اسلامی تحریکیںمشرق وسطی

انصار اللہ اور یمنی فوج کا سعودی جارحیت کا منہ توڑ جواب

یمن کے غیر فوجی علاقوں پر سعودی اتحاد کے شدید ترین حملوں کے بعد یمنی فوج اور اس ملک کی عوامی رضاکار فورس نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں اہم ٹھکانوں پر اپنے دفاعی حملے شروع کر دئے ہیں۔

یمنی ذرائع نے بھی جنوبی یمن میں متحدہ عرب امارات سے وابستہ فوجی اہلکاروں پر حملے اور پانچ فوجی اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی خبر دی ہے۔

عربی اکیس ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی یمن کے صوبے ابین میں متحدہ عرب امارات کے آلۂ کار فوجی دستے الحزام الامنی نے اعلان کیا ہے کہ صوبے ابین کے شہر لودر میں داخل ہونے والے راستے میں متحدہ عرب امارات کے آلۂ کار فوجیوں پر القاعدہ کے دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے جس میں عرب امارات کے پانچ آلہ کار فوجی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور القاعدہ نے بھی اس الزام پر اپنے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

اس سے قبل صوبے ابین کے گورنر صالح الجنیدی نے کہا تھا کہ سعودی عرب ابین کو القاعدہ کے حوالے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب تکفیری گروہوں کی حمایت کرتے ہوئے صوبے ابین کے مختلف شہروں میں انہیں ٹھکانے فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور تمام قرائن و شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی یمن کے صوبوں میں القاعدہ گروہ باقاعدہ طور پر موجود ہے۔ جنیدی نے مزید کہا کہ سعودی عرب اس صوبے میں تکفیری عناصر کی بھرپور اور اعلانیہ مالی مدد میں مصروف ہے۔

شواہد و قرائن نے بتاتے ہیں کہ سعودی عرب یمن کے مختلف محاذوں پر مسلسل شکست کھانے کے بعد جنوبی یمن میں فوجی کاروائیوں کے لئے مختلف دہشت گرد گروہوں منجملہ داعش اور القاعدہ کو استعمال کرتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کی حمایت کے زیر سایہ متحدہ عرب امارات اور کئی دیگر ممالک کے ساتھ مل کر یمن کو مارچ دو ہزار پندرہ سے وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close