مضامین

27 رجب المرجب؛ رسول اللہ (ص) کی بعثت؛ مسلمانان عالم کو عید مبارک

ہجرت سے 13 سال قبل،27 رجب المرجب کو  پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت، شرک، ناانصافی، نسلی قومی و لسانی امتیازات، جہالت اور برائیوں سے نجات و فلاح کا نقطۂ آغاز ہے اور صحیح معنوں میں خدا کے آخری نبی نے انبیائے ما سبق کی فراموش شدہ تعلیمات کو از سر نو زندہ و تابندہ کرکے عالم بشریت کو توحید، معنویت، عدل و انصاف اورعزت و کرامت کی طرف آگے بڑھایا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دلنشین پیغامات کے ذریعے انسانوں کو مخاطب کیا کہ ”خبردار ! خدا کے سوا کسی کی پرستش نہ کرنا اور کسی کواس کا شریک قرار نہ دینا تاکہ تم  نجات و فلاح پا سکو“۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس پر خلوص معنوی تبلیغ نے جہالت و خرافات کی دیواریں بڑی تیزی سے ڈھانا شروع کردیں اورلوگ جوق درجوق اسلام کے گرویدہ ہوتے چلے گئے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت جو درحقیقت انسانوں کی بیداری اورعلم و خرد کی شگوفائی کا دور ہے۔
مورخین کابیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حرا میں عالم تنہائی میں مشغول عبادت تھے کہ آپ کے کانوں میں آوازآئی ” یامحمد” آپ نے ادھرادھر دیکھا کوئی دکھائی نہ دیا۔ پھرآوازآئی پھرآپ نے ادھرادھردیکھا، ناگاہ آپ کی نظرایک نورانی مخلوق پرپڑی وہ جناب جبرائیل تھے انہوں نے کہا کہ ”اقراء“ پڑھو، حضورنے ارشاد فرمایا ” مااقراء” کیاپڑھوں انہوں نے عرض کی کہ ” اقراء باسم ربک الذی خلق الخ” پھرآپ نے سب کچھ پڑھ دیا۔
مپیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ۳۸سال کی عمرمیں ” کوہ حرا ” کواپنی عبادت گذاری کی منزل قراردیااوراس کے ایک غارمیں بیٹھ کرعبادت کرتے تھے۔
پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ۳۸سال کی عمرمیں ” کوہ حرا ” کواپنی عبادت گذاری کی منزل قراردیااوراس کے ایک غارمیں بیٹھ کرعبادت کرتے تھے غارکی لمبائی چارہاتھ اورچوڑائی ڈیڑھ ہاتھ تھی اورخانہ کعبہ کودیکھ کرلذت محسوس کرتے تھے یوں تودو دو، چارچارشبانہ روزوہاں رہاکرتے تھے لیکن ماہ رمضان سارے کاساراوہیں گزراتے تھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی عالم تنہائی میں مشغول عبادت تھے کہ آپ کے کانوں میں آوازآئی ” یامحمد” آپ نے ادھرادھر دیکھا کوئی دکھائی نہ دیا۔ پھرآوازآئی پھرآپ نے ادھرادھردیکھاناگاہ آپ کی نظرایک نورانی مخلوق پرپڑی وہ جناب جبرائیل تھے انہوں نے کہا کہ ”اقراء“ پڑھو، حضورنے ارشاد فرمایا”مااقراء-“ کیاپڑھوں انہوں نے عرض کی کہ ” اقراء باسم ربک الذی خلق الخ” پھرآپ نے سب کچھ پڑھ دیا۔
کیونکہ آپ کوعلم قرآن پہلے سے حاصل تھا جبرئیل کے اس تحریک اقراء کامقصدیہ تھا کہ نزول قرآن کی ابتداء ہوجائے اس وقت آ پ کی عمرچالیس سال ایک یوم تھی اس کے بعدجبرئیل نے وضو اورنمازکی طرف اشارہ کیااوراس کی تعدادرکعات کی طرف بھی حضور کو متوجہ کیا چنانچہ حضور والا صفات نے وضو کیا اور نماز پڑھی آپ نے سب سے پہلے جو نماز پڑھی وہ ظہر کی تھی پھر حضرت وہاں سے اپنے گھرتشریف لائے اور خدیجةالکبری اور علی ابن ابی طالب علیهماالسلام سے واقعہ بیان فرمایا۔
ان دو بزرگواروں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ص)! ہم عرصہ دراز سے اس دن کا انتظار کررہے تھے۔ اور یوں دونوں ایمان لائے اور دونوں نے اظہار ایمان کیا اور نماز عصر ان دونوں نے رسول الله (ص) کی امامت مین با جماعت ادا کی یہ اسلام کی پہلی نماز باجماعت تھی جس میں رسول کریم امام اورخدیجہ اورعلی ماموم تھے۔
آپ درجہ نبوت پر ابتدا ہی سے فائزتھے، ۲۷رجب کومبعوث برسالت ہوئے اسی تاریخ کونزول قرآن کی ابتداء ہوئی۔
یہاں اس افسانے کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے جو بعض اسلام مخالف قوتوں کے لئے بھی ایک دستاویز کی صورت اختیار کرگیا ہے اور وہ یوں کہ رسول اللہ (ص) غار حرا سے آئے تو آپ (ع) کو معلوم ہی نہیں تھا کہ آپ (ص) کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا ہے؟ اور یہ کہ آپ کو بخار چڑھ گیا تھا اور ام المؤمنین سیدہ خدیجة الکبری سلام اللہ علیہا نے آپ (ص) کو چادر دی اور آپ نے چادر اوڑھ لی۔ اور پھر حضرت خدیجہ نے عرض کیا: یا محمد (ص)! فکرمندی کی کوئی ضرورت نہین ہے، میرے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل ان مسائل سے آگہی رکھتے ہیں اب ان کے پاس جاکر معلوم کرتے ہیں کہ کیا واقعہ نمودار ہوا ہے۔ دونوں ورقہ کے پاس پہنچے اور معاذاللہ ورقہ نے کہا: "لگتا ہے کہ آپ اس زمانے کے نبی ہیں”!!!؟؟؟… یہ ایک جھوٹا افسانہ ہے جو شیعہ عقائد کے مطابق بالکل باطل اور غلط ہے کیونکہ نبی اکرم (ص) نے خود ہی فرمایا ہے کہ "میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم (ع) پانی اور مٹی کے درمیان تھے”۔
بعثت کے بعد آپ نے تین سال تک نہایت رازداری اورپوشیدگی کے ساتھ فرائض انجام دیئے اس کے بعد کھلے عام تبلیغ کاحکم آگیا”فاصدع بما تؤمر“ جو حکم دیاگیاہے اس کی تکمیل کرو،
تاریخ ابو الفدا میں ہے کہ ” تین برس تک پیغمبر خدا دعوت فطرت اسلام خفیہ کرتے رہے مگر جب کہ یہ آیت نازل ہوئی” و انذر عشیرتک الاقربین” یعنی ڈرا اپنے کنبے والوں کو جو قریبی رشتہ دار ہیں….

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button