
مذاکرات سے بلوچستان مسئلے کا حل نکالا جائے، کاظم میثم
اپوزیشن لیڈر جی بی اسمبلی نے کہا کہ بلوچستان کے حقوق کے لیے جمہوری اور عوامی جدوجہد کرنے والوں کا راستہ نہ روکا جائے بلخصوص ماہ رنگ جو کہ بلوچستان کی بیٹی ہیں انہیں رہا کر کے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔
شیعہ نیوز: اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی و پارلیمانی لیڈر ایم ڈبلیو ایم جی بی کاظم میثم نے جمہوری وطن پارٹی کے رہنما نواب اکبر بگٹی کا پوتا سابق صوبائی وزیر بلوچستان نوابزادہ گہرام بگٹی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ انہوں نے گہرام بگٹی کی جانب سے دی گئی لانگ مارچ کی کال اور بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اپوزیشن لیڈر نے اپنے سیاسی رفیق سے کہا کہ حقوق سے محروم گلگت بلتستان کے عوام بلوچستان کی محرومیوں کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ بلوچستان ہو یا گلگت بلتستان، کراچی ہو یا خیبر پختوانخواہ موجودہ فاشسٹ رجیم کے ظلم کی چکی میں پس رہا ہے۔ ہم ہر مظلوم کے حامی ہیں۔ گہرام بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں ہماری ماوں بہنوں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ہمارا آئینی و جمہوری حق ہے لیکن اسے بھی روکنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ بلوچستان کے عوام کے مینڈینٹ کو جب تک واپس نہیں کیا جائے گا نہ سیاسی استحکام آسکتا ہے اور نہ معاشی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹی پی اور بی ایل اے امریکی ہتھیار ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں، پاکستان
انہوں نے مشکل وقت میں حمایت پر اپوزیشن لیڈر اور گلگت بلتستان کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دونوں سروں پر موجود گلگت بلتستان اور بلوچستان کے عوام کی محرومی نکتہ اشتراک ہے۔ ہم ایک دوسرے کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ گہرام بگٹی نے لانگ مارچ کے لیے 72 گھنٹوں کا وقت دیا تھا بلوچستان حکومت نے انہیں لانگ مارچ سے قبل گرفتار کر لیا ہے۔ بلوچ خواتین کی رہائی انکا پہلا مطالبہ تھا۔ ان کی گرفتاری کی اپوزیشن لیڈر نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری جدوجہد کو روکنے کے بھیانک نتائج آئیں گے۔ لانگ مارچ اور احتجاج عوام کا بنیادی حق ہے۔ گہرام بگٹی اور دیگر گرفتار سیاسی رہنماوں کو رہا کیا جائے۔ بلوچستان کے حقوق کے لیے جمہوری اور عوامی جدوجہد کرنے والوں کا راستہ نہ روکا جائے بلخصوص ماہ رنگ جو کہ بلوچستان کی بیٹی ہیں انہیں رہا کر کے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔