Uncategorized

جھنگ کے ضمنی انتخابات کے بعد نیشنل ایکشن پلان اپنی افادیت مکمل طور پر کھو چکا ہے، علامہ مختار امامی

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مختار امامی نے کہا ہے کہ کالعدم جماعتوں کے سرگرم اراکین کو سیاسی دھارے میں شامل کرنے کے لئے مواقع فراہم کرنا، ملک کو مزید تباہی سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔ وحدت ہاؤس میں کارکنان سے جھنگ الیکشن پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کالعدم جماعت لشکر جھنگوی ملک میں دہشت گردی کی ہونے والی متعدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا خود اعتراف کرچکی ہے، قومی سلامتی کے تمام ادارے اس بات سے باخبر ہیں کہ مسرور جھنگوی کا تعلق کس گروپ سے ہے، ایسے شخص کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے کر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی رہی سہی ساکھ بھی تباہ کر دی ہے۔ اب یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ملک کے مقتدر اداروں کے ذمہ داران کے فیصلے قانون و آئین کے مطابق ہونے کی بجائے کہیں اور سے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر اس تاثر کو دانستہ طور پر تقویت دی جا رہی کہ پاکستان میں انتہا پسند جماعتوں کو عوامی تائید حاصل ہے اور پاکستان کی عوام تکفیری گروہوں کی حامی ہے، عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ثابت کرنے کی اس کوشش کو ناکام بنانے کے لئے تمام معتدل سیاسی و مذہبی قوتوں کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ علامہ مختار امامی کا مزید کہنا تھا کہ حکمرانوں کو پاکستان کی سالمیت و استحکام سے کوئی غرض نہیں، ان کے سارے اثاثے بیرون ممالک میں ہیں، یہ ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل کے لئے اقتدار پر مسلط ہیں، قانون و اختیارات کو انتقامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بنایا جانے والا نیشنل ایکشن پلان جھنگ الیکشن کے بعد اپنی افادیت مکمل طور پر کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرح تکفیری اور انتہا پسند عناصر کو الیکشن جتوا کر اسمبلیوں میں لایا جاتا رہا، تو پھر دہشت گرد آزاد اور عام شہری اپنے گھروں میں مقید دکھائی دیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button