پاکستانی شیعہ خبریںہفتہ کی اہم خبریں

محسن عباس کی بازیابی کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا، حلقےکی بڑی شخصیات خاموش

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مغوی محسن عباس کی بازیابی کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ سوشل میڈیا پہ مغوی محسن عباس کے والد کی وڈیو جاری ہونے کے بعد شہریوں نے اہل اقتدار، عوامی نمائندوں اور ریاستی اداروں کے سربراہوں سے مطالبہ کیا ہے کہ مغوی محسن عباس بلوچ کی بازیابی کو ممکن بنایا جائے۔

محسن عباس بلوچ کو 14 ماہ قبل ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروآ کے علاقے گھونسر سے نامعلوم افراد نے 4 نومبر 2020ء کو اغوا کیا تھا۔ تاہم چودہ ماہ گزر جانے کےباوجود محسن عباس کو تاحال بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔ اس ضمن میں حلقہ ایم پی اے مولانا لطف الرحمان، ایم این اے یعقوب شیخ، وفاقی وزیر علی امین خان گنڈہ پور اور مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر مقامی سیاسی شخصیات بھی خاموش ہیں۔

گھونسر سے تعلق رکھنے والے BA کے طالب علم محسن عباس بلوچ کو آج سے چودہ ماہ قبل سرشام گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا گیا تھا تاحال مقامی پولیس سمیت دیگر سرکاری ادارے اس کا سراغ نہیں لگا سکے ہیں اور آج چودہ ماہ گزر جانے کے بعد بھی محسن عباس کے والدین اپنے جواں سالہ بیٹے کی راہ تکنے پر مجبور ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں بڑی خبر، جعفرطیارسوسائٹی میں قتل ہونے والے مومن کے قاتل پکڑے گئے

محسن عباس کے والد غلام عباس ایک سکول کے چوکیدار ہیں اور ان کا کل ترکہ خاندانی ورثے میں ملی کل 25 کنال زرعی زمین ہے، جس پہ کاشتکاری کر کے یہ کنبہ اپنا پیٹ پالتا ہے۔ اغواء کاروں کی جانب سے 3 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک کاشتکار یہ رقم ادا کرنے سے قاصر ہے۔ مقامی پولیس سمیت دیگر سرکاری ادارے بھی تاحال محسن عباس کی کھوج لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں جبکہ عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں نے بھی اس پہ چپ سادھ رکھی ہے۔

گزشتہ دنوں مغوی محسن عباس کے والد کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پہ جاری ہوئی ہے کہ جس میں ان کے والد نے بیٹے کی بازیابی کیلئے وزیراعظم، آرمی چیف، چیف جسٹس سے اپیل کی ہے۔ اس وڈیو کے بعد سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں شدت سے یہ مطالبہ دہرایا جا رہا ہے کہ محسن عباس کو بازیاب کرایا جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button