مشرق وسطیہفتہ کی اہم خبریں

عراق سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو انخلا پر مجبور کردیں گے

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) حزب اللہ عراق نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کو داعش کو شکست دینے والے محاذ استقامت کے سردار شہید جنرل قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر شہید جنرل ابو مہدی المہندس اوران کے ساتھ شہید ہونے والے دیگر شہیدوں کے خون کے سخت ترین انتقام کا انتظار کرنا چاہئے۔

حزب اللہ عراق کے ترجمان محمد محیی کے مطابق استقامتی محاذ پوری قوت کے ساتھ امریکہ مجرمانہ اقدامات کا جواب دینے کے لیے تیار ہے اور ہمارے پاس عراق میں موجود امریکی فوجیوں سے محاذ آرائی کے سوا کوئی اور راستہ باقی نہیں بچا ہے۔

انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ استقامتی محاذ عراق کے وسیع تر علاقے میں امریکی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر طرح آمادہ ہے۔

انہوں نے حکومت عراق پر بھی زور دیا کہ وہ امریکی فوجیوں کے جلد از جلد انخلا کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن طریقہ کار استعمال کرے۔

حزب اللہ عراق کے ترجمان نے مزید کہا کہ عراق کی تمام سیاسی اور استقامتی تنظیمیں، داعش کی شکست میں ایران کی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے کلیدی کردار کی معترف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ داعش کو شکست دینے کے لیے جنگ کے اگلے محاذوں میں شہید سلیمانی کی موجودگی اور عراقیوں کی فتح میں ان کے بنیادی کردار سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔

دوسری جانب عراقی پارلیمنٹ میں سائرون دھڑے کے رکن ستار العتابی نے امریکیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ عراقی سے انخلا کے معاملے میں لیت و لعل کام لینے کے بجائے جتنا جلد ممکن ہو ہمارے ملک سے چلے جائیں، انہوں نے عراق میں رونما ہونے والے تمام تر سانحات کی اصل وجہ امریکی فوج کی موجودگی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اگر وقت ضائع کرنے کی کوشش کرتا ہے حکومت عراق کو چاہیے کہ وہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے ذریعے امریکہ کو عراق سے اپنے فوجیں نکالنے پر مجبور کرے۔

یاد رہے کہ بغداد میں ایران کی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈ جنرل ابو مہدی المہندس کے کارواں پر دہشت گرد امریکی فوج کے فضائی حملے کے بعد عراقی پارلیمان نے ملک سے امریکی فوج کے انخلا کا بل پاس کردیا ہے۔

 

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close