مضامین

غزہ پر اسرائیلی جارحیت اور مزاحمت فلسطین کا جواب

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

فلسطین کے علاقہ غزہ کی پٹی پر پانچ اگست کو شروع ہونے والی صہیونی جارحیت کے متعلق کچھ حقائق اس مقالہ میں بیان کئے جائیں گے۔ اسرائیل کی جانب سے پانچ اگست کو غزہ کی پٹی پر ایک ایسی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جہاں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم ”اسلامی جہاد فلسطین“کے اہم کمانڈر موجود تھے، حملہ کے نتیجہ میں ایک فلسطینی کمانڈر جام شہادت نوش کر گئے اور بعد ازاں جنین کے علاقہ میں ایک جہاد اسلامی فلسطین سے تعلق رکھنے والے کمانڈر بسام السعدی کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

غاصب صہیونی ریاست اسرائیل نے فلسطین کی اس مزاحمتی تنظیم یعنی جہاد اسلامی کے خلاف بھرپور قسم کا حملہ شروع کیا تھا جس کا ہدف جہاد اسلامی فلسطین کے زیادہ سے زیادہ کمانڈروں کو شہید کرنا اور گرفتار کرنا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اسرائیل کی کوشش تھی کہ وہ اس حملہ کے ذریعہ فلسطین کی مزاحمتی تحریکوں کو جدا جدا کر سکے اور یہی وجہ تھی کہ غاصب اسرائیل کی جانب سے غزہ اور خان یونس کے علاقوں میں مسلسل حملوں کا ہدف صرف اور صرف جہاد اسلامی فلسطین کی قیادت قرار تھی۔

حماس اور دیگر فلسطینی جہادی گروہوں کے علاقوں کو اس مرتبہ حملوں میں نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔ پہلے روز کے حملوں کے بعد اسرائیلی فوج کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ پچیس ہزار اسرائیلی ریزرو فوجی چھ اگست کو آپریشن میں شرکت کریں گے۔ اس طرح کا لب و لہجہ ظاہر کرتا تھا کہ اسرائیل اس مرتبہ نہ صرف جہاد اسلامی فلسطین کی قیادت کا خاتمہ چاہتا ہے بلکہ جن علاقوں پر حملے کئے گئے ہیں وہاں سے فیول کی سپلائی کو بھی معطل کرنا چاہتا ہے۔

غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے حالیہ ان حملوں میں چند ایک اہم مقاصد جو ابھر کر سامنے آئے ہیں ان میں پہلا جہاد اسلامی فلسطین کو ختم کرنا اور قیادت کی بڑے پیمانہ پر گرفتاری۔ دوسرا اہم پہلو فلسطین کی تمام سیاسی ومزاحمتی تحریکوں کے مابین ایک تفریق کی لکیر بنانا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ حملہ صرف ایک تنظیم کے خلاف ہے تا کہ دوسری تنظیمیں اس میں شریک نہ ہوں۔تیسری اہم بات یہ ہے کہ غزہ کی محصور عوام کو مزید شکنجہ میں ڈال کر مشکلات بڑھانا تھا۔

اسرائیل کی جانب سے آخر یہ حملہ کیوں کیا گیا تھا یہ وجوہات جاننا بھی ضروری ہیں۔ گذشتہ کچھ عرصہ میں فلسطین کے مغربی کنارے اور سنہ48کے فلسطین علاقوں میں عوامی مزاحمت نے غاصب صہیونیوں کی مشکلات میں اضافہ کررکھا ہے۔اسی تسلسل میں حماس اور جہاد اسلامی کی مشترکہ کاروائیوں میں ایک صہیونی فوجی اور چند اہم صہیونی عہدیداروں کو گرفتار کیا گیا ہے جو فلسطینی مزاحمت کی حراست میں موجود ہیں۔

ان کے بارے میں پہلے پہل اسرائیل نے یہ موقف اپنا رکھا تھا کہ نہ تو گرفتار ہونے والے کوئی صہیونی فوجی ہے اور نہ کوئی عہدیدار ہیں بلکہ وہ سب اسرائیل کی شہریت رکھنے والے عام شہری ہیں۔اس کے جواب میں فلسطینی مزاحمت کی جانب سے چند روز قبل سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل کی گئی تھیں جس میں گرفتار شدگان اپنا تعارف اور عہدے اور صہیونی فوج سے تعلق بتاتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔حقیقت میں اسرائیل ان تمام معاملات کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہوا اور نتیجہ میں جہاد اسلامی فلسطین کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا۔

حالیہ اسرائیلی جارحیت میں تقریبا پچاس فلسطینی شہید ہوئے ہیں جن میں دو درجن سے زائد معصوم بچے ہیں، ایک پانچ سالہ بچی بھی شامل ہے جبکہ بقیہ شہداء میں خواتین اور بزرگوں کی تعداد شامل ہے۔ اسی طرح سیکڑوں زخمیوں میں بھی بڑی تعداد بچوں اور نوجوانوں سمیت خواتین کی ہے جو صہیونیوں کی مسلسل تین روزہ جارحیت کا نشانہ بنتے رہے۔

اسرائیل کی حالیہ جارحیت اور حملوں کے جواب میں فلسطینی مزاحمت نے صہیونیوں کی تمام تر منصوبہ بندی کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔ اسرائیل چاہتا تھا کہ اس حملہ میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے درمیا ن اختلافات ایجاد کرے لیکن برعکس فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے پہلے دن سے جہاد اسلامی فلسطین کی پشت پر متحد ہو کر صہیونیوں کے تمام ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

اسی طرح اسرائیل یہ سمجھتا تھا کہ اس بڑی جارحیت میں فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملے گا لیکن اس کے برعکس جہاد اسلامی فلسطین نے غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کو منہ توڑ جواب دیا اور صہیونیوں کے ٹھکانوں کو ایک سو سے زائد راکٹوں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں کئی ایک صہیونی آباد کار عمارتیں تباہ ہو گئیں اور پانچ سو کے لگ بھگ صہیونیوں کو بے گھر ہونا پڑا۔

صہیونی ریاست اسرائیل کے حملوں کے جواب میں جہاد اسلامی فلسطین نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دوٹوک اعلان کیا اسرائیل اگر فلسطینی شہری آبادیوں کو نشانہ بنائے گا تو فلسطینی مزاحمت بھی صہیونیوں کے لئے کوئی جائے امان نہیں رکھیں گے۔ فلسطینیوں کی پائیدار استقامت کے نتیجہ میں اسرائیل نے دوسرے روز ہی جنگ بندی کی شرائط رکھتے ہوئے جنگ بند کرنے کی اپیل کی جس پر جہاد اسلامی فلسطین نے تمام شرائط کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اسرائیل جب تک جنگ چاہتا ہے فلسطینی مزاحمت اس کا جواب دے گی۔

خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے نتیجہ میں جہاں فلسطینی مزاحمتی گروہوں کا اتحاد مزید پختہ ہوا ہے وہاں فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی دفاع کی صلاحیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جہاد اسلامی فلسطین کے دفاعی یونٹ نے اسرائیل کے ساتھ جاری تین روزہ جنگ کو ”معرکہ وحدۃ الساحات“ کا نام دیا تھا یعنی تمام میدانوں اور اکائیوں کو جوڑ نے اور متحد کرنے والا معرکہ۔

فلسطین کی تمام مزاحمتی تنظیمیں بشمول حماس، جہاد اسلامی، القسام، القدس بریگیڈ اور دیگر سب کے سب ایک ہی نقطہ پر متفق تھے کہ غاصب صہیونی دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔ اسی طرح فلسطین سے باہر لبنان میں حزب اللہ کی قیادت نے بھی جہاد اسلامی فلسطین کے سربراہ زیاد نخالہ کو یقین دہانی کروائی کہ اگر ضرورت پڑی تو حزب اللہ لبنان سے بھی غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کرے گی، اسی طرح یمن میں موجود انصار اللہ کے سربراہ عبدالملک حوثی نے جنگ کے پہلے روز اپنے ہزاروں یمنی جنگجوؤں کو فلسطین کا دفاع کرنے کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا تھا۔ان تمام باتوں سے ثابت ہوا کہ فلسطین مسلم امہ کے مابین ایک مرکز و محور قرار ہے کہ جس کا دفاع ہر مسلمان پر فرض ہے۔

جہاں ایک طرف فلسطین کی حمایت کرنے والے اس جنگ میں متحد و متفق نظر آئے وہاں فلسطین سے خیانت کرنے والے مسلم عرب ریاستوں کا چہرہ بھی مزید بے نقاب او ر سیاہ تر ہو گیا کہ جنہوں نے جھوٹے انداز میں بھی اسرائیل کی مذمت کرنا گوارا نہ کی۔مغربی ممالک کی تو بات ہی مت کیجئے کہ ہمیشہ مغرب غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کی پشت پناہی کرتا آیا ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر کب تک غاصب اسرائیل فلسطین کے مظلوم اور نہتے عوام کو قتل و غارت کا نشانہ بناتا رہے گا؟ کب تک عالمی برادری اور مغربی حکومتیں اسرائیل کی پشت پناہی کریں گی؟ فلسطینی مزاحمت اب روز بروز طاقت ور ہو رہی ہے اور غاصب اسرائیل کمزور سے کمزور تر ہو رہا ہے اور عنقریب اللہ کا وعدہ مکمل ہونے والا ہے اور مظلوموں کے پاؤ ں تلے غاصب اسرائیل کو رونداجائے گا، وہ دن اب دور نہیں اور یہ دن موجودہ نسل اور امت ضرور مشاہدہ کرے گی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button