دنیا

امریکی میزائل تجربات کے غور پر سلامتی کونسل کا اجلاس ختم

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے روس اور چین کی درخواست پر بلائے جانے والے اجلاس میں امریکہ کے میزائل تجربات کے معاملے کا جائزہ لیا ہے۔

روس اور چین نے مشترکہ طور پر درمیانہ فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں کی توسیع اور تنصیب کے پروگرام پر غور کے لیے جمعرات کو سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب دی متری پولیانسکی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کافی عرصے سے درمیانہ فاصلے تک مار کرنے والے ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کے معاہد ے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جیوپولٹیکل جاہ طلبی کے نتیجے میں دنیا ہتھیاروں کی نہ ختم ہونے والی دوڑ کے قریب پہنچ گئی ہے۔

اقوام متحدہ میں فرانس کی نائب مندوب اینے گیگن نے بھی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور روس کے درمیان انٹر میڈیٹ رینج نیوکلیئر ٹریٹی کے ٹوٹ جانے کو انتہائی خطرناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اسلحے کی نئی دوڑ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

اقوام متحدہ میں چین کے نمائندے نے آئی این ایف معاہدے سے امریکہ کی یک طرفہ علیحدگی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات ہر گز قبول نہیں کی جاسکتی کہ امریکہ اس معاہدے سے اپنی علیحدگی کا ذمہ دار دیگر ملکوں کو ٹھہرانے کی کوشش کرے گا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں شریک اکثر ملکوں، حتی بیلجیم سمیت بعض یورپی ممالک نے بھی آئی این ایف معاہدے سے امریکہ کی یک طرفہ علیحدگی کا ذکر اور دنیا میں اسلحہ کی دوڑ میں ممکنہ شدت کے حوالے سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ نے اتوار کے روز ریاست کیلی فورنیا کے جزیرے سن نکولس میں درمیانہ فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا تھا۔

آئی این ایف معاہدے سے نکلنے کے بعد امریکہ میں درمیانہ فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا یہ پہلا تجربہ ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے دو اگست کو آئی این ایف معاہدے سے نکلنے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔

امریکہ نے آئی این ایف معاہدے سے علیحدگی ایسے وقت میں اختیار کی ہے جب روس بارہا یہ کہتا رہا ہے کہ جب تک واشنگٹن اس معاہدے کا پابند رہے گا ، روس بھی اس پر عمل کرتا رہے گا۔

درمیانہ فاصلے تک مارکرنے والے ایٹمی میزائلوں میں کمی کے حوالے سے آئی این ایف معاہدے پر انیس سو ستاسی میں امریکہ اور سوویت یونین نے دستخط کئے تھے۔اس معاہدے کے رو سے واشنگٹن اور ماسکو کو یورپ میں بلیسٹک اور کروز میزائل نصب کرنے کا حق نہیں تھا۔اس معاہدے میں طے پایا تھا کہ امریکہ اور روس پانچ سو سے ایک ہزار اور ایک ہزار سے ساڑھے پانچ ہزار کلو میٹر تک مارکرنے والے ایٹمی اور غیر ایٹمی میزائل تیار نہیں کریں گے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button