انٹرویوہفتہ کی اہم خبریں

مسئلہ کشمیر، ایران نے پاکستان اور سعودی عرب نے مودی کا ساتھ دیا

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) علامہ سید عابد حسین الحسینی صاحب کیساتھ ملکی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں لیا گیاایک اہم انٹرویو قارئین کے پیش خدمت ہے۔

سوال : علامہ صاحب سب سے پہلے ہمارے قارئین کو ضلع کرم کے موجودہ حالات کے حوالے سے آگاہ کیجیئے گا۔؟
علامہ سید عابد حسین: کرم کے حالات کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کب بدل جائیں، تاہم الحمد اللہ امن و امان کے حوالے سے صورتحال ماضی کے مقابلہ میں فی الحال بہتر ہے، چند دن قبل چند شرپسندوں نے صدہ میں گھیراو جلاو وغیرہ کرکے حالات خراب کرنے کی کوشش تو کی تھی، انہوں نے ایک ذاتی دشمنی کے واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی بھرپور کوشش کی تھی، لیکن وہ ناکام رہے۔

سوال : پاراچنار پاکستان کے بارڈر پر واقع اہم علاقہ ہے، خبریں یہ آرہی ہیں کہ داعش کو شام اور عراق سے شکست کے بعد افغانستان لایا جا رہا ہے، کیا یہ اس علاقہ اور پاکستان بھر کیلئے خطرے کی بات تو نہیں۔؟
علامہ سید عابد حسین: ہم نے تو اس کی نشاندہی بہت پہلے کی تھی، کرم اور پاکستان بھر کو افغان سرحد سے داعش کا خطرہ موجود ہے، داعش کو جس مقصد کیلئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بنایا تھا، اس مقصد میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔

سوال : امریکہ کی جانب سے دنیا کے نمبر ایک دہشتگرد ابوبکر البغدادی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، آپ اس دعوے کو حقیقت سے کس حد تک قریب سمجھتے ہیں۔؟
علامہ سید عابد حسین: یہ تو خود امریکہ اور آل سعود کی پیداوار ہے، امریکہ کا ماضی یہی رہا ہے کہ وہ پہلے ایسے لوگوں کو خود پیدا کرتا ہے، پھر ان سے کام لیتا ہے اور پھر خود ہی مار دیتا ہے، اگر مار بھی دیا ہے تو یہ کوئی اہمیت کی بات نہیں، امریکہ دنیا کو بے وقوف بناتا ہے کہ میں نے اتنا بڑا دہشتگرد مار دیا۔ بغدادی کا مرنا یا نہ مرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

سوال : ملکی سطح پر اسوقت مولانا فضل الرحمان صاحب کا آزادی مارچ میڈیا پر چھایا ہوا ہے، آپ مولانا صاحب کے اس مارچ کو کیسے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ سید عابد حسین: پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہوتا ہے، خود عمران خان بھی کئی ماہ تک دھرنا دیئے بیٹھے رہے تھے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے عزائم خطرناک لگتے ہیں، پاکستان میں کئی مسائل ہیں، امن و امان کا مسئلہ ہے، مہنگائی کا طوفان ہے، نوجوانوں کو نوکریاں نہیں مل رہیں، عالمی حوالے سے ہمارے لئے مسائل ہیں، پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں نہیں چل رہی، لیکن حیرانگی کی بات ہے کہ مولانا صاحب کو یہ مسائل نظر نہیں آرہے، اس کے علاوہ کشمیر کا مسئلہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے، لیکن مولانا صاحب کے احتجاج میں صرف یہی بات ہے کہ وہ اپنے آپ کو شائد اسمبلی سے باہر برداشت نہیں کر پا رہے۔

سوال : آپ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھایا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عمران خان پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اس طرح استوار نہیں کرسکے، جسطرح کہ کرنے کی ضرورت تھی۔؟
علامہ سید عابد حسین: بالکل ایسا ہی ہے۔ عمران خان نے تو اس حوالے سے قوم کو بہت مایوس کیا ہے، جب وہ اقتدار میں نہیں آئے تھے تو تب امریکی مداخلت کے خاتمے کی بات کرتے تھے، سعودی عرب اور ایران کیساتھ برابری کے تعلقات کی بات کرتے تھے، لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ عمران خان تو سعودی عرب کی گود میں اس طرح جا بیٹھے کہ سب کچھ بھول گئے۔ ایران نے کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کا کھل کر ساتھ دیا، عرب امارات اور سعودی عرب نے تو مودی کا ساتھ دیا، لیکن بجائے یہ کہ ہم ایران کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے، ہمارے حکمران تو سعودی عرب کو کشمیر کے حوالے سے کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں رکھتے۔ ان عربوں نے مودی کو ایوارڈ دیئے اور ہمارے حکمران ان کے ڈرائیور بننا پسند کرتے ہیں۔

سوال : عمران خان نے ایران اور سعودی عرب کے مابین ثالثی کیلئے کردار ادا کرنے کی پیشکش تو کی ہے۔؟
علامہ سید عابد حسین: اگر یہ پیشکش خلوص نیت پر مبنی ہو تو اچھی بات ہے، لیکن یہ باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ عمران خان یہ سب کچھ امریکہ کے کہنے پر کر رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ سعودی قیادت یمن کی جنگ سے خود کو نکالنے کیلئے ایران کیساتھ بیٹھنا چاہے۔ یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی شکست کھا رہے ہیں، ان کو معلوم ہوگیا ہے کہ حوثییوں کو اتنی آسانی سے شکست نہیں دی جاسکتی۔ سعودی تو وہی کریں گے جو امریکہ انہیں کہے گا۔

سوال : شام کا مستقبل کیا دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ سید عابد حسین: شام میں بشار الاسد کی حکومت مضبوط ہو رہی ہے، ترکی کی جانب سے گڑبڑ ہو رہی ہے، لیکن جلد اسے بھی امریکہ اور اسرائیل کی طرح عقل آجائے گی، شام میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو بری طرح شکست ہوئی ہے۔ شامی عوام مقاومتی قوتوں کیساتھ کھڑے ہیں، دن بدن شامی حکومت مستحکم ہو رہی ہے۔

سوال : کیا سعودی عرب یمن جنگ سے جان چھڑانے کی کوششوں میں ہے۔؟
علامہ سید عابد حسین: سعودی عرب تو یہ جنگ ہار چکا ہے، حوثیوں نے یہ جنگ جیت لی ہے، سعودی عرب اس جنگ سے اب عزت کا راستہ تلاش کرنا چاہ رہا ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس جنگ کو مذاکرات پر ختم کیا جائے، اسی وجہ سے ایران کیساتھ قریب ہونا چاہ رہا ہے۔

سوال : عراق میں اربعین سے پہلے اور بعد میں دوبارہ احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے ہیں، انکے پیچھے کسی بیرونی قوت کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔؟
علامہ سید عابد حسین: ظاہری بات ہے کہ امریکہ کو یہ سب کچھ ہضم نہیں ہو رہا، عراق میں داعش کا خاتمہ کسی صورت امریکہ کو قبول نہیں، وہاں جس طرح مقاومتی قوتوں نے داعش اور امریکہ کو شکست دی، اس کا بدلہ وہ اسی طرح لے سکتے ہیں، ان مظاہروں سے ثابت ہو رہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو مرجعیت کیخلاف بکواس کر رہے ہیں، ان کا ہدف اس کامیابی سے توجہ ہٹانا ہے، یہ کوشش انہوں نے اربعین کو بھی متاثر کرنے کیلئے کی تھی، لیکن ناکام رہے تھے اور اب یہاں بھی ایسا ہی ہوگا۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close