحلت کے بعد اس طرح اہمیت نہیں دی، جو اس کا حق تھا۔ مفتی صاحب مرحوم نے ایک کتاب بعنوان سیرت امیر المومنین علیہ السلام تحریر فرمائی، جبکہ مولا علی علیہ السلام کے خطبات و خطوط و کلمات قصار کے معروف مجموعہ نھج البلاغہ کا ترجمہ و تشریح کی۔ جسے اہل علم و ادب بہت پسند کرتے ہیں۔ آپ کے اردو ترجمہ کو ادبی ذوق رکھنے والے حضرات اور الفاظ و معانی کی قدر جاننے والوں کے ہاں بہت اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ مفتی صاحب قبلہ نے صحیفہ کاملہ کا بھی ترجمہ و تشریح کی ہے، وہ پھیپھڑوں کے سرط
ان میں مبتلا ہوگئے تھے۔ پہلے میو ہسپتال لاہور، پھر لندن اور لندن سے پھر واپس لاہور لائے گئے، ان کا انتقال 29 اگست 1983ء کو میو ہسپتال لاہور میں ہوا۔ ان کی میت کو پہلے تو گوجرانوالہ لے جایا گیا، بعد ازاں انہیں لاہور لایا گیا۔ ان کی نماز جنازہ کا اعلان مینار پاکستان پر کیا گیا۔ نماز جنازہ میں سرکاری و حکومتی نمائندگان اور علماء کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی۔ بعد ازاں انہیں کربلا گامے شاہ لاہور میں دفن کیا گیا۔ مفتی صاحب کی رحلت کے بعد قوم بے سائباں کے ہوگئی۔ تقریباً چھ ماہ تک بغیر قیادت کے رہی۔ بعد ازاں فروری 1984ء میں بھکر میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی سپریم کونسل کا اجلاس بلایا گیا، جس میں 10 فروری 1984ء کو علامہ عارف حسین الحسینی کی انقلابی و روحانی شکل میں قائد نصیب ہوا۔ آپ قائد منتخب ہوئے تو ایک سازش کے تحت قوم دو حصوں میں تقسیم کر دی گئی۔ اس کے باوجود شہید قائد نے ناصرف مفتی صاحب کی کمی کو پورا کیا بلکہ ایسے سنگ میل طے کئے کہ اس معیار پر پورا اترنا شائد ہی کسی کو نصیب ہو۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Back to top button