پاکستانی شیعہ خبریں

پاراچنار، امام خمینی ٹرسٹ کے زیر اہتمام 60 جوڑوں کی اجتماعی شادیاں

رپورٹ: ایس این حسینی

تحریک حسینی پاراچنار کے توسط سے آج اتوار کو 60 نہایت غریب جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں اس پروگرام کے روح رواں، امام خمینی ٹرسٹ کے چیئرمین اور ضلع میانوالی کے معروف عالم دین علامہ سید افتخار حسین نقوی اور ان کی 40 روکنی ٹیم کے علاوہ کرم کے اہم مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نیز سول اور فوجی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران، اساتذہ کرام، صحافی اور ڈاکٹر حضرات نے بھی شرکت کی، جن میں نائب پیش امام علامہ شیخ ارمان علی، علامہ علامہ افتخار نقوی کے فرزند علامہ سید انتصار مہدی، مدرسہ امام خمینی کے شعبہ تبلیغات کے سربراہ مولانا موسیٰ رضا، بریگیڈیئر پاک فوج جناب اختر علیم، کرنل مسعود، انجمن حسینیہ کے سابق سیکرٹری حاجی نور محمد، مقامی صحافیوں کے علاوہ سچ ٹی وی کے اینکر پرسن ندیم حسین، معروف صحافی ہارون الرشید اور دیگر اہم افراد نے شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز تلاوت کلام مجید سے کیا گیا، اس کے بعد سٹیج سیکرٹری غلام قنبر عمرانی نے پروگرام کے میزبان اور صدر تحریک حسینی مولانا یوسف حسین جعفری کو دعوت خطاب دی۔ مولانا صاحب نے اپنی تقریر میں تمام شرکائے محفل کا شکریہ ادا کیا اور دولہا حضرات کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اس پروگرام میں تعاون کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس کے بعد علامہ سید عابد حسین الحسینی نے خطاب کرتے ہوئے امام خمینی ٹرسٹ کے اہداف بالخصوص اس کے چیئرمین علامہ سید افتخار حسین نقوی کی ملک بھر میں خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اسلام میں شادی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ آخر میں انہوں نے بالش خیل اور کرم کے دیگر مسائل کا ذکر کرتے ہوئے حکومت سے انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس علاقے بلکہ پاکستان کے ساتھ مخلص ہے تو اسے اس کے ہر شہری خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھنا ہوگا۔

انجمن حسینیہ کے ممبر سید رضا حسین حسینی نے پروگرام کے انعقاد پر علامہ افتخار نقوی اور علامہ عابد حسینی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے طوری بنگش اقوام کے حقوق کے حوالے سے علامہ عابد حسینی کی تقریر کی بھرپور حمایت کی اور انجمن حسینیہ کی جانب سے انہیں ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ مرکزی جامع مسجد کے نائب پیش امام علامہ ارمان علی نے اپنے خطاب میں شادی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شادی ہی کی وجہ سے دنیا میں نسل انسانی باقی ہے۔ انہوں نے تمام مخیر حضرات بالخصوص اس پروگرام کے بانی علامہ سید افتخار حسین نقوی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور اس پروگرام کے انعقاد پر خود انہیں، ان کی پوری ٹیم اور دولہا حضرات کو مبارکباد پیش کی۔

بریگیڈیئر پاک فوج جناب اختر علیم نے خطاب کرتے ہوئے شادیوں کے اس کامیاب اجتماعی پروگرام کے انعقاد پر امام خمینی ٹرسٹ، اس کے چیئرمین اور پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس کے بعد انہوں نے علامہ عابد الحسینی کی تقریر کے جواب میں کہا کہ بالش خیل اور کرم کے دیگر تمام مسائل کے پرامن حل کیلئے ہم ہر وقت کوشاں ہیں، جس کی گواہی صدر تحریک حسینی اور سیکرٹری انجمن حسینیہ بھی دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بالش خیل کا مسئلہ کافی پیچیدہ اور پرانا ہے، جو کہ ہمیں سابقین سے ورثے میں ملا ہے، جبکہ ہم انجمن حسینیہ اور تحریک حسینی کے ساتھ ملکر اس مسئلے کے حل کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم اس پر تھوڑا سا وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے امام خمینی ٹرسٹ کے لئے مبلغ ایک لاکھ روپے کا چیک بھی پیش کیا۔

ٹرسٹ کے چیئرمین علامہ سید افتخار حسین نقوی نے خطاب کرتے ہوئے امام خمینی ٹرسٹ کا تعارف کرایا اور اس ٹرسٹ کے تحت چلنے والے پروگرامات کی تفصیل بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی شادیوں کی ابتداء 2003ء میں 14 جوڑوں سے کی گئی۔ اس وقت سے اب تک 4200 سے زائد جوڑوں کی اجتماعی شادیاں کرائی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ اب تک پندرہ ہزار سے زائد افراد کے ساتھ انفرادی شادیوں میں 20 ہزار سے لیکر 40 ہزار تک کمک کی جا چکی ہے۔ انہوں نے الزھراء اکیڈمی کے چیئرمین مولانا ڈاکٹر شبیر میثمی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، جنہوں نے نہایت مختصر وقت میں اس پروگرام سے مستفید ہونے والے 60 مین سے 10 جوڑوں کی شادیاں کرانے میں تعاون فرمایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امام خمینی ٹرسٹ کے تحت 40 بیڈ پر مشتمل ایک انتہائی باسہولت ہسپتال نیز معیاری پبلک سکول بھی کام کر رہا ہے۔ اب تک ہزاروں افراد کو صحت اور اعلیٰ تعلیم کی مفت سہولیات پہنچائی جاچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت پر بھی واضح کیا ہے کہ جو کام حکومتوں کو کرنا چاہیئے تھا۔ مثلاً بچوں کو تعلیم دلانا اور علاج کرانا وہ کام اس ملک میں امام خمینی ٹرسٹ سرانجام دے رہا ہے۔ اختتام پر پروگرام میں شریک معزز مہمانون کے ہاتھوں دولہوں کو باترجمہ قرآن مجید عنایت کئے گئے اور آخر مین دعائیہ کلمات کے بعد پروگرام میں شرکت کرنے والے تمام معزز مہمانوں کی تواضع ولیمہ سے کرائی گئی۔ خیال رہے کہ اجتماعی شادیوں کے حوالے اس جیسا پروگرام پہلے اس علاقے میں کبھی نہیں ہوا ہے۔ عوام الناس نے اسے بہت پسند کیا اور اسکی بہت تعریف کی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close