
بھارت کو اندازہ نہیں، ہماری میزائل ٹیکنالوجی جدید ترین ہے، دفاعی تجزیہ کار
شیعہ نیوز:پاکستان کے دفاعی تجزیہ کاروں نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان پر من گھڑت الزام تراشی بھارت کی پرانی روایت اور ہائبرڈ وار اسکرپٹ کا حصہ ہے تاہم انہیں اندازہ نہیں کہ ہماری میزائل ٹیکنالوجی جدید ترین ہے اور بھارتی سرزمین کا ایک ایک انچ ہمارے میزائلوں کی رینج میں ہے۔
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیوں کی سوچ یہ ہے کہ ہم پاکستان کا مقابلہ نہیں کرسکتے کیوں کہ ان کی فوج شہادت کے لیے لڑتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ہندو بنیے پاکستان کے ساتھ نہیں لڑسکتے، ان کو اپنی اصلیت معلوم ہے، ان کو ان کے ملک میں کشمیری، سکھ اور منی پور کے عیسائی ماریں گے، ان کے ملک میں علیٰحدگی کی تحریکیں چل رہیں اور بنگلہ دیش کی طرف سے بھی ان کو مسائل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چین، روس، ایران دیگر اسلامی ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم کو بھارتی عزائم سے آگاہ کرنا چاہیے کہ بھارتی جارحیت سے نہ صرف پورا خطہ متاثر ہوگا بلکہ اس کے عالمی سطح پر بھی اثرات پڑیں گے۔
کیا بھارت ’اکھنڈ بھارت‘ کی شروعات کرنے کی گھناؤنی سازش کررہا ہے؟ اس سوال کے جواب میں حارث نواز نے کہا کہ بھارت یہاں غلطی پر ہے، اسے اندازہ نہیں کہ ہماری میزائل ٹیکنالوجی جدید ترین ہے، بھارتی سرزمین کا ایک ایک انچ ہمارے میزائلوں کی رینج میں ہے، اگر اس کے ذہن میں کوئی فتور، کوئی غلط فہمی ہے تو اسے نکال دے، اس وقت جہاں سے بھی یہ فالس فلیگ آپریشن کریں گے وہاں سے دھویں اور آگ کے بادل اڑتے ہوئے نظر آئیں گے، ہم انہیں گھس کے ماریں گے۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک عالمی معاہدہ ہے، کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر نہ اس معاہدے کو معطل کرسکتا ہے اور نہ ہی اس سے دستبردار ہوسکتا ہے، اس حوالے سے عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کو ویک اپ کال دی جائے گی اور نتائج سے بھی عالمی برادری کو آگاہ کیا جائے گا۔
’بھارت ایسے ڈرامے رچاکر دنیا کی توجہ مسائل سے ہٹانا چاہتا ہے‘
بعد ازاں، دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) مسعود کا کہنا تھا کہ پاکستان پر من گھڑت الزام تراشی بھارت کی پرانی روایت اور ہائبرڈ وار اسکرپٹ کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس میں 68 افراد کی ہلاکت کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا لیکن اس میں ہندو انتہا پسند ملوث نکلے جب کہ 2008 میں ممبئی حملے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپریل 2018 کے کیرالہ حملوں کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈالا گیا، 2019 کے پلوامہ حملے میں کا الزام مودی سرکار نے بغیر ثبوت پاکستان پر لگایا، تاہم سابق گورنر نے پلوامہ حملے سازش کا پردہ چاک کردیا، 2023 کے راجوڑی حملے کراکر مودی سرکار نے مسلمان مخالف بیانیے کی آگ میں تیل ڈالا۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ مسعود نے واضح کیا کہ بھارت ایسے ڈرامے رچاکر دنیا کی توجہ مسائل سے ہٹانا چاہتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھاری افواج کے ہوتے ایسا حملہ کیسے ممکن ہیں اور ایسے حملے ہمیشہ اُس وقت کیوں ہوتے ہیں جب مغربی سیاسی قیادت بھارت کا دورہ کر رہی ہو یا وہاں کوئی اہم ایونٹ ہو رہا ہو؟
واضح رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں کیبنٹ کمیٹی برائے سیکیورٹی (سی سی ایس) کے اجلاس میں اس حملے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ ’1960 کا سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو جاتا‘۔