دنیا

امریکہ کی ایک اور شکست

شیعہ نیوز:بولیویا کے مستعفی صدر مورالیس نے ٹویٹ کر کے کہا ہے کہ آج میری زندگی کا ایک اہم دن ہے اور میں وطن لوٹ رہا ہوں۔ بولیویا کے عوام خاص طور پر اس ملک کے مقامی گروہوں نے ان کے استقبال کے زبردست انتظامات کیے ہیں اور بڑے بڑے کارواں تشکیل دیے ہیں۔ ارجنٹائن سے ان کی روانگي کے پروگرام میں ارجنٹائن کے صدر البرٹو فرنانڈز بھی موجود تھے اور انھوں نے انھیں الوداع کیا۔

واضح رہے کہ ایوو مورالیس، جو سن دو ہزار چھے سے دو ہزار انیس تک بولیویا کے صدر تھے، ایک سال بعد اپنے وطن لوٹے ہیں۔ انھوں نے نومبر سن 2019 میں امریکہ کی حمایت سے ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد مجبورا اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا اور انھیں ملک بدر کر دیا گيا تھا۔ وہ پہلے میکسکو گئے اور اس کے بعد ارجنٹائن چلے گئے۔ گزشتہ ہفتے بولیویا کی عدلیہ نے ان کے خلاف عائد کیے گئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا تھا جس کے بعد ان کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہو گئي تھی۔ اکتوبر میں بولیویا میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھی ایوو مورالیس کے حمایت یافتہ امیدوار لوئیس آرسے کو کامیابی حاصل ہوئي تھی اور انھوں نے گزشتہ روز صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا ہے
ایوو مورالیس نے وطن واپس لوٹنے کے بعد ولازون شہر میں اپنی پہلی تقریر کی۔ بولیویا کے سابق صدر نے بڑی تعداد میں موجود لوگوں سے کہا کہ ہم نے تحمل کے ساتھ اور تشدد کے بغیر اپنے ملک کو بحال کرایا ہے۔ مورالیس نے کہا کہ فوج سے کہا گيا ہے کہ وہ صدر لوئیس آرسے کو ایوان صدر کا کنٹرول لینے سے روک دے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکی کیونکہ دسیوں لاکھ لوگوں نے آرسے کو ووٹ دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ رونے کا وقت گزر چکاہے اور اب ہمیں کام کرنا ہے، سماجی پروگرام شروع کیجیے، ہم اپنے ملک کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

انھوں نے تقریر میں نومبر دو ہزار انیس کی بغاوت کے بعد اپنی حمایت کے لیے ارجنٹائن کے صدر البرٹو فرنانڈز، وینیزوئیلا کے صدر نکولس مادورو اور کیوبا کے صدر میگل ڈیاز کا شکریہ ادا کیا۔

 

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close