اسلامی تحریکیںپاکستانی شیعہ خبریںہفتہ کی اہم خبریں

کراچی، شیعہ تنظیموں کے تحت امام خمینی ؒکی برسی کا مرکزی اجتماع

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، شیعہ علماء کونسل، امامیہ آرگنائزیشن، ہئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ، مجلس وحدت مسلمین، پیام ولایت فاؤنڈیشن کی جانب سے رہبر انقلاب اسلامی امام خمینی ؒ کی 33ویں برسی کی مناسبت سے مرکزی پروگرام کا انعقاد بھوجانی ہال سولجز بازار میں کیا گیا، جس میں علامہ احمد اقبال رضوی، بزرگ عالم دین مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین، مولانا ناظر عباس تقوی، علامہ باقر حسین زیدی سمیت علماء کرام اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ علامہ احمد اقبال رضوی نے امام خمینیؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس زمانے میں دنیا دو حصوں میں تقسیم تھی، اس دور میں امام خمینی ؒنے ڈھائی ہزار سالہ بادشاہت کو ختم کیا جس کا کوئی تصور نہیں کرسکتا تھا، یہ اس زمانے کا معجزہ ہے کہ جب دین کو سیاست سے جدا سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ نے اللہ پر توکل کے بعد عوام پر ایمان لائے، جس پر لوگوں نے اعتراض بھی کیا جس کے جواب میں امام خمینیؒ نے کہا یہ وہ عوام ہے جس نے مشکل حالات میں بھی ساتھ دیا تھا یہ اب بھی ساتھ دیں گے۔

علامہ شیخ حسن صلاح الدین نے امام خمینیؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی کامیابی کی کلید اسلامی فکر و کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ایک مرد حق اور مومن کامل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت میں اسلامی فکر اور اساس کو اپناکر انقلاب اسلامی برپا کیا، جس انقلاب نے نہ صرف ایران بلکہ پورے عالم اسلام کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ دنیا کے اکثر مسلمان ممالک کی داخلی اور خارجی پالیسیاں مغربی ممالک میں مرتب ہورہی ہے تو کیسے ممکن ہے کہ اسلامی دنیا استکباری قوتوں کے ظلم و استحصال سے محفوظ رہیں۔ مولانا شیخ صلاح الدین نے شرکاء برسی سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کو تمام اسلامی ممالک کیلئے مشعل راہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام خمینی نے ایرانی قوم کو طاغوتی ولایت کے اندھیروں سے نکال کر ولایت الٰہی کے نور سے سرفراز کیا۔

یہ خبر بھی پڑھیں امام خمینیؒ نے مستضعفین میں مزاحمت کا حوصلہ بیدار کیا، علامہ احمد اقبال رضوی

علامہ باقر حسین زیدی نے کہا کہ ایرانی قیادت اور قوم کو اپنے مقصد اور تحریک پر ایمان کی حد تک یقین تھا، امام خمینیؒ بذات خود اسلامی فکر و اساس کی عملی تفسیر تھے، اس لئے ان کی قوم قائد کے اشاروں پر ہر قربانی کیلئے آمادہ ہوئی اور جو قوم شعوری طور پر قربانیوں کیلئے آمادہ ہوتی ہے اسے کامیابی کی منزل سے ہمکنار ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ مولانا ناظر عباس تقوی نے اپنے خطاب میں امریکی ایماء پر گزشتہ دنوں امام خمینی رح کے خلاف چلنے والی سوشل میڈیا مہم کی مزمت کرتے ہوئے حکومت سے اس کو چلانے والوں کیخلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان عالم اسلام کے دو اہم اور قائدانہ کردار کی حیثیت والے ممالک ہیں، ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مسلم دنیا کے پریشان کن حالات کے سدباب کیلئے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button