مضامینہفتہ کی اہم خبریں

داعش کا کشمیریوں کیخلاف کارگر وار

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)

تحریر: سردار تنویر حیدر بلوچ

کرونا وائرس کی وباء نے چند ماہ سے دنیا کو ہولناک صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ زندگی کے ہر میدان میں تبدیلیاں بتائی جا رہی ہیں، نظر بھی آرہی ہیں، لیکن دنیا کے مظلوم ترین کشمیریوں اور فلسطینیوں کیخلاف اسرائیل اور بھارت کے مظالم کا سلسلہ کم نہیں ہوا۔ 2019ء سے کشمیر میں مسلسل لاک ڈاون ہے، اب بھارتی اقدامات کیوجہ سے کرونا وباء سمیت کشمیری مسلمانوں کی زندگیوں میں مزید مشکلات کا اضافہ ہوا ہے۔ کار جہاں دراز ہے، کے مصداق مظلوموں کا امتحان طویل ہوتا جا رہا ہے، ظالموں کی رسی دراز ہو رہی ہے۔ لیکن اس ظلم و تعدی میں میں صرف کافر، مشرک اور ہندو ہی نہیں بلکہ نام نہاد مسلمان بلکہ خلافت قائم کرنے کے دعویدار بھی شریک ہیں۔ چند ماہ میں سازشوں اور کفار و منافقین کی ملی بھگت سے کشمیر کی آزادی کیلئے مصروف پیکار مجاہدین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تحریک آزادی کشمیر نے کئی موڑ اور کئی کٹھن راستے طے کیے ہیں، کشمیری ماؤں نے ظلم سہے، لیکن اپنے بیٹوں کو آزادی کے راستے پہ قربان کیا اور لاکوں بھارتی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود نہ صرف اپنے جوان بیٹوں کے جنازے اٹھائے ہیں بلکہ دنیا میں ظالموں کیخلاف مصروف مجاہدین کی حمایت میں ہمیشہ آواز بھی بلند کی ہے، جس طرح پوری دنیا نے شہید قدس جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے موقع پر سری نگر کی وادی کو ظالموں اور جابروں کیخلاف بلند ہوتی نعروں کی گونج سنی، اسی طرح یوم القدس بھی پورے زور و شور سے منایا جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر شاہ شہیداں امام حسین علیہ السلام کی یاد میں عزاداری ہر صورت میں جاری رہتی ہے۔ یزید وقت امریکہ و اسرائیل کیخلاف صدائے احتجاج بھی بلند ہوتی ہے اور جارح و قابض بھارتی افواج کیخلاف بھی کشمیری مسلمان سینہ تان کر آواز حق بھی بلند کرتے ہیں۔

کشمیری عوام اور آزادی کیلئے جہاد میں مصروف عوام کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی بھارتی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہوسکی، اس پر برہان وانی شہید کی شہادت کے بعد تحریک آزادی میں عوامی عنصر کی پوری شمولیت نے مہر تصدیق ثبت کر دی تھی۔ ہر شہید کی شہادت کے بعد مجاہدین کو نیا حوصلہ اور عوام کو نئی ہمت نصیب ہوتی ہے۔ لیکن ظلم و بربریت کے ذریعے وادی کشمیر پر قابض بھارتی ایجنسیاں نئے سے نئے ہتھکنڈے آزماتی رہتی ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کیلئے پاکستان کیخلاف ہر حربہ استعمال کیا ہے۔ پاکستانی عوام کے دلوں میں وحشت و خوف بھرنے کیلئے گلی کوچوں، بازاروں، درباروں، درگاہوں، شہروں اور سرحدوں کو ناامن رکھنے کی کوشش جاری ہے۔ اسی طرح غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں پہنچنے والے نقصان سے بھی ہیمشہ بھارت کا فائدہ ہوا ہے۔

اندرونی اختلافات کو ہوا دینے کی بھارتی پالیسی ہمیشہ ناکام رہی ہے، لیکن پاکستان کیخلاف بھارتی جارحانہ اقدامات میں کوئی کمی نہیں آئی۔ جب سے کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کیلئے قانون بنایا گیا ہے، اس وقت سے وزیراعظم عمران خان یہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی پاکستانی جہاد کشمیر کی بات نہ کرے، جس سے بھارتی اداروں کو کشمیر کاز کیلئے منظم جدوجہد کرنیوالوں کو مایوسی ہوئی ہے، اس پر جماعت اسلامی سمیت مختلف جماعتوں کے رہنماوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ موجودہ حکومت کی غیر واضح کشمیر پالیسی کی وجہ سے بھارتی تدبیر کار کشمیری قیادت اور کشمیری مجاہدین کو اندرونی طور پر تقسیم کرکے ایک دفعہ پھر نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک دفعہ پھر جہاد کشمیر کیخلاف جہاد کے نام پہ ہی کام کرنیوالے بھارتی آلہ کار کا کام کر رہے ہیں۔ جیسا کہ سوات اور وزیرستان سے اٹھائی جانیوالی ٹی ٹی پی اور کالعدم لشکر جھنگوی کو بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گردی کیلئے استعمال کیا گیا۔

حال ہی میں معروف کشمیری مجاہدین کی شہادت سے تحریک آزادی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے، اس کے پیچھے واضح طور پر ان عناصر کا نام آرہا ہے جو مقبوضہ کشمیر میں داعش یعنی دولت اسلامیہ فی عراق و شام کے نام سے جہاد اور مجاہدین کشمیر کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جیسا کہ افغانستان میں دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات کے ذریعے جنگ زدہ ملک کو مسلسل بحران میں رکھا جا رہا ہے، وہاں امریکہ اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہے، اسی کے اثرات پورے خطے کے امن کو تباہ کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق جب سے افغان طالبان نے بھارت کیساتھ مذاکرات سے انکار کیا ہے، بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کیساتھ ساتھ کشمیر میں داعش اور بھارتی فوج نے گٹھ جوڑ بنا کر مجاہدین کیخلاف کارروائیاں تیز کی ہیں۔ لیکن جس طرح عراق، شام اور دوسرے مناطق میں داعش نامی ناسور کا قلع قمہ ہوا ہے، کشمیری حریت پسند بھی "را” جیسی ایجنسیوں اور داعش جیسے منافقین کا خاتمہ کرکے آزادی حاصل کرینگے۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close