اہم پاکستانی خبریں

مفتی عبداللہ پر حملے میں ملوث دیوبند دہشت گرد نکلے

شیعہ نیوز: مفتی عبداللہ پہ حملہ کی حقیقت سامنے آگئی،جمشیدکوارٹرز میں سبحانیہ مسجد پرمفتی عبد اللہ پر فائرنگ کرنے والا بھی دیوبند مسلک سے تعلق رکھنے والا نکلا۔ مفتی عبد اللہ اور ڈاکٹر عادل خان پر حملے میں ایک یہ گروہ کے ملوث ہونے کی اطلاعات، پہ درپہ دیوبند علماءپر قاتلانہ حملے داخلی اختلاف کا شاخسانہ قراردیئے جارہے ہیں۔ کالعدم سپاہ صحابہ کا فرقہ وارانہ ایجنڈا ایک بار پھر ناکام ۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز کراچی کے علاقے جمشید کوارٹرز میں سبحانیہ مسجد کے پیش امام مفتی عبداللہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس میں مفتی عبد اللہ گولی لگنے سے زخمی ہوگئے تھے ۔اس حملے کے فوری بعد کالعدم سپاہ صحابہ کے سرغنہ اورنگزیب فاروقی نے بغیر کسی تاخیر کے الزام شیعہ مکتب فکر پر عائد کردیا تھا۔

موقع پر موجود افراد نے حملہ آوروں میں سے ایک شخص کو موقع پر ہی قابو کرلیا تھا جبکہ دوسرا حملہ آور فرارہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ذرائع کے مطابق گرفتار حملہ آور سے تفتیش اور مفتی عادل خان کے قاتل میں ملوث ملزمان کے خاکے کو سامنے رکھتے ہوئے پولیس حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مفتی عبد اللہ اور ڈاکٹر عادل خان پر حملے میں یہی ملزم ملوث ہے ۔جس کی شکل ہو بلکل ڈاکٹر عادل خان پر حملے میں ملوث ٹارگٹ کلر کے مشابہ ہے۔

واضح رہے کہ شہر قائد میں محرم الحرام کےآغاز سے تاحال مسلسل فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور مسلکی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کی کاروائیوں کا آغاز کردیا گیاتھا، کہا جارہاہے کہ کراچی میں مفتی عادل خان اور مفتی عبد اللہ پر حملے میں ایک ہی گروہ ملوث ہے جن کا تعلق خود بھی دیوبند مسلک سے ہے ۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ چند ہفتے قبل کراچی کے علاقے قائد آباد میں بھی کالعدم سپاہ صحابہ سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی امام مسجدمفتی سمیع الحق کو بھی زخمی حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا جس پر حملے کا الزام بھی مفتی عبد اللہ پر حملے کی طرح کالعدم سپاہ صحابہ کے سرغنہ اورنگزیب فاروقی نے شیعہ مکتب فکر پر ڈال کر اپنے مکروہ فرقہ وارانہ عزائم کی تکمیل کی کوشش تھی لیکن تحقیقات کے نتیجے میں معلوم ہواتھا کہ پر قاتلانہ حملے اسی کے ہم مسلک نوجوان نے کیا تھا جسے وہ اپنی جنسی درندگی کا نشانہ بناتا تھا۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close