مشرق وسطیہفتہ کی اہم خبریں

غزہ کے خلاف جنگ میں اسرائیل کا کوئی مقصد بھی پورا نہیں ہوا، انصاراللہ

شیعہ نیوز: انصار اللہ یمن کے رہنما نے کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت جاری ہے اور وہ امریکی حمایت کے ساتھ نسل کشی کر رہا ہے اس لئے یمنی فوج بھی فلسطینیوں کی مدد کے لئے بحیرہ احمر میں اپنی کارروائی جاری رکھے گی۔

سید عبد الملک الحوثی نے جمعرات کو اپنی ایک تقریر میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ غزہ پٹی میں صیہونی حکومت کے تمام مقاصد ناکام رہے ہيں، کہا کہ ہم غزہ پٹی میں فلسطینی قوم اور مزاحمتی فرنٹ کی غیر معمولی شجاعت کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور عربوں کے تصادم کی پوری تاریخ میں عربوں کی کوئی فوج بلکہ عربوں کی مشترکہ فوجوں نے بھی غزہ پٹی کے مجاہدوں کی طرح استقامت کا مظاہرہ نہیں کیا ۔

سید عبد الملک الحوثی نے مزيد کہا کہ غزہ پٹی میں ہزاروں صیہونی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہيں اور صیہونی، فلسطینی کاز کو ختم کرنے میں کامیاب نہيں ہوئے۔ اس کے علاوہ، صیہونی کو بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام دشمن طاقتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے حضرت علیؑ کے کردار کو مشعل راہ بنانا ہوگا، مولانا اصغر شہیدی

انہوں نے کہا کہ تمام عالمی ادارے غزہ کے واقعات کا مشاہدہ کر رہے ہیں لیکن ان کی طرف سے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔ غزہ کے بارے میں مسلمانوں سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اگر آج مسلمان، فلسطین کی حمایت کرتے تو جنگ کے حالات کچھ اور ہوتے۔

انصار اللہ یمن کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ اور مغرب کے فیصلوں کا مقصد، غزہ میں قتل عام روکنا نہیں ہے اور اس جرم کے جاری رہنے کی واحد وجہ یہ ہے کہ امریکہ صیہونی حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکیوں نے جنگ میں شرکت کے لئے اپنے فوجی افسروں کو بھیج کر اور غزہ کے عوام کو بھوکا رکھنے میں اہم رول کے حامل ہيں۔ یمن کے خلاف کشیدگی میں اضافہ، امریکہ کے لئے معاشی طور پر بھاری ثابت ہوگا اور اس سے جنگ کا دائرہ بھی پھیلے گا۔ امریکہ نے بحیرہ یمن کے مسئلے کے خاتمے کے لئے اس راہ حل کو قبول ہی نہیں کیا جس سے غزہ کے لئے بھی اشیائے خورد و نوش کی ترسیل ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ اس جارحیت اور امریکی جرائم کا سد باب نیز فلسطین کی حمایت اسلامی امت کا فریضہ ہے اور یمنی قوم کے موقف کی بنیاد، انسانیت، اخلاقیات، دین اور ایمان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری کارروائی میں ڈرون کے 200 اور بیلسٹک میزائل سے 50 حملے شامل ہيں اور ہماری کارروائی کے آغاز سے اب تک 4 ہزار 874 بحری جہاز بغیر کسی مسئلے کے بحیرہ عرب سے ہوکر گزرے ہيں اور سب کو معلوم ہے کہ ان میں سے کسی بھی جہاز پر حملہ نہیں کیا گيا لیکن امریکہ کا دعوی ہے کہ سمندری امن کو خطرہ لاحق ہو گيا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم غزہ کے عوام کے لئے اشیائے خورد و نوش کی ترسیل کے لئے صرف ان بحری جہازوں کو نشانہ بناتے ہيں جن کا اسرائیل سے تعلق ہوتا ہوتا ہے۔ یمن پر حملہ کرکے امریکہ اور برطانیہ خود پھنس گئے ہیں اور بحری جہازوں پر حملے بھی نہیں روک پائے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button