Uncategorized

کراچی میں جاری شیعہ نسل کشی نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے ؟ ذین رضا

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )شہر کراچی میں جاری شیعہ نسل کشی نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے یا سعودی پلان کا ؟نیشنل ایکشن پلان اور کراچی آپریشن کالعدم تکفیری دہشتگردوں کے لئے ایک کھیل بن گیا ہے،جب تک کالعدم دہشتگرد گروہوں اور انکے سہولت کاروں کے خلاف صدقِ دل سے کاروائیاں نھیں ہونگی تکفیری دہشتگرد یہ خونی کھیل کھیلتے رہیں گےاور قانون نافذ کرنے والے ادارے ریفری کا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع وسطی کے سیکریٹری جنرل ذین رضا نے کالعدم سپاہِ صحابہ (اہلسنت و الجماعت) کے دہشتگردوں کی جانب سے کراچی کے علاقےایف سی ایریا میں امام بارگاہ در عباسؑ پر دستی بم حملے کے بعد جائے وقوعہ کے دورے کےموقع پر وہاں موجود مومنین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات ضلع وسطی عرفان حیدر ،سیکریٹری تنظیم سازی عامر جعفری اور دیگر عہدیداران بھی انکے ہمراہ تھے۔ذین رضا نے کہا کہ محرم الحرام کے آغاز سے لیکر اب تک کراچی کے حساس علاقوں گلستانِ جوہر اور گلشن اقبال میں ملتِ تشیع پر کئے جانے والے حملوں کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو محرم الحرام کے اجتماعات کے علاوہ دیگر عوامی اجتماعات اور مقامات کی سیکیورٹی کرنے کے بجائےشھدائے کاسانحہ رساز کی یاد میں ناچنے والوں کی حفاظت میں مصروف رہی، اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی کی معروف شیعہ مقتل گاہ ایف سی ایریا کی سرزمین ایک بار پھر تکفیری دہشتگردوں کے حملے میں خون سے تر ہوگئی۔

ذین رضا نے مزید کہا کہ ملتِ تشیع پاکستان کہ جو اس پاک وطن میں سب سے ذیادہ دہشتگردانہ حملوں کا نشانہ بنی ، نے ہی سب سے پہلے ملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کی نا صرف حمایت کی تھی بلکہ ناصرِ ملت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پاک فوج کے سربراہ کو دہشتگردی کے خلاف جنگ پاک فوج کا ساتھ دینے کے لئے ایک لاکھ شیعہ جوانوں کی خدمات پیش کرنے کی بھی پیشکش کی تھی۔باوجود اس کے کہ پاکستان کے گلی کوچے شیعہ جوانوں کے پاک لہو سے تر ہیں ،ہم نے کبھی شیعہ قتلِ عام پر ملک دشمن ،اسلام دشمن بیرونی طاقتوں کو مدد کے لئے پکارا اور نا ہی کبھی اس وطن کے خلاف کھڑے ہوئے، بلکہ پاکستان میں بسنے والے شیعانِ علیؑ نے اس ملک کے دفاع اور اس کی ترقی کے لئے اپنی جا،،مال ،عزت و آبرو کو بھی قربان کرنے سے بھی کبھی گریز نھیں کیا۔

مجلس وحدت مسلمین ضلع وسطی کے سیکریٹری اطلاعات عرفان حیدر نے اس موقع پر کہا کہ ایک جانب توملک دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان اور کراچی آپریشن شروع کیا جاتا ہے لیکن دوسری جانب اسی ایکشن پلان اور آپریشن کو شیعانِ علیؑ اور عزاداری کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ تکفیری دہشتگرد گروہ کبھی دفاعِ صحابہ اور کبھی دفاعِ پاکستان کے نام پر سرِ عام ریلیاں،جلسے جلوس منعقد کرکے نیشنل ایشن پلان اور کراچی آپریشن کے منہ پر کالک مل رہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کو تحفظ فراہم کررہے ہیں۔انھوں نے سوال کیا کہ کہا آرمی پبلک اسکول میں شھید ہونے والے بچوں کے نام پر گانے بنانے والوں کو پاکستان بھر میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے بچوں کے خوں بھرے چہرے دکھائی نھیں دیتے ؟کیا آرمی پبلک اسکول اور ایف سی ایریا میں شھید ہونے والے دس سالہ معصوم شھید فرا ز حسین کے خون میں فرق ہے ؟

عرفان حیدر نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہونے والی شیعہ نسل کشی میں ملوث گرفتار ایک بھی تکفیری دہشتگرد کو پھانسی نھیں دی گئی، جبکہ وفاقی و صوبائی حکومتیںسعودی ایماء پر بیلنس پالیسی کے تحت شیعہ علماء و زاکرین اور رہنماؤں کے نام فورتھ شیڈیول میں ڈال کر انکی پاکستانی شہریت تک منسوخ کررہی ہے۔انھوں نے سوال کیا کہ کیا آپریشن ضربِ عضب،نیشنل ایکشن پلان اور کراچی آپریشن بانیانِ پاکستان کی اولادوں کے سفاکانہ قتلِ عام اور انکی پاکستانی شہریت منسوخ کرنے کے لئے شروع کیا گیا تھا ؟ اور پاکستان میں جاری نسل کشی نیشنل ایکشن پلان،کراچی آپریشن کی بنیاد ہے یا اس قتلِ عام میں سعودی پلان کا عمل دخل شامل ہے ؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button