دنیا

امریکی صدر ٹرمپ کی تقریر، دنیا کے برخلاف امریکی پالیسیاں

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب سے اس ملک کا اقتدار سنبھالا ہے، عالمی مسائل کے تعلق سے یکطرفہ پالیسی اور رویہ اپنا رکھا ہے۔ ٹرمپ نے امریکہ فرسٹ کا نعرہ بلند کرکے دنیا سے اپنی بے توجہی کو واضح کردیا ہے۔

ٹرمپ نے عالمی مسائل کے تعلق سے اپنے تازہ ترین موقف میں منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنے قوم پرستانہ نقطۂ نظر کو دہرایا اور عالمگیریت یا گلوبلائزیشن کی مخالفت پر تاکید کی اور ساتھ ہی امریکی اتحادیوں اور حریفوں پر بھی نکتہ چینی کی اور ان کو خبردار کیا۔

در حقیقت ٹرمپ نے اس سال تقریر میں تین مسائل ایران، چین اور قوم پرستی کے مسئلے پر دیگر مسائل سے زیادہ توجہ دی۔

ٹرمپ کی تقریر کا پہلا حصہ، قوم پرستی اور قومی مفادات سے مخصوص تھا ، کہ جو امریکہ فرسٹ کے نعرے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے، اور اس نے اپنے زعم ناقص میں اس نظریے کا دفاع کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک جانب تو وطن پرستانہ خیالات پر زور دیا تو دوسری جانب، ایران اور چین پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمگیریت یا گلوبلائزیشن کا کوئی مستقبل نہیں بلکہ وطن سے محبت کرنے والوں کا ہی مستقبل ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ دنیا کا مستقبل ایسے لوگ ہیں جو اپنی قوموں بلکہ اپنے پڑوسیوں کا بھی احترام کرتے ہیں۔

نیویارک میں جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرحدیں محفوظ بنائے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر آپ آزادی چاہتے ہیں تو اپنے ملک پر فخر کریں، اگر جمہوریت چاہتے ہیں تو سالمیت کو برقرار رکھئے اور اگر امن چاہتے ہیں تو اپنی قوم سے محبت کریں۔

روزنامہ وال اسٹریٹ جرنل نے بھی عالمگیریت اور کثیرالجہتی طرز عمل کے مقابلے میں ٹرمپ کے قوم پرستانہ رجحانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو ترجیح دیں اور عالمگیروں کو ٹھکرا دیں۔

امریکہ کے متنازعہ صدر کے نقطۂ نگاہ سے وہ چیز جو قدر و منزلت کی حامل ہے صرف امریکی مفادات ہیں اب وہ چاہے داخلی سطح پر ہوں یا عالمی سطح پر۔اس کے خیال میں اس سبب سے کہ امریکہ دنیا میں اقتصادی اور فوجی لحاظ سے مضبوط ملک ہے اس لئے دیگر ملکوں کو واشنگٹن کا تابع ہونا چاہئے اور جو کچھ بھی امریکہ چاہتا ہے اسے عملی جامہ پہنایا جائے۔ ساتھ ہی یہ کہ ٹرمپ نے بنیادی طور پر دیگر ملکوں کے مطالبات کو بالکل نظرانداز کردیا اور حتی اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی حقارت آمیز رویہ اپنایا۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ پوری دنیا نے چاہے وہ امریکہ کے اتحادی ہوں یا حریف ہوں سب نے اس سے غلط فائدہ اٹھایا ہے اور اب صورتحال کو تبدیل کرنے کا وقت ہے۔ ٹرمپ کے اس طرز عمل کی عالمی سطح پر نکتہ چینی اور مخالفت کی گئی ہے۔

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایک بار پھر، امریکی اتحادیوں کی جانب سے دفاع کے مسئلے میں منصفانہ حصہ لینے اور عالمی تجارت کی موجودہ صورتحال میں بھی تبدیلی کی ضرورت کی بات کہی۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے تمام اتحادیوں سےتوقع کرتا ہے کہ وہ باہمی معاہدوں اور دفاع کا بھاری بوجھ اٹھانے میں اپنا پورا حصہ ڈالیں گے۔ ایسا بوجھ کہ جو زیادہ تر امریکہ اٹھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری قومی مہم کو زندہ کرنے کے پروگرام میں سب سے اہم اور سرفہرست، عالمی تجارت میں اصلاحات لانا ہے۔ کئی عشروں سے عالمی تجارت کے نظام سے، ان ملکوں کے توسط سے کہ جو بہت برا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں، غلط فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے اسی نظریے کے تحت ، عالمی تجارتی جنگ اور دیگر عالمی معیشتوں سے مقابلے کو، اپنے ایجنڈے میں قرار دے رکھا ہے۔اس کے ساتھ ہی عالمی تجارت کی غیر منصفانہ ماہیت اور اس کے امریکہ کے نقصان میں ہونے کے بارے میں ٹرمپ کے دعوے کو نہ صرف واشنگٹن کے تجارتی اتحادیوں اور حریفوں خاص طور پر یورپی یونین اور چین نے مسترد کیا ہے بلکہ عالمی تجارتی اداروں منجملہ آئی ایم ایف اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے بھی تجارتی شعبے میں ٹرمپ کے حمایتی اقدامات اور پالیسیوں کے خطرناک نتائج کے بارے میں بارہا خبردار کیا ہے اور اس صورتحال کے جاری رہنے کو عالمی معیشت کی ترقی میں کمی واقع ہونے اور وسیع پیمانے پر تجارتی جنگیں وقوع پذیر ہونے کا باعث قرار دیا ہے۔ اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جو اس وقت امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ میں کھل کر سامنے آیا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button