پاکستانی شیعہ خبریںہفتہ کی اہم خبریں

مشی جلوسوں پر مقدمات کس کے کہنے پر درج ہوئے؟پنجاب پولیس انکشاف

شیعہ نیوز:مشی جلوسوں پر مقدمات کس کے کہنے پر درج ہوئے؟؟؟ پنجاب پولیس نے اصل ذمہ داروں کو بےنقاب کردیا۔شیعہ وکلاء کی جانب سے داخل کردہ درخواست پر ڈی آئی جی پولیس لاہور نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی پالیسی کی وجہ سے ہمیں یہ مقدمات درج کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی بھی FIR میں نامزد فرد کو گرفتار نہیں کیا اور نہ ہی آئندہ کرنے کا ارادہ ہے۔

شیعہ وکلاء نےکہاکہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے جس پیٹرن پر پنجاب پولیس نے اس ملک کی 35 ، سے 40 فیصد شیعہ کیمونٹی کی اربعین امام حسین علیہ السلام پر پیدل چل کر جلوس میں شرکت کرنے پر FIR کاٹی ہیں اس سے پنجاب پولیس کے لیے شیعہ کمیونٹی کے دل میں نفرت کا بیج بودیا ہے اور یہ بات انتہائی غیر عاقلانہ ہے کہ اس ملک کی 40 فیصد عوام پنجاب پولیس کو اپنا دشمن تصور کرنا شروع ہو جائے۔یہ اس حکومت کا نقصان نہیں بلکہ پاکستان کا نقصان ہو اہے کیونکہ اس طرح کی غیر قانونی پالیسیاں بنانے والی حکومت کا دورانیہ 5 سال ہوتا ہے اور ہمارا اور آپ کاتعلق تو جب تک اس ملک میں زندہ ہیں تب تک ہے اس لیے اس طرح کے غیر قانونی احکامات پر عمل آپ کی اور ملک کی بدنامی کا باعث بن رہاہے۔وفد میں شامل شیعہ وکلاء نے کہاکہ پوری دنیا اس ملک میں سیکورٹی کا مسئلہ بنا کر ادھر ہر طرح کے کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں کو روکنا چاہتے ہیں۔ ہمیں تو چاہیے اس طرح کی پر امن واک کو جو شیعہ سنی وحدت کا ایک مظہر تھی اس کو انٹرنیشنل میڈیا پر دیکھایا جایا تاکہ پوری دنیا کو پتا چل سکے کہ پاکستان میں سیکورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں اگر لاکھوں لوگ ، جن میں مرد و زن ، بچے ، بوڑھے شامل ہیں آزادی کے ساتھ اپنے گھروں سے نکل کر بنا کسی خوف و خطر کے امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے جلوس میں شرکت کر سکتے ہیں تو اس ملک میں ہر طرح کی سرگرمیاں بھی بنا کسی خوف و خطر اور آزادی سے ہو سکتی ہیں۔لیکن اگر پولیس خود ہی اس ملک میں موجود ہر پر امن ایونٹ کو سیکورٹی رسک بنا کر پیش کرے گے تو پھر ہمیں کسی بھارتی اورغیر ملکی پروپیگنڈہ کی ضرورت نہیں۔یہ غیر قانونی حکومتی پالیسیاں ہی اس ملک کو تنہائی کا شکار کرنے کے لیےکافی ہیں ۔

ڈی آئی جی پولیس لاہور نے مزید کہا کے ہم نے اس ایشو پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ ہونے والی اپنی گذشتہ ملاقات میں بات کی تھی اور آئندہ جو ملاقات ہو گی اس میں بھی اس ایشو کو ان کے سامنے رکھا جائے گا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button