مضامین

لاپتہ افراد کا اندھے کنویں سے خط

تحریر: توقیر ساجد کھرل

دنیا کی روشنی بہت تیز ہے۔ سب ہی نفسا نفسی میں روشنی کی تلاش میں ہیں، ہم اس روشنی سے محروم ہیں۔ زندگی کی رونقوں سے دور ہیں، ہم میں سے چند جو زندگی میں نئی اور دائمی زندگی کے متلاشی تھے، اس پر گامزن رہے۔ دنیا کی خواہشوں کو ترک کیا اور خدا سے ملاقات کو پہنچ گئے۔ کچھ منتظر ہیں، جو منتظر تھے، انہیں دنیا سے لاپتہ کر دیا گیا۔ ہم آپ کی آنکھوں سے اوجھل یہاں اندھے کنویں میں ہیں، لیکن خدا کے بہت قریب ہیں۔ امام ِدوراں سے بہت قریب۔۔ اے کاش دوستو آپ کی غفلت کا شکوہ ہمارے لبوں کا حرف ِدعا نہ ہوتا۔ ہم آپ کی نظروں میں لاپتہ ہیں، گمنام ہیں، اسیران ہیں لیکن سیدہ زہراء کی امان میں ہیں، ہم ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہیں۔۔۔

*لیکن کیا ہوا، اے دوستو آپ ہم سے لاتعلق کیوں ہیں؟*، اے دوستو! ہم تو بیواوں، بے کسوں، حق داروں اور دکھی انسانیت کی خدمت میں مگن تھے، کتنے بے کس اور بے آسرا ہماری راہ تکتے ہیں۔ *ہم تو باخدا محب وطن تھے*، ہم نے کبھی دہشت گردوں کی حمایت نہیں کی تھی، کبھی وطن دشمنوں کیلئے دل میں نرم گوشہ نہیں رکھا تھا۔ اے دوستو! یہ خاموشی کیسی ہے۔ کیا کسی چوراہے، کسی گلی نکڑ پر پر جا کر ہماری تصویریں اٹھا کر یہ سوال نہیں کیا جاسکتا کہ یہ کہاں ہیں؟ کیا یہ کوئی وجود بھی رکھتے ہیں؟ یہاں ہم سے سوال کیا جاتا ہے، آپ کون ہیں اور مولا علی کا دم بھر کیوں بھرتے ہو، راہِ حسینیت پر دم کیوں بھرتے ہو۔ یہ راہِ ولایت کیا ہے اور اس پر استقامت کا درس کیا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے آپ کا کوئی جرم نہیں، ہاں وطن کی محبت بھی تو جرم ہے نا۔۔ وطن کی محبت کا حساب تو دینا ہوگا نا۔

دوستو ہم اپنے حصہ کا وظیفہ انجام دے چکے ہیں، اگر ہم لاپتہ کر دیئے گئے ہیں تو آپ خاموش کیوں ہیں۔ *یہ خاموشی نہیں بزدلی ہے*، بے حسی ہے۔ ہم ہمیشہ شہداء کی شہادت کے بعد شرمندہ ہیں، شرمندہ ہیں، کا نوحہ سناتے رہے ہیں۔ کیا شہداء اور اسیران اس لئے قربانیاں دیتے ہیں کہ ہم فقط مرثیہ پیش کریں۔۔ صد افسوس کہ کوئی نوحہ کناں بھی نہیں ہے۔ *اے دوستو حق دوستی تو یہ تھا کہ ہماری آواز* جسے دبانے کی کوشش کی گئی تھی، ایوانوں میں گونجتی۔ آخر کیوں چند نوجوانوں کو دن کی روشنی اور چاند کی چاندنی سے محروم کر دیا گیا، آخر کیوں ہمیں زندگی کی رعنائیوں سے محروم کر دیا گیا۔ *کیا جبری طور پہ لاپتہ کرنا جرم نہیں*۔۔ ہمیں اپنوں سے جدا کرنا جرم نہیں، ہمارے ورثاء دہری اذیت کا شکار نہیں؟

کوئی ان کو ہماری خبر کیسے دے گا، قومی قیادت تو اپنی سیاست میں دن رات مصروف ہیں، انہیں اتنی فرصت کہاں ہے کہ ہمارے ورثاء کو جا کر تسلی کے دو الفاظ بول دے، کوئی ہے جو ہمارے ورثاء کی داد رسی کرے۔؟؟ *وطن کے رکھوالے تو کہتے ہیں لاپتہ افراد کے ورثاء ان کے دلوں کی دھڑکن ہیں، مگر وہاں بھی اب دل نہیں دھڑکتا*۔۔۔۔۔ اے دوستو کسی عالم، کسی شخصیت، کسی قومی شخصیت کی طرف نہ دیکھئے، ہر شخص خود میں ایک انجمن ہے، ہر شخص جو راہِ ولایت پر گامزن ہے اور راہِ شہداء کا راہی ہے، اپنے حصے کا وظیفہ انجام دے۔۔۔ اے دوستو، شہداء کے راستہ کو ترک نہ کیجئے گا، اسیران کیلئے آواز اٹھایئے، ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے۔۔۔۔
تمہارے اپنے، *لاپتہ افراد*
مقام ایک اندھا کنواں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button