مضامینہفتہ کی اہم خبریں

محرم الحرام کے حوالے سے اہم سوال و جواب(2)

امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے لئے کوفہ کا انتخاب ہی کیوں فرمایا؟

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)

تحریر و تحقیق: سیدہ ایمن نقوی

امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے لئے کوفہ کا انتخاب ہی کیوں فرمایا؟
جواب: ہمیشہ شیعہ سنی اور مستشرقین محققین کے سامنے یہ سوال رہا ہے، اور ہر کسی نے اپنی استعداد اور اپنے عقائد و مبانی کے مطابق اس کا جواب دیا ہے، کچھ امور نے مل کر اس سوال کی اہمیت دوچنداں کر دی ہے جو کہ در ج ذیل ہیں:
1۔ امام حسینؑ اپنے اس سیاسی و مسلّح قیام میں ظاہری کامیابی حاصل نہیں کر سکے اور اس کی بڑی وجہ کوفہ کو قیام کا مقام انتخاب کرنا تھا۔
2۔ اس دور کی اہم شخصیات جیسے آپ کے چچازاد بھائی
3۔ عبداللہ بن جعفر (سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے شوہر)۔ (1)
4۔ عبداللہ بن عباس ۔(2) 3۔ عبد اللہ بن مطیع (3)
5۔ مسور بن مخرمہ (4) 5۔ محمد بن حنفیہ (5)
نے آپ کو عراق (کوفہ) جانے سے روکا اور بعض نے تو یہ بھی کہا کہ کوفی پہلے آپ کے بابا اور بھائی سے بھی بے وفائی کر چکے ہیں، آپ سے بھی وفا نہیں کریں گے۔ لیکن امام علیہ السلام نے ان سب کی باتوں کو (جو کہ بعد میں درست ثابت بھی ہو گئیں) رد کرتے ہوئے اپنے عزم و جزم کو ثابت رکھا اور کوفہ کی طرف چلے آئے، یہاں اب بعض مو رخ جیسے ابن خلدون صریحاً کہتے ہیں کہ امام نے یہاں سیاسی غلطی کی (نعوذ باللہ) ۔(6)

بعض لوگوں نے اپنی گفتگو میں کوفہ کے علاوہ بعض دوسری جگہوں کا مشورہ دیا، جیسا کہ ابن عباس نے آپ سے کہا کہ اگر آپ مکہ سے خروج پر مصّر ہیں، تو پھر آپ یمن کی طرف چلے جائیں وہاں مستحکم قلعہ اور وادیاں موجود ہیں اور بڑی وسیع سر زمینیں ہیں، وہاں سے آپ اپنے داعی اور مبلغ دوسرے علاقوں کی طرف بھیج سکتے ہیں۔ (7) کیوں امامؑ نے ان دوسری جگہوں میں سے کسی کا انتخاب نہ کیا؟ اس جیسے سوالات کے مقابل غیر شیعہ افراد یعنی سنی اور مستشرقین صاف الفاظ میں امام کے علم غیب اور خطاء سے عصمت کے شیعہ عقائد کے بارے میں بحث و تجزیہ کرنے کے ساتھ اس قیام کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ نے اس طرح مسلح قیام شروع کرنے میں (نعوذ باللہ) غلطی کی، لیکن شیعہ محققین اپنے عقائد کی رو سے اس تحریک کا تجزیہ کرتے ہیں، اس بارے میں شیعہ محققین نے متعدد نظریات ذکر کئے ہیں اور ان سب کی بازگشت در ج ذیل دو نظریات کی طرف ہوتی ہے۔

پہلا نظریہ شہادت:
یہ نظریہ ذیل کے چند امور پر موقوف ہے:
1۔ آئمہ میں سے ہر ایک جب منصب امامت کی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے تو صحیفہ کھولتا ہے اور اس میں اس کی تا شہادت ذمہ داریاں لکھی ہوتی ہیں وہ انہی پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ (8)
2۔ امام حسینؑ نے جب وہ صحیفہ کھولا تو اس میں آپ کے لئے ذمہ داریاں لکھی تھیں، "قاتل فاقتل فتقتل واخرج با قوام للشہادہ لھم الا معک”۔(9) جنگ کریں اور قتل کریں پھر آپ بھی قتل کئے جائیں گے، کچھ گروہ آپ کے ساتھ شہادت کے لئے ہوں گے۔ ان کے ساتھ نکلیں اور ان کو شہادت نہیں ملے گی، صرف آپ کے ساتھ۔ بنابرین ابتدا ہی سے مشیت الٰہی امام حسینؑ کی شہادت کے بارے تھی اور آپ کے پاس اس مشیت الٰہی کو پورا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، جیسا کہ دوسری مرتبہ پھر جب آپ عراق کی طرف خروج پر آمادہ تھے پیغمبر اکرمؐ کے ذریعے خواب میں آپ کو اس وظیفہ پر تاکید کی گئی۔ جیسا کہ جب محمد بن حنفیہ نے آپ سے کوفہ جانے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے اس کے جو اب میں فرمای، نانا رسولؐ میرے خواب میں آئے تھے انہوں نے مجھے فرمایا، "یا حسین اخرج فان اللہ قد شاء ان یراک متقیلا”۔ (10)

اس نظریہ (11) کے مطابق امام حسین علیہ السلام کا عراق کی طرف سفر، شہادت کی طرف سفر تھا اور اس سفر کا مقصد اس ہدف تک پہنچنا تھا۔ حضرتؑ کو اس نتیجہ کا مکمل علم تھا، اور یہ وظیفہ امام حسینؑ کے ساتھ خاص تھا اور آپ کے علاوہ کسی دوسرے حتٰی آئمہ کے لئے بھی قابل تقلید نہیں تھا۔ لہٰذا اس میں چون و چرا کی کوئی گنجائش نہیں تھی اور یوں اس دور کی بڑی بڑی شخصیات کے روکنے کے باوجود امام کا اس راہ پر گامزن رہنے پر اصرار سمجھ میں آ جاتا ہے، کیونکہ ان کی نظر میں وہ خود ہر کسی سے زیادہ کوفیوں کی بے وفائی و غداری سے آگاہ تھے، آپ جانتے تھے کہ کوفی بالآخر آپ کو تنہا چھوڑ دیں گے، بلکہ آپ کے ساتھ جنگ کے لئے نکل آئیں گے اور آپ کو شہید کر دیں گے، اس علم کے باوجود، آپ نے کوفہ کی طرف سفر اختیار کیا تاکہ اپنی قربان گاہ میں پہنچ کر منزل شہادت پر فائز ہوں۔

اب یہ سوال کہ اس شہادت کا کیا مقصد تھا؟ اس بارے میں اس نظریہ والوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے اسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی خاطر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ خون امام کے ذریعے شجر اسلام کی آبیاری اس مقصد کا بلند ترین مرتبہ ہے۔ یہی خون اسلام کی پائیداری اور بنی امیہ و یزید کی رسوائی کا باعث بنا، جس کی وجہ سے بالآخر ستر سال بعد (۱۳۲ہجری میں) بنی امیہ کی خلافت کا سقوط ہوا، بعض دوسرے (کہ جن میں سے اکثر عوام اور ان پڑھ شیعہ ہیں) قائل ہیں کہ امام کی شہادت کا مقصد اپنے گناہ گار شیعوں کے گناہوں کا کفارہ اور ان کی شفاعت تھا، یہ وہی نظریہ ہے جو عیسائی حضرت عیسٰی علیہ السلام کے صلیب پر چڑھنے کے حوالے سے پیش کرتے ہیں۔ (12) اس نظریہ پر (روایت کے سندی اشکال کے علاوہ) کئی جہات سے اشکالات وارد ہیں جیسے:

1۔ امام حسین علیہ السلام اگر اس بارے میں خاص دستور رکھتے تھے تو اس سے امام حسینؑ اور دوسرے آئمہ عام لوگوں کے لئے اسوہ نہیں رہیں گے، جبکہ ان کا اسوہ ہونا اور شیعہ پر آئمہ معصومینؑ کی پیروی کرنا تمام ادوار میں مسلّم اصول میں سے رہا ہے۔
2۔ یہ نظریہ امام حسینؑ کے اس فرمان "لکم فی اسوہ” (13) سے متعارض ہے۔
3۔ اگرچہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں سابقہ انبیاء، پیغمبر اکرمؐ اور حضرت علی علیہ السلام و امام حسنؑ کی پیشگوئیوں کو قبول کیا جا سکتا ہے اور خود امام حسین علیہ السلام کا اپنی شہادت سے آگاہ ہونا بھی ان کے کلام سے سمجھتا جا سکتا ہے، لیکن آپ کے کسی کلام سے یہ استفادہ نہیں ہوتا کہ امامؑ کے قیام کا مقصد شہادت ہو بلکہ اس قیام سے آپ کا ہدف کیا تھا یہ آپ کی اپنی گفتگو سے سمجھا جانا چاہیئے اور اس بارے میں سب سے واضح ترین آپ کی وہ گفتگو ہے، جو آپ نے اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کو وصیت کرتے ہوئی فرمائی (13۔14۔15)

3۔ اگرچہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں سابقہ انبیاء، پیغمبر اکرمؐ اور حضرت علی علیہ السلام و امام حسنؑ کی پیشگوئیوں کو قبول کیا جا سکتا ہے اور خود امام حسین علیہ السلام کا اپنی شہادت سے آگاہ ہونا بھی ان کے کلام سے سمجھتا جا سکتا ہے، لیکن آپ کے کسی کلام سے یہ استفادہ نہیں ہوتا کہ امامؑ کے قیام کا مقصد شہادت ہو، بلکہ اس قیام سے آپ کا ہدف کیا تھا یہ آپ کی اپنی گفتگو سے سمجھا جانا چاہیئے اور اس بارے میں سب سے واضح ترین آپ کی وہ گفتگو ہے جو آپ نے اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کو وصیت کرتے ہوئے فرمائی۔ جس میں آپ نے فرمایا: "… وانما خرجت لطلب الاصلاح فی امۃ جدی ارید ان آمر بالمعروف وانھی عن المنکر واسیر بسیرۃ جدی و ابی علی ابن ابی طالب” ۔(۱۴) اس عبارت میں سید الشہداء نے اپنے قیام و نہضت کے تین ہدف و مقصد ذکر کئے ہیں، جو کہ طلب اصلاح ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، اور سیرت رسول خدا اور سیرت علی مرتضیٰ پر عمل ہیں اور آپ نے شہادت کو ہدف کے طور ذکر نہیں فرمایا،

دوسرا نظریہ اسلامی حکومت کی تشکیل:
بعض کتابوں میں لکھا ہے (۱۵) کہ یہ نظریہ ابتداء میں تشیع کے درمیان سید مرتضٰی علم الھدٰی (۴۳۴۔ ۳۵۵ھ ) کی عبارتوں میں صریحاً نظر آتا ہے۔ آپ سے جب امام کے کوفہ کی طرف جانے کے بارے سوال ہوا تو آپ نے کہا… ہمارے آقا امام حسین علیہ السلام حکومت حاصل کرنے کے لئے کوفہ کی طرف نہیں گئے، مگر اس کے بعد کہ قوم کی طرف سے عہد و پیمان حاصل ہو گئے اور آپ کو کامیابی کا اطمینان ہو گیا۔ (۱۶) سید مر تضٰی کے بعد اس نظریہ کے قائل تشیع میں زیادہ نظر نہیں آتے، بلکہ بزرگ علماء جیسے شیخ طوسی، سید ابن طاؤس، علامہ مجلسی اور دوسرے بڑے بڑے علماء نے اسے در خوراعتناء نہ سمجھا، بلکہ بعض نے تو اس کی سخت مخالفت بھی کی۔ (۱۷) موجودہ دور میں بھی بعض لکھنے والے اس نظریہ کو زندہ کرنا چاہتے ہیں، اس خاطر کہ اہل سنت اور مستشرقین کے اعتراضات کا جواب تاریخی تجزیوں کے ذریعے دیا جا سکے۔ اس نظریئے کو اپنے زمانے میں اس دور کی علمی محافل میں طاری فضا کی وجہ سے علماء کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ شہید مطہری اور ڈاکٹر شریعتی جیسی شخصیات نے بھی اس نظریہ کو قبول نہ کیا۔ (۱۸)

اس نظریہ کا اہم اشکال امام علیہ السلام کے علم غیب سے غفلت ہے، البتہ اصل نظریہ کہ امام حسین علیہ السلام کی تحریک کا مقصد اسلامی حکومت کی تشکیل تھا اور یہ مقصد یزید کے خلاف قیام اور غاصبوں کی رسوائی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا تھا، امام خمینی جیسی شخصیات کا مورد تائید تھا، امام خمینیؒ نے کئی جگہوں پر اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور دینی صالح حکومت کے قیام کی کوشش کو امام حسینؑ کے قیام کے مقاصد میں سے ایک مقصد شمار کیا ہے جیسا کہ (الف) ۱۳۵۰ہجری شمسی میں آپ نے نجف اشرف میں اپنی ایک تقریر کے دوران فرمایا:
امام حسینؑ نے مسلم بن عقیل کو اس لئے بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو بیعت کی دعوت دیں اور اسلامی حکومت تشکیل دے کر فاسد حکومت کا خاتمہ کر دیں۔ (۱۹) (ب)۔ سید الشہداء مکہ تشریف لائے اور پھر مکہ سے اس حال میں نکلنا خود ایک بہت بڑا سیاسی قدم تھا، امام حسینؑ کے تمام اقدامات سیاسی تھے، اسلامی سیاسی تھے اور اسلامی سیاسی قدم یہ تھا کہ بنی امیہ کو نابود کردیں، اگر امام حسینؑ کا یہ اقدام نہ ہوتا تو اسلام پامال ہو چکا ہوتا۔ (۲۰)

ج)۔ امام حسین علیہ السلام تشریف لائے حکومت بھی لینا چاہتے تھے، بلکہ آنے کا مقصد ہی یہی تھا اور یہ ایک فخر ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سید الشہداء حکومت کے لئے نہیں آئے تھے۔ (غلطی پر ہیں) امام حکومت کے لئے تشریف لائے تھے۔ اس لئے کہ حکومت سید الشہداء جیسے امام کے ہاتھ میں ہو، اور ان کے ہاتھوں میں ہو جو سید الشہداء کے شیعہ ہوں۔(۲۱) اس مسئلہ کے اثبات کے لئے درج ذیل دلیلوں سے استفادہ کر سکتے ہیں:
1۔ سب سے اہم دلیل سید الشہداء کے ارشادات گرامی ہیں۔ مدینہ سے نکلتے وقت آپ نے اپنے قیام کے تین اہداف و مقاصد ذکر فرمائے۔ (۲۲)
1۔ اصلاح،۲۳) 2۔ امر بالمعروف، ۲۴) 3۔ سیرہ رسولؐ و سیرۃ علی پر عمل۔
واضح ہے کہ بڑی اصلاح بغیر تشکیل حکومت کے ممکن نہیں ہے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا آخری مرتبہ بھی حکومت تشکیل دیئے بغیر ممکن نہیں ہے، جب تک حاکم اسلامی مکمل قدرت و تسلط نہ رکھتا ہو، اس کے لئے اس وظیفہ پر عمل ممکن نہیں ہے، ان سے بھی بڑھ کر آپ نے اپنے نانا رسول ؐ اور بابا علیؑ کی سیرہ پر عمل کو ذکر فرمایا ہے اور یہ اشارہ ہے، ان دو ہستیوں کی حکومتی سیرۃ کی طرف، یعنی آپ ان ہستیوں کی سیرت کو جاری رکھنے کا ذکر کر کے اپنے تشکیل حکومت کے مقصد کو اجاگر فرما رہے ہیں۔

2۔ کوفہ سے آنے والے خطوط کی اکثریت اس بات پر مشتمل تھی کہ ہمارے پاس تلواریں آمادہ ہیں، لیکن ہمارے لئے امام موجود نہیں ہیں۔ اس بات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ یزیدی حکومت کو ناحق سمجھتے تھے اور امام سے یہ چاہتے تھے کہ آپ کوفہ تشریف لائیں اور امام حق کے طور پر منصب حکومت سنبھالیں، امام حسین علیہ السلام بھی کوفیوں کی اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اپنے قیام کا آغاز فرماتے ہیں، مثال کے طور پر کوفہ کے بزرگان جیسے سلیمان بن صرد خزاعی، مسیب بن نجبہ اور حبیب بن مظاہر کی طرف، "انا لیس علینا امام فاقبل لعل اللہ ان یجمعنا بک علی الحق”۔ (۲۵) ہمارے اوپر امام نہیں ہے آپ ہماری طرف تشریف لائیں امید ہے آپ کے ذریعے خداوند ہمیں حق پر جمع کر دے۔
3۔ ان خطوط کا امامؑ کی طرف سے پہلا جواب جو کہ مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجنے کے ہمراہ تھا، اس میں بھی مسئلہ امامت اور تشکیل حکومت کی طرف اشارہ ہو ا ہے۔ یہ بات قابل تو جہ ہے کہ آپ نے مسلم بن عقیل کو بھیجتے وقت ایک خط میں کوفہ والوں سے یوں ارشاد فرمایا، "و قد فھمت کل الذی افتصصتم و ذکرتم و مفالۃ جلکم انہ لیس علینا امام فاقبل اللّٰہ ان یجمعنابک علی الھدی والحق”۔ (۲۶)
تم لوگوں نے جو کچھ کہا وہ سب میں سمجھ گیا، آپ لوگوں کی باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے اوپر امام نہیں ہے، آپ آئیں ممکن ہے خدا آپ کے ذریعے ہمیں حق و ہدایت پر جمع کر دے۔ امامؑ اس خط میں اپنے کوفہ جانے کو اس بات سے مشروط کرتے ہیں کہ مسلم اس کی تائید کر دیں جو کچھ ان خطوط میں موجود ہے ۔(۲۷)

4۔ ان جوابی خطوط میں امامؑ نے جو شرائط ذکر کی ہیں، ان پر توجہ کی جائے تو یہ بھی ایک طرح سے اس نظریہ کے اثبات میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں مگر قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان عبارتوں میں بھی امامؑ نے زیادہ تر امامت کے حکومتی و انتظامی پہلو پر روشنی ڈالی ہے اور امامت کے بیان شریعت جیسے پہلوؤں کو اصلاً بیان نہیں فرمایا کہ بعد میں بعض لوگوں نے امامت کو اسی پہلو پر منحصر کردیا۔ امام پاکؑ کے سابقہ خط میں امام نے بعد والی عبارت میں فرمایا ہے، "فلعمری ما الامام الا لعامل بالکتاب والاخذ بالقسط والدائن بالحق والحابس نفسہ علی ذات اللّٰہ”۔(۲۸) مجھے میری جان کی قسم امام صرف وہی ہو سکتا ہے، جو کتاب خدا کا عالم، عدل و انصاف کا جاری کرنے والا، حق پر عمل کرنے والا اور اپنی تمام فعالیت راہ خدا میں انجام دینے والا ہو۔
5۔ جناب مسلم بن عقیل کی اکثر فعالیات جیسے لوگوں سے امام حسین علیہ السلام کی مدد کے حوالے سے اپنے عہد و پیمان پر عمل کرنے کی بیعت لینا (۳) اور بیعت کرنے والوں کے نام ایک رجسٹر میں لکھنا (جن کی تعداد ۱۲ ہزا ر سے ۱۸ ہزار تک ذکر کی گئی ہے) ۔(۲۹) سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ امامؑ کا مقصد کوفہ میں اسلامی حکومت کو تشکیل دینا تھا۔
6۔ جب کوفہ میں مسلم کے طرفداروں کی تعداد بڑھنے لگی، تو بنی امیہ کے بہی خواہوں نے جو خطوط یزید کو لکھے، ان سے بھی یہ نکتہ سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ اس طرح کی سرگرمیوں کے جاری رہنے کی صورت میں کوفہ کو ہاتھ سے جاتا ہوا دیکھ رہے تھے اور ذیل کی عبارت اس کی بہترین تصویر کشی کرتی ہے۔ (۳۰) واقعۃ الطف، ص ۱۱۲، "فان الرائد لا یکذب اھلہ وقد با یعنی من اھل الکوفۃ ثمانیۃ عشر الفاً فعجل الا قبال حین یأتیک کتابی فان الناس کلھم معک لیس لھم فی آل معاویۃ رأی ولا ھویٰ فان کان لک با لکوفہ حاجۃ فا بعث الیھا رجلاً”۔
اگر تمہیں کوفہ کی ضرورت ہے تو پھر اس کی امارت کسی مقتدر شخص کے سپرد کرو جو تمہارے حکم کو وہاں نافذ کرے اور تیرے دشمن کے خلاف تجھ جیسا عمل کرے۔

7۔ حضرت مسلم کی امام حسین کو کوفہ کے حوالے سے یہ رپورٹ بھیجنا کہ لوگ آپ کی مدد پر آمادہ ہیں جلد تشریف لائیں، جس کی بنا پر امامؑ نے کوفہ کی طرف تشریف لے جانے کا اقدام فرمایا (۳۱) یہ بھی ہمارے اس دعویٰ کی بہترین دلیل ہے، امامؑ نے راستے سے ایک خط کوفیوں کے نام لکھا اور اسے قیس بن مسھر صیداوی کے ہاتھ روانہ کیا، جس میں جناب مسلم کے خط کے ذریعے تائید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں یہ خبر دی کہ میں ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف نکل چکا ہوں اور انہیں یہ فرمایا کہ آپ لوگوں اپنی سعی و کوشش جاری رکھیں تاکہ میں کوفہ شہر میں داخل ہو سکوں۔ "فان کتاب مسلم بن عقیل جاونی یخبرنی فیہ بحسن رأیکم واجتماع ملاکم علی نصرنا والطلب یحقنا فسالت اللہ ان یحسن لنا الصنع وان یثیبکم علی ذلک اعظم الا جر وقد شخصت الیکم من مکہ یوم الثلثا لثمان مطیب من ذی الحجۃ یوم الترویۃ فاذا اقم علیکم رسولی فانکمثو ا امرکم وجدوا فانی قادم علیکم فی ایامی ھذہ”۔(۳۲) مسلم کا خط مجھے مل گیا، جس میں اس نے لکھا کہ تم لوگ ہماری مدد اور دشمن سے ہمارے حق کے لینے پر تیار ہو، میں خداوند سے تمہارے کاموں میں اچھائی اور اس پر عظیم اجر کی دعا کرتا ہوں، میں تمہاری طرف مکہ سے منگل کے دن آٹھ ذی الحجہ ترویہ کے دن نکل چکا ہوں، جب میرا قاصد تم پر وارد ہو اپنے آپ کو جلدی سے تیار کر لو اور اپنے کام میں خوب جدوجہد کرو، میں جلد ہی پہنچ جاؤں گا۔

بعض اہم اعتراضات:
اس نظریہ پر سب سے اہم دو اعتراض وارد ہوتے ہیں:
1۔ یہ نظریہ تشیع کے اس عقیدے کے خلاف ہے کہ جس میں شیعہ، آئمہ کو عالم غیب سمجھتے ہیں۔
2۔ اس نظریہ میں امام کی طرف غلطی کی نسبت دی گئی ہے، جو کہ آئمہ کی عصمت کے منافی ہے، اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اشکال وہ اہم ترین سبب ہے جس کی وجہ سے شیعہ اجتماع اس نظریئے کے خلاف ہوا ہے۔
اس اشکال کا اگر جواب دینا چاہیں تو ہمیں علم کلام کی دقیق ابحاث میں جانا پڑے گا، جیسا کہ علم غیب کی حقیقت کیا ہے، عصمت کیا ہے، اس کی حدو د کیا ہیں، تاریخی حقائق کے ساتھ اس کے تناقض کا جواب کیا ہے، لیکن ہماری گفتگو کا محور تاریخی واقعات کا تحلیل و تجزیہ ہے، لہٰذا ہم ان مباحث سے صرف نظر کرتے ہوئے یہ ضرور کہیں گے کہ علم کلام کی مبانی کے ساتھ بھی اس نظریہ کو قبول کرنے کے امکانات پائے جاتے ہیں، جیسا کہ امام خمینی کی تحلیل کی بنیاد بھی اسی طرح کی ہے، حکومت کی تشکیل ایک ذمہ داری ہے جس میں اتمام حجت، سمجھداری اور دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے، لیکن نتیجہ خدا پر ہے، جو وہ چاہے اسی پر راضی ہونا چاہیئے۔ حتٰی کہ اگر ہمیں نتیجہ کا علم ہو تب بھی یہ وظیفہ کی انجام دہی سے مانع نہیں ہو سکتا، کیونکہ جو حق کی بنیاد پر حرکت کرتا ہے اس کی شکست وقتی و ظاہری ہو گی، بالآخر تاریخ کے اوراق میں فتح اسی حق طلب تحریک ہی کی لکھی جائے گی، اشکال یہ ہوا کہ امام کا اپنے مقصد (حکومت کی تشکیل) میں کامیاب نہ ہونا اور خط لکھ کر بلانے والوں کی غداری و خیانت کا ظاہر ہونا، دلالت کرتا ہے کہ امام حسینؑ نے (نعوذباللہ) کوفیوں کے بارے غلط اندازہ لگایا اور بعض دوسرے افراد جیسے ابن عباس وغیرہ کا کہا ہوا سچ ثابت ہوا۔ اس اشکال کے جواب کے لئے امام حسینؑ کی معقول نہضت کی واقعیت پر مبنی تاریخی تحلیل کرنا ضروری ہے۔

امام حسینؑ کے قیام کی عقلی بنیادیں:
اگر کوئی سیاسی شخصیت حالات کا مکمل تجزیہ اور تحقیق کرنے کے بعد منطقی طور پر ایک فیصلہ کر لے اور پھر بعض غیر متوقع اسباب و موانع پیش آجائیں، جو اس کے فیصلوں کے سامنے رکاوٹ پیدا کر دیں، تو اس سے اس شخصیت کے فیصلوں کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا، ہم کہتے ہیں کہ اس دور میں امام حسین علیہ السلام کوفہ کے حالات کو مکمل طور پر نظر میں رکھے ہوئے تھے، معاویہ کے دور میں امام حسینؑ نے کوفیوں کو مثبت جواب نہ دیا اور ان کے تقاضوں کو رد کر دیا، (۳۳) بلکہ آپ نے اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کو بھی کوفیوں کے ان خطوط کا مثبت جواب دینے سے روک دیا۔ (۳۴) یہاں بھی آپ نے کوفہ والوں کے خطوط کے ملتے ہی ان کی طرف جانے کا فیصلہ نہیں فرما لیا، بلکہ ان کے دعووں کی سچائی اور صحت یا عدم صحت کے پرکھنے کے لئے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجا اور جب مسلم نے ایک مہینہ وہاں قیام فرما لیا اور وہاں کے حالات کو نزدیک سے دیکھ لیا اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ کوفہ کے حالات امام حسینؑ کے ورود کے لئے مناسب ہیں اور یہ بات آپ نے ایک خط میں امام علیہ السلام کو لکھ بھیجی۔ تو اس کے بعد امام پاک نے کوفہ کی جانب سفر شرو ع کیا۔ البتہ حج کے ایام میں امامؑ مکہ سے جلد نکلنا قتل کے اس احتمال کی وجہ سے تھا، جو پہلے بیان ہو چکا ہے۔ اسی اثناء میں ایک غیر متوقع کام یہ ہو ا کہ کوفہ کے گورنر نعمان بن بشیر کو معزول کر کے اس کی جگہ عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ کا گورنر بنا دیا گیا، اور یہ چیز کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھی بلکہ ظاہری حالات تو مکمل طور پر اس کے برخلاف نظر آر ہے تھے، کیونکہ یزید اور عبید اللہ بن زیاد کے تعلقات بہتر نہیں تھے۔ یزید اس پر ناراض تھا ۔(۳۵) اور اس کو بصرہ کی گورنری سے بھی معزول کرنا چاہتا تھا۔ (۳۶)

بلکہ بعض کتابوں میں آیا ہے کہ "کان یزید البغض الناس فی عبید اللہ بن زیا د”۔(۳۷) یزید، ابن زیا د کاسب سے بڑ ا دشمن تھا۔ اس کے باوجود اگر جناب مسلم اور ان کے ساتھی ابن زیاد کی طرح دھونس و دھمکی اور طمع و رشوت جیسے حربوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہوتے اور بیعت کرنے والوں کے حالات بہتر کر سکتے ہوتے اور مختلف قسم کی سیاسی، اجتماعی اور نفسیاتی چالیں چلتے جیسا کہ ابن زیاد نے یہ سب کچھ کیا تو کوفہ میں ان کی کامیابی کے امکانات بھی خاصے بڑھ جاتے۔ بلکہ اگر شریک بن اعور اور عمارہ بن عبدالسلول کے مشورے کے مطابق جناب مسلم، ہانی بن عروہ کے گھر میں ابن زیاد کو قتل کر دیتے تو بھی کوفہ کے حالات کو کنٹرول کرسکتے تھے۔(۳۸) ان سب حالات کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام، ابن عباس وغیرہ جیسے افراد سے زیادہ کوفہ کے حالات سے واقفیت رکھتے تھے، کیونکہ پہلا یہ کہ ابن عباس کی شناخت بیس سال پہلے کی تھی، یعنی حضرت علیؑ اور حضرت امام حسنؑ کے دور کے لحاظ سے تھی، جبکہ امام حسینؑ موجودہ دور کے حالات سے واقف تھے۔ دوسرا یہ کہ امام علیہ السلام کی یہ واقفیت کوفہ کے بزرگان جیسے سلیمان بن صرد اور حبیب ابن مظاہر کے خطوط سے حاصل ہوئی تھی، اس کے علاوہ خود امام کے نمائندے یعنی مسلم بن عقیل نے ان حالات کو قریب سے دیکھ کر ان کی تائید کی تھی، جبکہ ابن عباس وغیرہ کے پاس ان حالات کو قریب سے پہچاننے کے وسائل موجود نہیں تھے۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ موجودہ کوفہ کے حالات بیس سال والے کوفہ سے اس حد تک تبدیل ہو چکے تھے کہ اب کوفہ والوں میں امام حسین علیہ السلام کا ساتھ دینے والے جذبے اجاگر ہو چکے تھے، اور ان کے پیچھے ہٹ جانے یا دھوکہ دینے کا احتمال لوگوں کے ذہنوں میں بہت کم آتا تھا کیونکہ پہلا یہ کہ اسلامی دارالخلافہ کے حوالے سے وہ شام سے شکست کھا چکے تھے اور اسلامی دنیا کی مرکزیت کوفہ سے شام منتقل ہو چکی تھی اور کوفہ کو پیچھے دھکیلنے کی اموی سیاست کوفہ والوں کو اس بات پر ابھارتی تھی کہ کسی بھی طرح وہ اپنی عظمت رفتہ کو زندہ کریں۔ دوسرا یہ کہ اس دور میں اموی حکمرانوں کی کوفیوں بالخصوص شیعوں پر ہر طرح کی سختی انہیں امویوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ تیسرا یہ کہ کوفیوں کی یزید اور امام حسینؑ کے بارے میں سابقہ شناسائی بھی انہیں خلافت یزید کو قبول نہ کرنے پر مزید پختہ تر کر رہی تھی۔ یہاں یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیئے کہ مرکزی حکومت (حکومت شام) یزید کی ناتجربہ کاری اور اس کی دینی، سیاسی اور اجتماعی شخصیت کا اس کے باپ معاویہ کے ساتھ
یہاں یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیئے کہ مرکزی حکومت (حکومت شام) یزید کی ناتجربہ کاری اور اس کی دینی، سیاسی اور اجتماعی شخصیت کا اس کے باپ معاویہ کے ساتھ ناقابل مقایسہ ہونے جیسے عوامل کی وجہ سے کمزور ہو چکی تھی نیز کوفہ کی حکومت کے بھی کمزور ہونے کی وجہ سے امام حسین علیہ السلام کا کوفہ میں حکومت تشکیل دے کر مرکزی حکومت سے مقابلہ کرسکنے کے امکانات کافی حد تک روشن نظر آرہے تھے۔ لہٰذا یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ تاریخی تحلیل کے نقطہ نظر سے کوفہ کے حالات امام حسین علیہ السلام کی حیثیت، اور شام کی مرکزی حکومت کے حالات کے پیش نظر امام حسین علیہ السلام کا کوفہ کی طرف جانے کا قصد کرنا مکمل طور پر صحیح تھا، اگر غیر متوقع حالات و عوامل پیش نہ آتے تو تحریک کی ظاہری کامیابی کے امکانات بھی کافی روشن تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منابع و ماخذ:
1۔ ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج ۵، ص ۶۷
2۔ حوالہ سابق، ص ۶۶
3۔ البدایۃ والنہایۃ، ج۸ ،ص ۱۶۲
4۔ حوالہ سابق، ص۱۶۳
5۔ حوالہ سابق، ص۱۶۳
6۔ حوالہ سابق، ص۱۶۳
7۔ حوالہ سابق، ص۱۶4
8۔ اصول کافی، ج۲،ص۲۸۔۳۶
9۔ حوالہ سابق،ص ۲۸ ،حدیث ۱
10۔ لھوف، ص ۸۴
11۔ مزید تفصیلات کے لئے دیکھیں، شہید فاتح، در آئینہ اندیشہ، محمد صحتی سر درودی، ص ۲۰۵ ۔۲۳۱
12۔ شہید فاتح، ص ۲۳۹
13۔ تاریخ طبری، ج۵، ص ۴۰۳۔
14۔ بحار الاانوار، ج۴۴، ص ۳۲۹، ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج۵، ص ۲۱
15۔ شہید فاتح، ص۱۶۹۔
16۔ شہید فاتح، ص۱۷۰، منقول از تنزیہ الانبیاء، ص ۱۷۵
17۔ مخالفین کی تفصیلات کے لئے دیکھیں: شہید فاتح، ص ۱۸۴۔۱۹۰،۲۰۵۔۲۳۱
18۔ مخالفین کی تفصیلات کے لئے دیکھیں: رسول جعفریان، جریانھا و جنبش ھای مذہبی۔سیاسی ایران، ص۲۰۸۔۲۱۴
19۔ صحیفہ نور،ج۱، ص۷۴ ۱
20۔ حوالہ سابق، ج۱۸، ص ۱۳۰
21۔ صحیفۂ نور، ج۲۰،ص ۱۹۰
22۔ بحار الانوار،ج۴۴،ص ۳۲۹
23۔ وقعۃ الطف، ابی مخنف، ص ۹۲
24۔ وقعۃ الطف، ابی مخنف ص ۹۱
25۔ حوالہ سابق، فان کتب الی انہ قد اجمع رأی ملأ کم و ذوی الفضل والحجی منکم علی مثل ما قدمت علی بہ رسلکم و قرأت فی کتبکم اقدم علیکم و شیکاً ان شاء اللّٰہ۔
26۔ وقعۃ الطف، فان کتب الی انہ قد اجمع رأی ملأکم و ذوی الفضل والحجی منکم علی 27۔ مثل ما قدمت علی بہ وسلکم و قرأت فی کتبکم اقدم علیکم و شیکاً ان شاء اللہ۔20 ۔8۔ تا ریخ یعقوبی ،ج۲، ص ۲۱۵،۲۱۶
28۔ مروج الذھب، ج۳، ص ۶۴، الارشاد، شیخ مفید، ص ۳۸۳
29۔ وقعۃ الطف، ص ۱۰۱ قو یّاً ینفذ امرک و یعمل مثل عملک فی عدوّک۔(۳۰)
31۔ الارشاد، شیخ مفید، ص ۴۱۸
32۔ دینوری، الاخبار الطو ال، ص۲۰۳
33۔ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ج۸،ص۱۶۳
34۔ تاریخ طبری، ج۵، ص ۳۵۶۔۳۵۷،تا ریخ کامل، ج۲، ص ۵۳۵
35۔ ابن مسکویہ، تجارب الامم، ج۲، ص ۴۲، البدایۃ والنھایۃ، ج۸، ص ۱۵۲
36۔ سبط ابن جوزی، تذکرہ الخواص، ص ۱۳۸
37۔ الکامل فی التاریخ، ج۲، ص ۵۳۷
38۔ الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۵۴۵

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close