Uncategorized

گذشتہ دو سال میں نیشنل ایکشن پلان پرعمل نہیں کیا گیا، فوجی عدالتوں کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے، شیعہ سنی عمائدین

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے صوبائی سیکرٹریٹ میں شیعہ سنی علماء عمائدین کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں سید نوبہار شاہ، علامہ وقارالحسنین نقوی، ڈاکٹر امجد حسین چشتی جمعیت علمائے پاکستان نیازی، پیر ایس اے جعفری، پیر اختر رسول قادری، صاحبزادہ بلال چشتی، مولانا اصغر عارف چشتی، پروفیسر فاروق احمدسعیدی، علامہ سید حسن رضا ہمدانی، سید محمد نثار صفدر نقوی ایڈووکیٹ، سید حسن کاظمی، علامہ محمد علی حسنین نجفی، رائے ناصر علی، رانا ماجد علی، ممتاز حسین بھٹہ ایڈووکیٹ، فیاض گوندل ایڈووکیٹ، سید ظہیر حیدر زیدی، طاہر ہاشمی ایڈووکیٹ، سید صادق حیدر کرمانی، علامہ سید صبیح حیدر شیرازی، عرفان حیدر نقوی ایڈوکیٹ، زیڈ ایچ جعفری ایڈوکیٹ، آغا علی عمران ایڈوکیٹ نے شرکت کی، اجلاس میں دہشتگردی کے المناک سانحوں کی پرزور مذمت اور ملک بھر میں آپریشن ردالفساد کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان کیا گیا، اجلاس کے بعد شیعہ سنی رہنماوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک بدترین دہشت گردی کا شکار ہے، پاک فوج اور سیکیورٹی ادارے مسلسل اس ظلم و بربریت کیخلاف برسر پیکار ہیں، لیکن حالیہ لاہور مال روڈ اور حضرت لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر ہونے والے واقعات نے ساری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے، آج لاہور ڈیفنس میں معصوم پاکستانیوں کی شہادت پر پوری قوم سوگوار ہیں، ساری قوم اس صدمے میں مغموم ہے کہ لاہور میں دو اعلیٰ ترین پولیس افسران سمیت 15 افراد اور سیون شریف میں قریباََ 100 افراد شہید اور 350 زخمی ہوئے، یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ گذشتہ دو سال میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کیا گیا، فوجی عدالتوں کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے، جن لوگوں کو انہوں نے سزائیں دی ان پر عمل درآمد نہ ہوسکا اور ان کی مدت ختم ہو گئی، جس سے دہشت گرد دیدہ دلیری سے ہمارے شہروں پر حملہ آور ہیں، لاہور خودکش حملہ کے سہولت کار کو جس طرح فوری گرفتار کیا گیا اور پھر اس کے انکشافات پر مزید گرفتاریاں ہوئیں یہ حساس اداروں کی کاروائیاں لائق تحسین ہیں۔ رات پاک فوج کی طرف سے جس ردالفساد آپریشن کا اعلان ہوا اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی جو کہ ہمارا درینہ مطالبہ تھا پر بھی تحسین پیش کرتے ہیں، اہلسنت اور اہل تشیع کا یہ نمائندہ فورم دہشتگردی کیخلاف ملکی سلامتی کے اداروں کو مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہے۔ 

شیعہ سنی رہنماوں نے مزید کہا کہ سیہون شریف خودکش حملہ کے بعد دربار حضرت بی بی پاکدامن کو بند کر دیا گیا، جبکہ جہاں سیہون شریف میں خودکش حملہ ہوا اور سینکڑوں افراد شہید و زخمی ہو گئے اسے دوسرے روز ہی کھول دیا گیا، پنجاب کے تمام دربار کھلے تھے لیکن دربار حضرت بی بی پاکدامن 16 فروری سے رات تک مسلسل بند رہا۔ جس سے ملک بھر کے زائرین میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑ گئی، اسے خاندان نبوت (ص)سے عقیدت رکھنے والوں نے اپنے ساتھ امتیازی سلوک سمجھا، کیونکہ ایام شہادت دختر رسول اعظم (ص)حضرت فاطمہ زہرا شروع ہو رہے تھے جن میں دربار پر مجالس عزا بپا ہوتی ہیں اور ہزاروں زائرین بی بی پاکدامن کو پرسہ دیتے ہیں، اسی سلسلہ میں مختلف شیعہ سُنی تنظیمیں اپنی سطح پر انتظامیہ سے دربار کھولنے کیلئے کوششیں کرتی رہیں، رات گئے حکومت نے دربار کھول دیا ہے۔ ہم اس اقدام کی قدر کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ دربار بی بی پاکدامن کی سیکیورٹی کیلئے رینجرز تعینات کی جائے۔ دربار بند کرنا نامناسب ہے۔ نیز ہم آج صبح ڈیفنس لاہور میں ہونے والے دھماکہ کی بھی مذمت کرتے ہیں اور دہشت گردوں سے لڑنے کیلئے سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ تیار ہیں۔

 

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button