مضامینمقالہ جاتہفتہ کی اہم خبریں

امام حسین (ع) کی زيارت کرنے والے کا اجر وثواب احادیث و روایات کی روشنی میں

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص حضرت امام حسین علیہ السلام کی عاشور کے دن زیارت کرے اور ان کی قبر پر گریہ کرے تو اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن دو ہزار حج ، دو ہزار عمرہ اور دو ہزار جہاد کا ثواب عطا کرے گا۔

تاریخ اسلام کے مطابق شیخ طوسی نے کتاب مصباح المجتہد میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص حضرت امام حسین علیہ السلام کی عاشور کے دن زیارت کرے اور ان کی قبر پر بیٹھ کر گریہ کرے تو اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن دو ہزار حج ، دو ہزار عمرہ اور دو ہزار جہاد کا ثواب عطا کرے گا، اور وہ بھی وہ حج،عمرے اور جہاد جو رسول اکرم(ص) اور آئمہ طاہرین (ع)کے رکاب میں انجام دیئے ہوں۔

راوی نے عرض کیا کہ میری جان آپ پر فدا ہو وہ شخص جو کسی دوسرے شہر یا ملک میں رہتا ہے اور اعاشور کے دن حضرت امام حسین (ع) کی قبر مبارک تک نہیں پہنچ سکتا وہ کیا کرے؟

امام باقر (ع) نے جواب میں فرمایا: اگر ایسا ہو تو صحراء یا اپنے گھر کی چھت پر جائے اور امام حسین (ع) کی قبر کی طرف اشارہ کر کے سلام کرے اور ان کے قاتلوں پر لعنت کرے اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اور اس عمل کو ظہر سے پہلے انجام دے اور ان کی مصیبت میں گریہ و زاری کرے اور اگر کسی کا ڈر نہ ہوتو اپنے خاندان والوں کو بھی ان پر رونے کا حکم دے اور اپنے گھر میں مجلس عزا برپا کرے اور سید الشہدا (ع) کو یاد کر کے ایک دوسرے کو تعزیت دیں، میں ضمانت دیتا ہوں جو شخص اس عمل کو انجام دے گا تو اللہ تعالی یہ تمام ثواب اسے بھی عطا کرے گا ( اس شخص کی طرح جو امام حسین (ع) کی قبر پر حاضر ہو کر زیارت کرتا ہے)۔

راوی نے عرض کیا کیسے ایک دوسرے کو تعزیت کہیں؟

فرمایا: «أعظم الله أجورنا بمصابنا بالحسين عليه‌السلام و جعلنا و إيّاكم من الطالبين بثاره مع وليه الإمام المهدى من آل محمد عليهم السلام»؛

یعنی خدا امام حسین کی عزاداری میں ہمارے اجر میں اضافہ کرے۔ اور ہمیں اور آپ کو انکے خون کا انتقام لینے والوں میں سے امام مھدی (ع) کے ساتھ قرار دے۔

اس کے بعد فرمایا: اس دن کسی کام لیے اپنے گھر سے باہر مت جاؤ یہ دن نحس ہے اور اس دن کسی مومن کی حاجت پوری نہیں ہوتی اور اگر پوری ہو بھی تو اس میں برکت نہیں ہو گی۔

تم میں سے کوئی بھی اپنے گھر میں کچھ بھی ذخیرہ نہ کرے اگر ایسا کیا تو اس میں برکت نہیں ہو گی اگر کوئی اس دستور پر عمل پیرا ہو گا تو اسے ہزار حج، ہزار عمرہ اور ہزار جہاد کا اور وہ بھی رسول خدا (ص) کے ساتھ انجام دینے کا ثواب ملے گا اور ابتدائے خلقت سے اب تک جتنے بھی نبی، رسول، اور انکے وصی شہیدراہ خدا میں شہید ہوئے ہیں ان کا ثواب بھی اسے ملے گا۔

ایکد وسری روایت میں صالح بن عقبہ اور سیف بن عمیرہ نقل کرتے ہیں کہ علقمہ بن محمد الخضرمی نے کہا: میں نے امام باقر علیہ السلام سے عرض کیا : ایک ایسی دعا مجھے تعلیم کیجئے کہ اگر نزدیک سے میں کربلا والوں کی زیارت کروں تو اس کے بعد اس دعا کو پڑھوں اور اگر دور سے زیارت کروں تو اسے پڑھوں ۔

امام نے فرمایا: اے علقمہ جب تم زیارت پڑھنا چاہو تو دو رکعت نماز ادا کرو تکبیر کے بعد کربلا کی طرف اشارہ کر کے اس زیارت یعنی زیارت عاشورا کو پڑھو۔

پس اگر تم نے اس زیارت کو پڑھا اور دعا کی جسے زیارت امام حسین(ع) کے لئے ملائکہ بھی پڑھتے ہیں خدا وند عالم ایک لاکھ نیکیاں تمہارے حق میں لکھے گا اور تم اس شخص کی طرح ہو جو امام حسین (ع) کے ساتھ شہید ہوا ہو اور تمہارے لیے ہر پیغمبر، رسول، اور ہرزائر کا ثواب لکھا جائے گا۔ جس نے حضرت امام حسین (ع) کی زیارت کی،

زیارت کو نقل کرنے کے بعد علقمہ کہتا ہے: امام باقر علیہ السلام نے مجھے کہا اگر ہر روز اس زیارت کو اپنے گھر میں ہی پڑھو گے تو یہ سارا ثواب تمہیں مل جائے گا۔

روایت سوم

شیخ (رہ) کتاب مصباح میں سیف بن عمیرہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ امام صادق (ع) حیرہ سے مدینہ تشریف لائے ہم صفوان بن مھران اور کچھ دوسرے اصحاب کے ساتھ نجف اشرف چلے گئے۔ امیر المومنین علی (ع) کی زیارت کرکے جب فارغ ہوئے تو صفوان نے اپنا رخ کربلا کی طرف کیا اور ہم سے کہا یہیں سے امام حسین کی زیارت کیجیے کہ میں امام صادق کے ساتھ تھا انہوں نے یہیں سے امام حسین (ع) کی زیارت کی۔

اس کے بعد زیارت عاشورا پڑھنا شروع کیا اور نماز زیارت ادا کرنے کے بعد دعاے علقمہ کی تلاوت کی۔

سیف بن عمیرہ کہتے ہیں کہ میں نے صفوان سے کہا جب علقمہ بن محمد نے زیارت عاشورا کو ہمارے لیے نقل کیا اس دعا کو ہمیں نہیں بتایا۔

صفوان نے کہا امام صادق (ع) کے ساتھ ہم یہاں پر آئے جب آپ نے زیارت عاشورا کو پڑھا اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کی اور اس کے بعد اس دعا کو بھی پڑھا۔

اس کے بعد امام صادق (ع) نے مجھ سے کہا اے صفوان اس زیارت اور اس دعا کو فراموش نہ کرنا۔ اس کو پڑھتے رہنا میں ضامن ہوں جو شخص اس زیارت اور دعا کو چاہے نزدیک سے چاہے دور سے پڑھے۔ اس کی زیارت قبول ہو گی اور اس کا سلام انہیں پہنچ جائے گا اس کی حاجت خدا کی طرف سے قبول ہوجائے گی۔ وہ جس مقام پر بھی پہنچنا چاہے گا اسے عطا کیا جائے گا۔

اے صفوان! میں نے اس زیارت کو اسی ضمانت کے ساتھ اپنے والد سے لیا ہے اور بابا نے اپنے والد علی بن حسین (ع) اوراسی طریقہ سے امیر المومنین علی (ع) نے رسول خدا سے اور انہوں نے جبرئیل سے اور جبرئیل نے اس زیارت کو خدا وندعالم سے اسی ضمانت کے ساتھ لیا ہے۔ خدا وند عالم نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ جو شخص حسین(ع) کی دور سے یا نزدیک سے زیارت کرے گا اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے گا اس کی زیارت قبول کروں گا اور اس کی حاجت کو بھر لاؤں گا چاہے جو بھی ہو۔

وہ میرے پاس سے ناامید نہیں لوٹے گا بلکہ خوشی خوشی اپنی حاجت کے ساتھ جنت کی خوشخبری اور آتش جھنم سے رہائی کے ساتھ واپس جائے گا۔ اور اس کی شفاعت کو دشمن اہلبیت (ع) کے سوا ہر ایک کے حق میں قبول کروں گا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button