مقالہ جاتہفتہ کی اہم خبریں

انتہاپسند صیہونی کابینہ کا مسجد اقصی کیلئے نیا فتنہ

تحریر: علی احمدی

ایسے حالات میں جب غزہ میں جنگ جاری ہے اور غاصب صیہونی فوج اور اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس میں فوجی جھڑپیں انجام پا رہی ہیں اور ہر لمحہ غزہ کے جنوبی شہر رفح پر ممکنہ فوجی حملے سے اس جنگ میں وسعت کا امکان پایا جاتا ہے، مقبوضہ فلسطین سے موصول ہونے والی خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں انتہاپسند صیہونی کابینہ ماہ مبارک رمضان کی آمد کے قریب مسجد اقصی کیلئے ایک نیا سکیورٹی پلان تیار کرنے میں مصروف ہے۔ اگر یہ خبر حقیقت پر مبنی ہو اور صیہونی حکمران واقعی اس طرح کا منصوبہ لاگو کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ پورے خطے اور حتی پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف وسیع جنگ میں تبدیل ہو جائے گی۔

ماہ مبارک رمضان کیلئے غاصب صیہونی کابینہ کے اس نئے سکیورٹی پلان کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں اور رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی حکمران اس مبارک مہینے میں فلسطینی مسلمانوں پر مسجد اقصی میں داخل ہو کر عبادت کرنے کے خلاف ایسی پابندیاں عائد کرنے جا رہے ہیں جن کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ ابھی صرف اس منصوبے کی خبر آئی ہے اور اسی نے فلسطینیوں میں شدید غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ البتہ بات صرف اس حد تک نہیں ہے اور مسجد اقصی سے متعلق صیہونی رژیم کے ممکنہ سکیورٹی پلان کے خلاف ظاہر ہونے والے شدید ردعمل نے خود صیہونی حکمرانوں کو بھی شدید ہراساں کر ڈالا ہے اور وہ سکیورٹی صورتحال کے مزید بحرانی ہو جانے سے خوفزدہ ہیں۔ لیکن خطرناک بات یہ ہے کہ یہ سکیورٹی منصوبہ صرف مغربی کنارے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ 1948ء کی سرزمینوں میں مقیم فلسطینی مسلمانوں کو بھی شدید متاثر کرے گا۔

اگر یہ مسئلہ بحرانی صورتحال اختیار کر جاتا ہے تو چونکہ اس سے متاثر ہونے والے فلسطینی مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے لہذا ایسے حالات میں ماضی کی نسبت زیادہ بڑا اور خطرناک بحران پیدا ہونے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ مسجد اقصی کے بارے میں غاصب صیہونی رژیم کے اس نئے سکیورٹی پلان کی وجوہات کا جائزہ لینے کیلئے اس کے اصلی محرکات کو جاننا ضروری ہے۔ یہ منصوبہ نیتن یاہو کی کابینہ میں شامل انتہاپسند اور نسل پرست وزیر اتمار بن گویر نے تیار کیا ہے۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے ماہ مبارک رمضان میں فلسطینی مسلمانوں کے مسجد اقصی میں داخل ہونے پر پابندی کا منصوبہ تیار کیا اور اسے نیتن یاہو اور کابینہ کو پیش کیا۔ لیکن اس بحران کی شدت میں اس وقت کئی گنا اضافہ ہو گیا جب نیتن یاہو نے اس منصوبے کی منظوری دے دی اور اسے لاگو کرنے کی بھی اجازت دے دی۔

دوسری طرف تازہ ترین رپورٹس کے مطابق مسجد اقصی سے متعلق یہ نیا سکیورٹی پلان صیہونی رژیم کے اعلی سطحی حکومتی اور فوجی حکام کی میٹنگ میں بھی منظور کر لیا گیا ہے اور اسے ماہ مبارک رمضان میں لاگو کرنے کا حتمی فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔ اسی طرح اس منصوبے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ ماضی میں ماہ مبارک رمضان میں فلسطینی مسلمانوں پر عائد کی جانے والی ہمیشہ کی پابندیوں کے ساتھ ساتھ بعض نئی پابندیاں بھی عائد کی جائیں گی۔ صیہونی ذرائع ابلاغ کی جانب سے اس منصوبے کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتمار بن گویر کے اس سکیورٹی پلان کا صیہونی کابینہ کی جانب سے اب تک باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا لیکن کچھ صیہونی میڈیا ذرائع کے مطابق اسرائیل کے حساس ادارے بھی اس منصوبے کے بارے میں وزراء کونسل کو اپنی تجاویز پیش کریں گے۔

البتہ صیہونی حکام نے اعلان کیا ہے کہ یہ منصوبہ ماہ مبارک رمضان کے پہلے ہفتے میں تجرباتی بنیادوں پر لاگو کیا جائے گا اور اس کے بعد حاصل ہونے والے نتائج کی روشنی میں اس کی مدت بڑھانے کا جائزہ لیا جائے گا اور مثبت نتائج کی صورت میں ماہ مبارک رمضان کے آخر تک لاگو رہے گا۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینی مسلمانوں کو مسجد اقصی میں نماز ادا کرنے سے روکنا، چالیس سال سے کم عمر کے مردوں کو مسجد اقصی میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینا، مسجد اقصی جیسے مقدس مقام کے اندر پولیس تعینات کرنا نیز صرف 70 سال سے زائد عمر رکھنے والے فلسطینوں کو مسجد اقصی میں داخل ہونے کی اجازت دینا، اتمار بن گویر کے پیش کردہ اس نئے سکیورٹی پلان کا حصہ ہیں۔

مذکورہ بالا مطالب سے ظاہر ہوتا ہے کہ غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینی مسلمانوں کے خلاف پابندیوں کی سطح میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور صیہونی حکمران فلسطینی مسلمانوں کے خلاف زیادہ سختی والے اقدامات انجام دینا شروع ہو گئی ہے۔ آخری نکتہ یہ کہ مسجد اقصی سے متعلق غاصب صیہونی رژیم کا نیا سکیورٹی پلان جو بھی ہو اور جیسا بھی ہو اس نے ابھی سے فلسطینی اور دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس بارے میں ابھی پورے اطمینان سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ماہ مبارک رمضان کے آغاز میں جب یہ سکیورٹی پلان لاگو کیا جائے گا تو مسلمانوں کی جانب سے کس قسم کا ردعمل سامنے آئے گا۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ مندرجہ بالا اقدامات اسرائیل کی غاصب اور ناجائز رژیم اور حماس کے درمیان جنگ کو خطے اور دنیا کے مسلمانوں کے خلاف ایک وسیع جنگ میں تبدیل کر ڈالیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button