پاکستانی شیعہ خبریںہفتہ کی اہم خبریں

کوہاٹ انتظامیہ ذکر نواسہ رسول (ص) روکنے کیلئے بضد

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)

رپورٹ: ایس اے زیدی

خیبر پختونخوا میں سندھ اور پنجاب کی نسبت اہل تشیع شہریوں کی تعداد کم ہے، تاہم اس کے باوجود مختلف حکومتوں کے ادوار میں صوبائی و ضلعی انتظامیہ نے پنجاب کی مسلم لیگ نون کے دور حکومت کے برعکس یہاں شیعہ شہریوں کے ساتھ عزاداری کے مسائل کے حوالے سے کافی حد تک تعاون کیا۔ خیبر پختونخوا میں ایام محرم الحرام کے دوران مجالس و جلوس ہائے عزاداری اور علماء و ذاکرین پر پابندیاں، شیعہ شہریوں پر شیڈول فور وغیرہ پنجاب کے مقابلہ میں کم ہی رہے ہیں۔ شائد صوبائی حکومتوں اور اضلاع کی انتظامیہ کا رویہ عزاداری کے معاملات پر دہشتگردی کی وجہ سے نرم رہا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کوہاٹ شہر میں واقعہ کے ڈی اے (کوہاٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی) میں واقع الزاہرہ ہاوس نامی مکان میں بھی ذکر نواسہ رسول (ص) اور نماز پڑھنے تک کی اجازت نہیں دے رہی۔ واضح رہے کہ اس علاقہ میں سینکڑوں شیعہ گھرانے موجود ہیں اور انہوں نے حکومت سے مسجد کیلئے جگہ فراہم کرنے کا مطالبہ کئی سالوں سے کر رکھا ہے۔

دو محرم الحرام کو ضلعی انتظامیہ نے عزاداری سید الشہداء پر قدغن لگاتے ہوئے کے ڈی اے میں واقع اس مسجد و امام بارگاہ ميں مجلس عزا کے بعد رات کی تاريکی ميں اسے سیل کر دیا اور بعض عزاداروں کو بھی حراست میں لے لیا۔ ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر، ايس پی اور ڈی ايس پی کی نگرانی ميں کے ڈی اے امام بارگاہ پھر سے سيل کر ديا گیا ہے اور 12 عزاداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے، جن میں بعض کو گرفتارکرکے جرمہ جيل کوہاٹ بھيج ديا گیا۔

ضلع کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے معروف شیعہ عالم دین اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری مالیات نے اس مسئلہ پر خصوصی بات چیت کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ کے ڈی اے میں اہل تشیع کے سینکڑوں گھر ہیں، جو کہ ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی بنتی ہے، یہاں ہر گلی میں مختلف مسالک کی مساجد موجود ہیں، جن کی تعداد سینکڑوں میں بنتی ہے۔ یہاں عموماً حکومت مسجد کیلئے خود جگہ دیتی ہے، ہمارے مومنین 20 سال سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت یہاں ہمیں مسجد کیلئے جگہ فراہم کرے، تاہم حکومت اب تک غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی آئی ہے۔

علامہ اقبال بہشتی کا مزید کہنا تھا کہ جس پارٹی کی بھی صوبہ میں حکومت رہی ہے انکا یہی رویہ یہی رہا۔ اہل تشیع نے حکومت کے رویہ سے مایوس ہوکر خود یہاں زمین خرید کر ایک مکان بنایا، پھر وہاں ہی لوگ اکٹھے ہوکر نماز پڑھتے ہیں۔ گذشتہ عید الاضحیٰ کے موقع پر پولیس آئی مکان کو سیل کر دیا اور جن لوگوں نے وہاں نماز پڑھی ان پر ایف آئی آر بھی درج کی۔ محرم الحرام کے دوران یہاں عصر کے وقت درس قرآن ہوتا ہے، پھر باجماعت نماز مغرب ہوتی ہے اور پھر نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد اندر ہی خاموشی سے عزاداری ہوتی ہے۔ اب گذشتہ دنوں پھر پولیس نے کارروائی کی، چند افراد کو گرفتار کیا، مکان کو دوبارہ سیل کیا اور دو افراد کو جیل بھی بھیج دیا حالانکہ کچھ سال قبل لوگوں نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، وہاں سے باقاعدہ فیصلہ آیا اور عدالت نے کوہاٹ انتظامیہ کو آرڈر جاری کئے کہ انہیں مسجد کیلئے ان کی آبادی کے بالکل نزدیک جگہ دی جائے۔ لیکن کوہاٹ کی انتظامیہ نے ہائیکورٹ کے فیصلہ کو ہوا میں اڑا دیا اور وہ توہین عدالت کی مرتکب ہورہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ موقف یہ اپناتی ہے کہ آپ یہاں مجلس نہیں کرسکتے۔ ہمارا ان سے سوال ہے کہ کیا نماز بھی نہیں پڑھی جاسکتی۔؟ نماز عید کے موقع پر ایف آئی آر کا اندراج اس کا ثبوت ہے کہ یہ اب نماز بھی پڑھنے سے لوگوں کو روک رہے ہیں۔ ڈی پی او، ڈی سی او تو اس معاملہ میں فرنٹ پر ہیں، ان کے پیچھے کون ہے یہ معلوم نہیں۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم اوپر سے مجبور ہیں، اب معلوم نہیں اوپر کون سی خلائی مخلوق کیوجہ سے یہ مجبور ہیں۔ مقامی لوگوں نے ہر فورم سے رجوع کیا اور ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ ہمارے لوگ علاقہ ایم این اے اور وفاقی وزیر شہریار آفریدی اور ایم پی اے ضیاء اللہ کے گھروں پر بھی جاتے رہے ہیں کہ ہمارا یہ آئینی اور شرعی حق ہمیں دیا جائے، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز ایم ڈبلیو ایم خیبر پختونخوا کے سیکرٹری تحفظ عزاداری نیئر جعفری نے کوہاٹ انتظامیہ کے اس ظالمانہ اور غیر آئینی رویہ کیخلاف ایف آئی آر درج کروا دی ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button