پاکستانی شیعہ خبریںہفتہ کی اہم خبریں

آئمہ جمعہ افغانستان میں شیعہ نسل کشی کے خلاف آگہی مہم شروع کریں

افغانستان میں شیعہ نسل کشی جاری ہے جبکہ افغانستان میں اہل تشیع کی دوسری بڑی تعداد ہے جو صدیوں سے آباد ہے

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے افغانستان میں داعش کی جانب سے شیعہ مساجد پر حملوں کے بعد پاکستان بھر کے آئمہ جمعہ والجماعت سے افغانستان میں جاری مظالم پر عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔

مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری اعلامیہ میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایک عرصے سے شیعہ نسل کشی جاری ہے جبکہ افغانستان میں اہل تشیع کی دوسری بڑی تعداد ہے جو وہاں صدیوں سے آباد ہے، جس میں اکثریت ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھتی ہے۔ ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ جب بھی افغانستان میں دہشت گردی ہوئی، اس کا نشانہ زیادہ تر اہل تشیع ہی بنے، پچھلے دو ہفتوں میں نماز جمعہ کے دوران شیعہ مساجد پر حملے کیے گئے، جن میں کم و بیش ڈیرھ سو سے زائد شیعہ شہید ہوئے۔

یہ خبر بھی پڑھیں سی ٹی ڈی کی بڑی کاروائی، داعش خراسان کے 3 دہشتگرد ہلاک

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد ملت تشیع کی سکیورٹی غیر موثر دکھائی دے رہی ہے۔ مذکورہ واقعات کی ذمہ دار عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف اگر طالبان حکومت نے بھرپور کارروائی نہیں کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان حملوں میں دہشت گردوں کو طالبان کی تائید حاصل ہے۔ ہم اس ظلم اور بربریت کے خلاف آپ سے آواز بلند کرنے کی گزارش کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ظلم کے خلاف بھرپور ردعمل سے دشمن کا حوصلہ یقیناً پست ہوگا اور استعماری آلہ کاروں کو اس خطے کے امن کو تباہ کرنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ یہ اسی صورت ممکن ہے، جب ہم اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے افغانستان میں ملت تشیع کی نسل کشی کے مذموم عزائم کو دنیا کے سامنے آشکار کریں گے۔ آپ سے درخواست ہے کہ نماز جمعہ کے خطبات میں لوگوں کو افغانستان میں ہونے والے مظالم سے آگاہ کریں اور ان کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کریں۔ اس سے ملت کی آگاہی اور بصیرت میں اضافہ اور دشمن کے منصوبے ناکام ہونگے۔ دعا ہے کہ خدا آپ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے، اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button