اہم پاکستانی خبریںہفتہ کی اہم خبریں

داعش-خراسان دہشتگرد، ٹی ٹی پی سے زیادہ بڑا خطرہ ہے، آئی جی خیبر پختونخوا

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ معظم جاہ انصاری نے صوبے کے امن کے لیے کالعدم داعش-خراسان گروپ کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے زیادہ بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق معظم جاہ انصاری نے کہا ہے کہ میں آنے والے وقت میں ٹی ٹی پی کے مقابلے میں کالعدم داعش-خراسان گروپ کو صوبے میں امن و سلامتی کے لیے زیادہ بڑا خطرہ سمجھتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ داعش-خراسان گروپ اور ٹی ٹی پی دونوں صوبائی دارالحکومت میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ داعش-خراسان گروپ کے حملہ آور صوبائی دارالحکومت میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات میں ملوث ہیں۔

اکتوبر اور نومبر میں صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں کم از کم 3 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔

معظم جاہ انصاری نے کہا کہ ان کے اہلکاروں کی شہادت کے بعد پولیس نے گزشتہ سال 20 دسمبر کو دارالحکومت میں داعش-خراسان گروپ کے ایک سیل کا پردہ فاش کیا تھا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ فقیر آباد تھانے کی حدود سے ہراست میں لیے گئے دہشت گرد، پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے کم از کم دو واقعات اور پچھلے سال 30 ستمبر کو چارسدہ اڈہ کے قریب سکھ حکیم ’ستنام سنگھ‘ کے قتل میں ملوث تھے۔

تاہم اسی شام فقیر آباد کے علاقے میں ایک پولیس اہلکار کو نشانہ بناتے ہوئے ایک اور حملہ ہوا، پولیس کے ساتھ جھڑپ میں داعش-خراسان گروپ کے 3 دہشت گرد مارے گئے تھے۔

آئی جی خیبر پختونخوا نے کہا کہ یہ عسکریت پسند تنظیمیں چھوٹے گروپوں میں کام کر رہی ہیں اور ایک سیل کو بےاثر کرنے سے دوسرے سیل کی طرف سے اسی طرح کی کارروائیوں کا امکان ختم نہیں ہوتا۔

معظم جاہ انصاری نے کہا کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے قبائلی اضلاع میں سیکورٹی کے مسائل تھے لیکن پولیس نے ریاست کی رٹ کو نافذ کرنے کے لیے تیزی سے کام کیا۔

علاقے میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حافظ گل بہادر گروپ قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں سب سے بڑی تنظیم ہے، جبکہ جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسند گروپوں کا ایک گٹھ جوڑ سرگرم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹی ٹی پی کا گنڈاپور گروپ ڈیرہ اسمٰعیل خان اور دیگر علاقوں میں سرگرم ہے، تاہم یہ گروپس زیادہ منظم نہیں تھے اور زیادہ تر چھوٹے سیلز میں کام کرتے تھے، اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے زیادہ پائیدار کوششوں کی ضرورت تھی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ زیادہ تر عارضی نوعیت کے ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی وفاداریاں ایک گروہ سے دوسرے گروہ میں بدلتی رہتی ہیں۔

معظم جاہ انصاری نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں قبائلی علاقوں کی ترقی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی ساتھ ساتھ توجہ دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات لوگوں کو امن کے لیے حکومتی کوششوں کو سراہنے کی ترغیب دیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی فورس نے قبائلی اضلاع کے 27 ہزار لیویز اور خاصہ دار فورس کے اہلکاروں میں سے 17 ہزار اہلکاروں کی تربیت مکمل کر لی ہے، باقی 10 ہزار اہلکاروں کی تربیت اس سال جون تک مکمل کر لی جائے گی۔

معظم جاہ انصاری نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں محکمہ پولیس کو گاڑیاں، وائرلیس سیٹ اور دیگر سامان فراہم کر دیا گیا ہے، قبائلی اضلاع میں 4 ارب روپے کی لاگت سے پولیس کی 53 عمارتیں قائم کی جارہی ہیں، جبکہ اسپیشل برانچ اور انسداد دہشت گردی کے محکمے کے سیٹ اپ کو پولیس علاقے کے تمام حصوں تک پھیلا رہی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے ایک مضبوط ڈھانچہ متعارف کرانے میں کم از کم دو سال لگیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا میں پولیس کا ایک مضبوط ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے پولیس کی کوششوں کا بنیادی مقصد انہیں داخلی سلامتی کی ذمہ داری سنبھالنے کے قابل بنانا تھا تاکہ فوج اپنی بیرونی دفاع کی ذمہ داری پر توجہ دے سکے۔

معظم جاہ انصاری نے کہا کہ سی ٹی ڈی، قبائلی علاقوں میں امن واپس لانے کے لیے مسلح افواج کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور متعدد کارروائیوں میں کئی بدنام دہشت گردوں کو بےاثر کیا جاچکا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button