مشرق وسطیہفتہ کی اہم خبریں

اسلامی مزاحمت امریکی فوجیوں کو ملک سے نکال باہر کرنے کی طاقت رکھتی ہے

شیعہ نیوز:عراق میں سرگرم اسلامی مزاحمتی گروہ "النجباء عراق” کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نصر الشمری نے ملک سے امریکہ کے جلد از جلد فوجی انخلاء پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس بارے میں کہا: "عراق میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کا مطالبہ ملک سے امریکہ کا فوری بنیادوں پر فوجی انخلاء ہے۔ ہم اپنے اس مطالبے سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس پر کوئی سودا بازی نہیں کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا: "امریکی اس وقت کم ترین خسارے سے عراق سے نکلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ انہیں اپنے دو ہزار فوجیوں کو ملک سے نکالنے کیلئے وقت اور مہلت چاہئے۔ ہماری نظر میں ان کا یہ مطالبہ محض وقت تلف کرنے کیلئے ہے۔” نصر الشمری نے کہا: "اسلامی مزاحمتی گروہوں کا مطالبہ بہت واضح ہے۔ عراق میں امریکہ کی فوجی موجودگی غیر قانونی ہے جبکہ اسلامی مزاحمتی گروہ امریکی فوجیوں کو ملک سے نکلنے پر مجبور کر دینے کی بھرپور صلاحیت اور طاقت بھی رکھتے ہیں۔”

النجباء عراق کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کا یہ بیان اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی فضائیہ نے داعش کے خلاف نبرد آزما عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کے ایک ٹھکانے کو ہوائی حملے کا نشانہ بنایا۔ اس حملے میں عام شہریوں اور بچوں سمیت کئی افراد شہید ہو گئے تھے۔ یہ حملہ شام اور عراق کی سرحد کے قریب واقع علاقے البوکمال میں انجام پایا۔ امریکی حکام نے دعوی کیا ہے کہ یہ حملہ اپنے دفاع کی خاطر انجام پایا ہے لیکن عراق کی سیاسی شخصیات اور رہنماوں نے اس امریکی موقف کو مسترد کر دیا ہے۔ اس بارے میں عراق میں اسلامی مزاحمتی گروہوں نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ انتقامی کاروائی کیلئے تیار رہے۔ عراق میں اسلامی مزاحمتی گروہوں نے ایک مشترکہ بیانیہ بھی جاری کیا ہے جس میں عراق میں امریکی کی فوجی موجودگی کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

اسلامی مزاحمتی گروہوں کے اس بیانیے میں مزید کہا گیا ہے: "آج کے بعد ہم امریکہ کے جارحانہ اور دشمنانہ اقدامات کے مقابلے میں خاموشی اختیار نہیں کریں گے۔ یہ ہماری طرف سے امریکیوں کو واضح پیغام ہے اور انہیں اسے اچھی طرح سمجھ جانا چاہئے۔ امریکی اپنے مجرمانہ اقدامات کے ذریعے بدستور اسلامی مزاحمت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہم یقینا اور حتما حشد الشعبی کے شہداء کے خون کا بدلہ امریکیوں سے لے کر رہیں گے۔ امریکی دشمن ہمارے انتقام کا تلخ ذائقہ ضرور چکھے گا۔” دوسری طرف عراق کے معروف تجزیہ کار احمد عبدالسادہ نے امریکہ کی حالیہ جارحانہ کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا: "امریکہ نے شام اور عراق کی سرحد کے قریب واقع حشد الشعبی کے ٹھکانے پر ہوائی حملہ کر کے ایک بار پھر اپنا دہشت گرد ہونے کو ثابت کر دیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا: "امریکہ ایسے دہشت گردانہ اقدامات انجام دے کر داعش کو نابود کرنے والی قوتوں سے انتقام لینا چاہتا ہے۔” اسی طرح عراقی پارلیمنٹ کے رکن احمد الاسدی نے کہا: "حشد الشعبی کے ٹھکانے پر امریکی حملہ اس مایوسی کی علامت ہے جو امریکی حکام حشد الشعبی کو عوام سے دور کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے باعث محسوس کر رہے ہیں۔”

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close