مقالہ جاتہفتہ کی اہم خبریں

عنقریب متوقع زیادہ شدید انتقام

تحریر: عبدالباری عطوان
(چیف ایڈیٹر اخبار رای الیوم)
امت مسلمہ کے بہادر جرنیل قاسم سلیمانی کی شہادت کیوں ایک بڑا نقصان ہے، جس کا ازالہ تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے؟ رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی جانب سے شہید قاسم سلیمانی کے خون کا شدید بدلہ لینے کا وعدہ کیسے پورا ہوگا؟ اس انتقام میں تاخیر کی کیا وجہ ہے؟ شہید قاسم سلیمانی نے فلسطین کی کیا خدمت کی ہے، جو تمام مساواتیں تبدیل ہوگئی ہیں؟ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے چند دن پہلے شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کی دوسری سالگرہ کی مناسبت سے ان کے اہلخانہ سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ جو بھی اس دہشت گردانہ، مجرمانہ اقدام میں ملوث تھے، انہیں بھاری تاوان ادا کرنا پڑے گا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی کی یہ دھمکی انتہائی معنی خیز ہے۔

اس دھمکی سے معلوم ہوتا ہے کہ شہید قاسم سلیمانی کی بزدلانہ ٹارگٹ کلنگ کے چند دن بعد عراق کے شہر اربیل میں واقع امریکی فوجی اڈے اور الانبار میں واقع عین الاسد فوجی اڈے پر انجام پانے والے میزائل حملے کافی نہیں ہیں اور حتی ان فوجی اڈوں کے ختم ہو جانے اور تمام امریکی فوجیوں کے عراق سے انخلاء کی صورت میں بھی یقیناً زیادہ شدید انتقام وقوع پذیر ہونے والا ہے۔ شہید قاسم سلیمانی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے سربراہ کے عنوان سے اپنے سرکاری عہدے سے کہیں زیادہ بالاتر تھے۔ وہ رہبر معظم انقلاب اسلامی سے انتہائی درجہ قریب ہونے کے علاوہ اکثر افراد کی نظر میں ایران میں ان کے دائیں اور بائیں بازو کی حیثیت کے مالک تھے۔ وہ خطے اور دنیا میں ایران کے اسٹریٹجک کردار کے حقیقی انجینئر اور باپ تھے۔

خطے میں شہید قاسم سلیمانی کا یہ کردار لبنان، عراق، یمن اور مقبوضہ فلسطین (غزہ کی پٹی) میں غیر سرکاری موجودگی اور شام میں موجود اسلامی مزاحمتی بلاک میں فوجی موجودگی کی صورت میں انجام پا رہا تھا۔ قاسم سلیمانی وہی حقیقی کمانڈر ہیں، جو افغانستان میں امریکہ کی عظیم اور ذلت آمیز شکست کا باعث بنے ہیں۔ ہم نہیں جانتے شہید قاسم سلیمانی کے خون کا بدلہ کیسے چکایا جائے گا، لیکن یہ پیشن گوئی کرسکتے ہیں کہ آئندہ چند ماہ کے دوران پہلے مرحلے میں عراق سے تمام امریکی فوجیوں کا انخلاء اور دوسرے مرحلے میں پورے مغربی ایشیا خطے سے امریکہ کا فوجی انخلاء، ایران کی پہلی ترجیح رہے گی اور جوہری معاہدہ انجام پانے یا نہ پانے سے بھی اس پر کوئی فرق نہیں آئے گا۔

عراق میں 2500 امریکی فوجی اور امریکی اتحادی ممالک کے 1000 فوجی بدستور موجود ہیں۔ عراقی حکمرانوں کی جانب سے تمام سرکاری بیانیے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تمام امریکی فوجی عراق سے نکل کر جا چکے ہیں اور باقی بچ جانے والے فوجی صرف مشاورت اور ٹریننگ کی غرض سے موجود ہیں، محض دھوکہ دہی اور فریب کاری ہے، جس کا مقصد رائے عامہ کو منحرف کرنا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے فوجی مشورے ہیں، جن کا بہانہ بنا کر یہ 3500 امریکی اور یورپی فوجی عراق میں باقی رہنا چاہتے ہیں؟ کیا اس مشن کیلئے اتنی بڑی تعداد میں مشاورین کی ضرورت ہے؟ یہ مشاورین عراق آرمی کو کیسی مدد فراہم کریں گے؟ کیا موصل میں داعش کے دہشت گرد عناصر کے مقابلے میں عراق آرمی کی شکست اور ہتھیار پھینک کر فرار ہو جانا بھی اسی مشاورت اور ٹریننگ کا نتیجہ تھا۔؟

شہید قاسم سلیمانی کا عرب باشندوں، خاص طور پر فلسطین کے اسلامی مزاحمتی گروہوں پر بھی بہت بڑا احسان ہے، کیونکہ ان کی تمام تر استقامت اور پائیداری، فوجی ٹریننگ، میزائل اور ڈرون تیار کرنے کی ٹیکنالوجی اور غزہ کی پٹی میں زیر زمین سرنگیں کھودنے کی مہارت، شہید قاسم سلیمانی کی اسٹریٹجی اور براہ راست نظارت کا نتیجہ ہے۔ غزہ کی پٹی میں اعلیٰ سطحی اسلامی مزاحمتی کمانڈرز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شہید قاسم سلیمانی نے غزہ کی پٹی کا دورہ کیا تھا اور وہاں چند دن گزارے تھے اور اس دوران فلسطینی جہادی گروہوں کے رہنماوں خاص طور پر قسام بٹالینز کے کمانڈرز سے ملاقات بھی کی تھی۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ بتاتے ہیں کہ شہید قاسم سلیمانی نے بذات خود ان سے دمشق آنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی طرح شہید قاسم سلیمانی نے شام کے صدر بشار اسد سے بھی حماس کے ساتھ موجود اختلافات ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ فلسطینی مجاہدین کو ٹینک شکن میزائل "کورنیٹ” بردار فوجی گاڑیاں فراہم کریں۔ یاد رہے یہ فوجی گاڑیاں شام میں تیار کی جاتی ہیں اور ان میزائلوں نے جولائی 2006ء میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں اسرائیلی میرکاوا ٹینک تباہ کرنے کا اچھا تجربہ پیش کیا تھا۔ سید حسن نصراللہ نے بتایا کہ جب سے شام ساختہ کورنیٹ میزائل غزہ کی پٹی میں پہنچے ہیں، اسرائیل نے حتی ایک میٹر تک ٹینک اندر لانے کی جرات نہیں کی۔ لیکن یہ کورنیٹ میزائل غزہ کیسے پہنچے؟ اس سوال کا جواب صرف چار افراد یعنی شہید قاسم سلیمانی، بشار اسد، سید حسن نصراللہ اور محمد ضیف (کمانڈر القسام بٹالینز) ہی جانتے ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button