مشرق وسطی

نئے سال کے موقع پر بحرین میں آمریت مخالف مظاہرے

نئے سال کے پہلے روز ہونے والے بھرپور عوامی مظاہروں میں شریک لوگ، ملک پر مسلط خاندانی آمریت کے خاتمے اور ہر قسم کے قبائلی، نسلی اور مذہبی تعصبات سے پاک جمہوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کر رہے تھے۔

بحرین کے سیکورٹی اہلکاروں نے، جنہیں سعودی فوج کی بھی حمایت حاصل تھی، مشرقی شہر سترہ میں مظاہرہ کرنے والے پرامن شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور آنسو گیس کا بے تحاشہ استعمال کیا۔
مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں سعودی عرب میں سزائے موت دے کر شہید کیے جانے والے سرکردہ عالم دین آیت اللہ باقر النمر اور انقلاب بحرین کے دیگر شہیدوں کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں۔
دوسری جانب بحرینی نوجوانوں کے چودہ فروری نامی اتحاد نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے حکومت بحرین کی حمایت جاری رکھنے کے اعلان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
بحرینی نوجوانوں کے چودہ فروری نامی اتحاد کے پریس سیکریٹری ابراہیم العرادی نے کہا ہے کہ بحرین کی جیلوں میں متحدہ عرب امارات کے فوجی، قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ پرامن مظاہرین کے قتل عام میں بھی متحدہ عرب امارات کا کردار خطرناک شکل اختیار کر گیا ہے۔
متحدہ عرب امارت کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی حکومت بحرین کی آل خلیفہ حکومت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی۔
ابراہیم العرادی نے انور قرقاش کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بحرین میں متحدہ عرب امارات کے فوجیوں کی موجودگی اور عام شہریوں کے قتل میں اس کی مشارکت میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور یہ کسی ملک کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔
درایں اثنا بحرینی صحافیوں کی انجمن نے شاہی حکومت کی جانب سے آزادی بیان کی پامالی کے واقعات میں اضافے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
بحرینی صحافیوں کی انجمن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سن دو ہزار اٹھارہ کے دوران حکومت کی جانب سے چھیاسی معاملات میں آزادی بیان کے مسلمہ اصولوں کو پامال کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق گزشتہ برس کے دوران چوبیس صحافیوں کی گرفتاری کے واقعات سے ملک میں آزادی بیان کے خلاف سرکاری کریک ڈاؤن میں شدت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
بحرینی صحافیوں کی انجمن کا کہنا ہے کہ آزادی بیان کی خلاف ورزی کی وجہ پوری دنیا میں آل خلیفہ حکومت کی ساکھ برباد ہو گئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button