پاکستانی شیعہ خبریںہفتہ کی اہم خبریں

بیلنس پالیسی کے نام پر ملت جعفریہ کے نوجوانوں کو جبری اغوا کر لیا جاتا ہے.عارف الجانی

شیعہ نیوز:سرگودھا میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر نے تحصیل ساہیوال سے جبری لاپتہ ہونیوالے سردار تنویر حیدر کے ورثاء اور علماء کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیاں قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہیں، جب قانون نافذ کرنیوالے ہی قانون کو پامال کرتے ہیں تو اس سے تاثر یہ جاتا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا راج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتہا پسند تکفیری بھی ایسا رویہ اختیار کریں اور قانون نافذ کرنیوالے بھی قانون پر عمل نہ کریں، جن کی ذمہ داری ہے تو ایسی صورتحال میں کس سے انصاف اور امن کی امید لگائی جائے؟ مسلسل گمشدگیوں سے شہریوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ گویا ملک میں قانون نام کی کوئی چیز وجود ہی نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہا کہ جس فرد پر ذرا سا بھی شک ہو یا جس سے آپ راضی نہیں ہیں، بیلنس پالیسی کے نام پر اسے جبری طور پہ اغوا کر لیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی ظالمانہ عمل ہے، جس سے ہر محب وطن پاکستانی کا دل رنجیدہ ہے۔ ہم پاکستان میں لاقانونیت کے حامی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئٹہ میں سیکڑوں جنازے سڑک پر رکھ کر پُرامن احتجاج کیا۔ ہم محب وطن شہری ہیں۔ ہمارا قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے مطالبہ ہے کہ جبری طور پہ لاپتہ کیے جانیوالے افراد کو فوری طور پہ بازیاب کروایا جائے، اگر وہ کسی بھی جرم میں ملوث ہیں تو عدالت اور قانون کے مطابق ان کو سزا دی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملت تشیع کے نوجوانوں کو پہلے فرقہ وارانہ تشدد کی بھینٹ چڑھایا گیا، اب مسنگ پرسنز کا مسئلہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہوچکا ہے، لاپتہ شیعہ افراد کے لواحقین ہم سے سوال کرتے ہیں کہ ہمارے عزیز کہاں ہیں، وہ دوہری اذیت کا شکار ہیں، ہم ہمیشہ سے مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ اگر لاپتہ کیے جانیوالے افراد کسی جرم میں ملوث ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، ہمارے متعدد نوجوان عزیز لاپتہ کیے گئے ہیں، ہم مسنگ پرسنز کو فراموش نہیں کرسکتے، ہر قیمت پر ہمیں یہ افراد چاہیئں، انہیں رہا کیا جائے، ہم پورے ملک میں آواز اٹھائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے، ہم گذشتہ تین سال سے ایک ہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمارے لاپتہ افراد کو فوری طور پہ بازیاب کروایا جائے، اگر وہ کسی بھی جرم میں ملوث ہیں، انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ ہم آرمی چیف، چیف جسٹس اور وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تنویر حیدر سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری بازیاب کروایا جائے، جب تک تمام لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کروایا جاتا ہماری پُرامن تحریک جاری رہے گی۔ ہم ملک کے گوش و کنار میں دھرنوں کا دائرہ وسیع کر دیں گے اور ہرگز چین سے نہیں بیٹھیں گے، اس کے علاوہ بیرون ممالک میں محب وطن پاکستانی اس احتجاجی تحریک کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کروائیں گے اور جب تک آخری لاپتہ فرد واپس نہیں آجاتا، ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close