پاکستانی شیعہ خبریںہفتہ کی اہم خبریں

3 شعبان، ولادت شہنشاہ کربلا امام حسینؑ

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ادارہ شیعہ نیوز نیٹ ورک کی جانب سے تمام مومنین کی خدمت میں 3 شعبان ولادت باسعادت سردار حریت امام حسینؑ مبارک ہو۔

امام حسین علیہ السلام امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کی دوسری اولاد اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چہیتے نواسےہیں۔
احادیث اور روایات کے رو سے امام حسین (ع) کی ولادت اور دشمنان اسلام کے ہاتھوں مظلومانہ شہادت کے بارے میں آنحضرت (ع) کی ولادت سے پہلے ہی جبرئیل امین اور پیغمبرعظیم الشان (ص) نے پیشن گوئی کی تھی ۔ اس سلسلے میں جند احادیث کا یہاں پر ذ کر کیاجارہا ہے :
امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا : جبرئیل امین رسول خدا (ع) پر نازل ہوئے اور عرض کی : اے محمد(ص) ! خدائے سبحان نے آپ کی بیٹی فاطمہ الزھرا (س)سے فرزند کی بشارت دی ہے مگر اسے آپ کی شہید کردے گی ۔
پیغمبر (ص) نے فرمایا: اے جبرئيل ! میرا سلام پروردگار کو پہنچا اور کہا کہ مجھےایسی اولاد نہیں چاہئے جسے میری امت شہید کردے ۔
جبرئیل امین آسمان دوبارہ آئے اور آکر وہی پیغام دہرایا ۔
پیغمبر اکرم نے بھی وہی سوال دہرایا اور ایسے مولود کو قبول کرنے سے انکار کر د یا کہ جس کو مسلمان شہید کر ڈالیں ۔
جبرئیل امین تیسری بار آے اور کہا : اے محمد (ص)! پروردگار عالم نے سلام کہا اور تمہیں اس عظیم امر کی بشارت دی ہے کہ امامت اور ولایت کو تمہاری اسی نسل میں قرار دیا ہے ۔ پیغمبر(ص) یہ پیغام سن کر خوشحال ہوگئے‎ اور کہا کہ : میں نے قبول کیا اور اس پر راضی ہوں ۔اس کے بعد پیغمبر (ص) نے فاطمہ زھرا کو یہ الہی پیغام سنایا ۔ فاطمہ (س) نے نہایت ادب کے ساتھ جواب دیا : اے میرے پیارے بابا مجھے ایسا فرزند نہیں چاہئے کہ جو آپ کی امت کے ہاتھوں مارا جاے ۔
پیغمبر(ص) نے فاطمہ (س) کو بشارت الہی کا پیغام سنایا اور کہا : میری پیاری بیٹی ! خدائے سبحان نے میری امامت اور ولایت کو میرے اسی نواسے کی نسل میں رکھی ہے ۔

یہ خبر بھی پڑھیں 1 شعبان، ولادت عقیلہ بنی ہاشم حضرت زینب ؑ مبارک ہو

فاطمہ زہرا (س) نے بشارت الہی سن کر کہا بابا میں اس مبارک مولود کی ولادت سے راضی ہوں۔ (1)
اسی لئے پیعمبر اکرم (ص) ، فاطمہ زھرا (س) ، علی مرتضی (ع) ، جبرئیل امین اور الھی فرشتے سب اس مولود مبارک کی آمد کا بے صبری سے انتظار کررہے تھے اور آخر کار وہ لمحہ آ گيا جب 3 شعبان المعظم کو حضرت فاطمہ زھرؑا کی آغوش میں وہ مولود آیا جس کا سب کو انتظار تھا ۔
امام صادق (ع) سے روایت ہے کہ : جب امام حسین (ع) پیدا ہوئے ، جبرئل امین خدا کی طرف سے مامور ہوئے کہ ھزار فرشتوں کے ہمراہ فاطمہ زھرا (س) کے نوزاد کی مبارکبادہ کیلئے زمین پر نازل ہوں ۔ (2)
ولادت امام حسین (ع) کی برکت سے فطرس کو عذاب الہی نجات مل گئی جس کا واقعہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے ۔
امام حسین (ع) کی تاریخ ولادت کے بارے میں مورخین کے درمیان اتفاق نہیں ہے ۔ بعض نے پانچ شعبان چار ہجری اور بعض نے تین شعبان اور دوسروں نے دن کا ذکر کئے بغیر اوائل شعبان بیان کیا ہے ۔ (3)
مگر شیعوں کے درمیان تاریخ ولادت امام حسین علیہ السلام 3 شعبان المعظم اس توقیع کےذریعہ مشہور ہوئی جو امام حسن عسکری (ع) کے وکیل قاسم بن علاء ھمدانی کے پاس تھی (4)
تورات میں امام حسین (ع) کا نام گرامی ” شبیر ” اور انجیل میں ” طاب ” آیا ہے
اور آنحضرت (ع) کی کنیت ابو عبداللہ اور القاب سبط ، سبط الثانی ، سیّد ، سیّد شباب اھل الجنہ ، رشید ، طیب ، وفّی ، مبارک ، زکی اور تابع لمرضاہ اللہ ہیں (5)
پیغمبر اکرم (ص) نے امام حسن (ع) اور حسین (ع) کے متعلق ایک حدیث میں بیان فرمایا:
من أحب الحسن و الحسين أحببتہ، و من أحببتہ أحبہ اللہ، و من أحبہ اللہ أدخلہ الجنہ، و من أبغضہما ابغضتہ، من أبغضتہ أبغضہ اللہ، من أبغضہ اللہ أدخلہ النار. (6)

مآخذ:
1_ الكافي (شيخ كليني)، ج1، ص 464، ج4
2_ بحارالانوار (علامہ مجلسي)، ج43، ص 243
3_ نك: مقاتل الطالبيين (ابوالفرج اصفہاني)، ص 51؛ مناقب آل ابي طالب (ابن شہر آشوب)، ج3، ص 240؛ بحارالانوار، ج91، ص 193 و ج 34، ص 237؛ الارشاد (شيخ مفيد)، ص 368؛ منتہي الآمال (شيخ عباس قمي)، ج1، ص 280
4_ بحارالانوار، ج34، ص 237؛ الاقبال بالاعمال الحسنہ (سيد بن طاووس)، ج3، ص 303
5_ بحارالانوار، ج34، ص 237؛ كشف الغمہ (علي بن عيسي اربلي)، ج2، ص 171.
6_ الارشاد، ص 369

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button